افسانہ کی فہرست

حساب کتاب

آخری جلسہ ( آندرے گروشینکو )

محبت یوں نہیں ہوتی

چھوٹی سی نیکی

طاقت کا امتحان

عورت اور ماں

آن زبان اور جان

آئینے میں

خبر ہونے تک

روپ

جال

الجھن

ماسی گُل بانو

چڑیل

ماں کی بدعا

کاویری

پھلوا

ہڈیوں کے الفاظ

پگڑی

کمّی بھائی

شریکا

تابوت

غریب ماں کا دکھ

جسے اللہ توفیق دے

شیطان لمحہ

جنگی قبرستان

آتشی مخلوق

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی (آخری حصہ )

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی (حصہ اول)

بازار، طوائف اور کنڈوم ( حصہ اول)

بازار، طوائف اور کنڈوم (آخری حصہ )

عالاں

چڑیل

رپورٹ پٹواری مفصل ہے

بڑی امی

سوتیلا آدمی

جھکی جھکی آنکھیں

نفرت

جنتی جوڑا

ماسٹر اور ٹیچر

میں ایک میاں ہوں

نصیبوں والیاں ….. ( آخری قسط )

نصیبوں والیاں …..( قسط 1 )

نیچی جگہ کا پانی

خط بنام جاں نثار اختر

چیخ

لاجونتی

ذکواۃ

اترن ۔۔۔ واجدہ تبسم

ذرا ہور اوپر ۔۔۔۔ واجدہ تبسم

نوراں کنجری

منصوبہ بندی

''برا کہانی کار ''

پہلی نظر

''تاریخ کا جنم''

''شہرذات'' 

ڈھائی گز کمبل کا خدا

انجام ڈنڈے کا

اُس کا پتی

انور ظہیر رہبر ، برلن جرمنی

جنتی جہنمی

''خاموش ''

صحبت

''ڈارلنگ ''

'' گناہ گار ''

ہاسٹل میں پڑنا

میری امی

ستم ظریفی

''سوگندھی ''

مما مارشا

عورت ذات

''ادھورا پن ''

''گہرے گھاو ''

’’سہمے کیوں ہو انکُش!‘‘۔

عشقیہ کہانی

''پورے آسمان کے برابر کہکشاں ''

''لباس''

غیرت

''مشرق ''

'' بگڑے چہرے ''

یہ ہے میرا پاکستان

ادھوری کہانی

اگر آئینہ نہ ہوتا؟

مولبی صاحب

مقدر

اصلی زیور

بادشاہ کی نیند

سجدہ

پانی کا درخت

پانی

ادھوری کہانی

کبھی کے دن بڑے!

اگر آئینہ نہ ہوتا

بدصورتی

جولیا کا ہیرو

مقدر

بڑی امی

تمھیں کیسے کہوں کہ جیتے رہو

حیا گریز

گبریئل گارسیا مارکیز اور میری نانی

کچی عمر کا افسانہ

صاحب کی وضاحت

کھلادل خالی ہاتھ

جنگلی لڑکی

سبز سینڈل

بڑھاپا نرا سیاپا

حبیب روسیاہ

کرائے کا مکان

الو کا پٹھہ

تتلیاں

ٹھہری ہوئی یاد

پہلا پتھر

اس کی بیوی

حامد کا بچہ

غرور

معدوم

لُٹی محفلوں کی دھول

تیرے عشق نے سب بل دیے نکال

بوجھ

رام کھلاون

کتاب مقدس

امتحان

عورت ذات

محسن محلہ

یادِ ماضی ’’شاد‘‘ ہے یا رب!

ہر دن نیا دن !

انار کلی

میں قتل کرنا چاہتا ہوں

میری حیرت نہیں جاتی!

کالے جوتے

میرا بیٹا ۔ سجاد حیدر خاں

تارڑ صاحب آلو بخارے

سودا بیچنے والی

محلول

ہنس مکھ

دستاویز

ماریا

تہذیب کا کردار

نیا قانون

چنگاری

میبل اور میں

میرا اور اس کا انتقام

دو مسافر

بقا کی جنگ

مدھم چراغ

اس کی بیوی

شکوہ شکایت

کافی

موسم کی شرارت

الاؤ

مقروض

ڈارلنگ

روپہلا عشق فسانہ ہے

سہیل کی سالگرہ

پیالہ

سوکھے کیکر

سویرے کل آنکھ جو میری کھلی

زندگی خوبصورت ہے

جھمکے

وہ دس روپے

کتے

بھوک

انجام بخیر

دست زلیخا

تکیہ کلام

سینما کا عشق

آنکھوں دیکھی کانوں سنی

عطیہ فیضی

آخری خواہش

پھولوں کی سازش

قہقہہ

چاند کا سفر

سوا سیر گیہوں

لاجونتی

جلا وطن

بٹوے میں پڑا خط

تین میں نہ تیرہ میں

کابُلی والا

توبہ شکن

تین موٹی عورتیں

نیا موڑ

چنوں کا لفافہ

خود سے بیگانہ

بھنگن

گل رخے

بانجھ

جاؤ لوٹ جاؤ!

دست شناس

مار

انتہاکاعشق

''دھنک رنگ زندگی''

نوحہ گر۔۔۔۔۔

"ہانکاکرنےوالے ''

مجبوری

امتحان

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں

بازگشت

آنکھ کا شہتیر

1919 کی ایک بات

سپلیمنٹری کارڈ

تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمے کا بندھن

زندگی …قتل گاہ

بستی والے

سپیدہٴ سحر

تنہا راہیں

یہ لگاؤ ہے

محبت کا نیلا رنگ

چل دیے اس راہ

برف کی سِل

وہ لڑکی

نمک

گوندنی

کلیجہ چیر کے رکھ دیا

شوشو

خونی تھوک

بوتل کا جن

ایک دن

انکل انیس

اب اور تب ۔ ۔ ۔

دادی اماں

پکاسو کی بیوہ

گلابی ربن

عالیہ !!!!

ستارہ اور سفر

تیسرا پاکستان

دستک

رائٹنگ ٹیبل

چلتے ہو تو چین کو چلیے

فقیرنی

شکوہ

خاکستر افسر

جو کیا سو پایا

آتش، بارود، دھواں اور زندگی

منزل منزل

مفاد اپنا اپنا

کاش میں بیٹی نہ ہوتی

ٹوٹا ہوا دل

دوستی

بے نام سی زندگی ۔ آخری حصہ

انسان شناس

اندر کا رنگ

اِک تیرے آنے سے

آرزو تھی اُسے پانے کی ۔ حصہ دوم

آرزو تھی اُسے پانے کی ۔ حصہ اول

احسان اتنا سا کر دے

طاقت کا امتحان

اللہ دتہ

ٹھنڈا گوشت

ٹوبہ ٹیک سنگھ

سویرے جو کل میری آنکھ کھلی

اندھا فرشتہ

بے نام سی زندگی ۔ حصہ سوم

کاش

تنہائی

دھواں

جینے کی راہ

اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا

بے نام سی زندگی ۔ حصہ دوم

پانچ منٹ

بے نام سی زندگی ۔ حصہ اول

قیمتی

آج بھی کچھ نہیں پکایا؟

انسان شناس

عزم کی داستان

یار من بیا

حسن پاگل کردیتا ہے

ہاتھ کی صفائی –

یہ کوٹھے والیاں –

بات تو کچھ بھی نہیں تھی

ستاروں سے آگے

شکوہ شکایت

مٹی کی مونا لیزا

ایک ستم اور میری جاں

لوہے کا کمر بند

آنندی

دھواں اور ریل کی پٹری

شام ڈھل گئی اس پار

لحاف

مہا لکشمی کا پل

کھدّر کا کفن

آخری کوشش

حرام جادی

گڈریا

گنڈاسا

لانگ ویک اینڈ

ادرک کا سواد

صدیوں نے سزا پائی۔۔۔

اپنے دُکھ مجھے دے دو

کالی شلوار

مردم گزیدہ

پرمیشر سنگھ

بلاؤز ...........

گرل فرینڈ۔۔۔۔۔۔

یہ لگاؤ ہے ۔۔۔۔۔

تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گستاخ محبت

کچرا بابا

تعویذ

‘‘بیمار ماں’’

کھول دو

اسیر خواب

الٹی شلوار

اوور کوٹ

"حصارِ شب"

میں لوٹا نہیں ہوں!!!

عروسہ کی ‘‘گڑیا کا گھر’

تنہا راہیں!!!

ایک زاہدہ ایک فاحشہ

میرا نام رادھا ہے.....

کفن

آپا

ماں جی

عورت بے وفا کبھی نہیں ہوتی۔۔۔

آنکھوں اور عقل پر پڑا پردہ

آخری کوشش

ننھے ہاتھ

وہ سانولی لڑکی

شہرِبُتاں ..

ایم اے پاس بلی

ہڈیوں کے الفاظ( . )

ہڈیوں کے الفاظ

واقعہ قریب 30 سال پہلے کا ہے۔ میں پالی مکیم پور کے پرائمری اسکول میں سوتیلے بھائی روپ سنگھ کے ساتھ پڑھنے جانے لگا تھا۔

روپ سنگھ مجھ سے ڈیڑھدو سال بڑا تھا۔ لیکن ہم دونوں کا داخلہ ایک ساتھ ایک ہی کلاس میں کیا گیا تھا۔ روپ سنگھ پہلی کتاب کے حرف بھی یاد نہیں کر پایا۔ اس کا دھیان پڑھائی سے زیادہ اسکول کی باہری چیزوں میں رہتا۔

روپ سنگھ کا اسکول میں اکھڑتے جانا اور میرے جمے رہنے کا انجام میرے لیے بھی اچھا نہیں ہوا۔استاد گاؤں کے ہی رہنے والے تھے۔ پتا بھکاری لال اور ان کے بھائیوں کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ راستے سے گزرتے ہوئے بھکاری لال کے یہ پوچھے جانے پر کہ  ’’ماس صاحب ہمارے بچے کیسے چل رہے ہیں ؟‘‘ کے جواب میں انھوں نے صاف جواب دیا ’’سنو بھائی بھکاری لال ، سچی بات تو یہ ہے کہ تمھارا یہ لڑکا تو پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا اور نہ ہی محنت کرتا ہے۔ چھ ساتھ مہینے میں اسے پورے حروف تک یاد نہیں ہو پائے۔ وہ اسکول سے زیادہ وقت غائب رہتا ہے۔‘‘

میری ماں بھکاری لال کی دوسری بیوی تھی اور چھوٹے لال اور ڈال چند کنوارے تھے۔ان میں چھوٹے لال تو ساری زندگی کنوارے ہی رہے۔ اس دن ماسٹر جی کے بیانات نے گھر میں حالات خراب کر دیے۔ تینوں بھائیوں کو کھانے پینے کی فکر سے زیادہ اس بات کی فکر نے جھٹکا دیا کہ ان کا روپ سنگھ پڑھنے میں کمزور ہے۔ مجھے تو وہ اس لیے پڑھنے بھیجتے تھے کہ اس کو اکیلے پڑھائیں گے تو گاؤں بستی کے لوگ کہیں گے کہ اپنے بیٹے کو تو پڑھا رہے ہیں ، سوتیلے کو نہیں پڑھا رہے ہیں۔

بھکاری لال اب عجیب کشمکش میں پھنس گئے۔ جسے پڑھانا چاہتے تھے وہ ماسٹر کی نظر میں نہ پڑھنے والا ہے اور جسے دکھاوے کے لیے اور سماجی دباؤ سے بچنے کو اسکول بھیجتے ہیں وہ ٹھیک ٹھاک ہے۔

بھکاری لال اور ماں میں اکثر جھگڑا ہوتا رہتا تھا۔ وہ میاں بیوی تھے۔ ایک دوسرے کی ضرورت اور مجبوری، لیکن ان کے مزاج میں کوئی میل نہیں تھا۔ ہفتے میں چھ دن ان میں آپس میں جھگڑا ضرور ہوتا اور پالن پوسن کرنے والا اور گھر کا مالک ہونے کے ناتے ’ماں ‘ کو مارتا۔ اس دن وہ بدبدا  رہا تھا۔

’’سسری کے گے (یہ) کلٹّر بنے گا۔ ماسٹر کی ہونشا (نگاہ) میں سسرو تیز ہے۔ سارے سبد یاد کر لیے۔‘‘

’’ایسا لڑکا لے آئی جو میرے لڑکے سے زیادہ ہوشیار ہے۔‘‘ میرا تیرا کا فرق وہ بہت زیادہ کرتا تھا۔ ہم سب اسے  ’’دادا‘‘ کہتے تھے۔ (پالی میں باپ کو دادا ہی کہا جاتا ہے) ’’چھوڑو آج سے کوئی پڑھنے وڑھنے کی ضرورت نا ہی۔ لا چھوٹو کتابیں لا۔ ان دونوں کی ڈلاّ تو موئی پٹی دے۔‘‘

اور تینوں بھائیوں نے مل کر ایک پلان بنایا۔ سلیٹوں کو اٹھا کر، تختیاں چوکھٹ پر رکھ کر ایک ایک کر توڑی گئیں اور تھیلے سے کتابیں نکال کر جب پھاڑنا چاہا تو ماں نے لپک کر جھٹکے سے کتابیں چھین لیں۔ تب بھکاری نے اچھل کر  ’’ماں ‘‘ کی چھاتی پر ایک لات جما دی اور وہ چاروں خانے چت گر پڑی۔ 

بستی کے لوگوں کو برا لگا کہ نہیں پڑھانا تو نہیں پڑھاتے۔ مگر کتابیں پٹیاں چولھے پر رکھ کر جلا دینا کہاں کی سمجھداری ہے۔

بستی کے دو تین لڑکے میرے سا تھ کے تھے۔ میں نے چھپ چھپا کر ان کی کتاب میں بنے ک سے کبوتر اور خ سے خرگوش ، گ سے گدھا اور سوتک گنتی یاد کی تھی۔ لیکن بھکاری کو یہ بھی برا لگا جب اسے پتہ چلا کہ میں دوسروں کے گھر جا کر بچوں سے پوچھتا ہوں۔

میں ہر دن یہ جگاڑ دیکھ رہا تھا کہیں سے چار چھ ہاتھ لگیں تو میں ایک کتاب خرید لوں اور اسے کسی ساتھی کے گھر میں چھپا کر رکھ دوں۔ لٹوریا اور بادشاہ نام کے دونوں بھائی میرے لنگوٹیا یار تھے۔ ان کی ماں کے پاس میں مار پیٹ کے ڈر سے چھپا کرتا تھا۔ کئی بار تو رات میں بھی وہیں سوجاتاتھا۔ بستر پر سوتے میں پیشاب نکل جانا میرا بڑا مسئلہ تھا۔ لٹوری کے پاس سوتے ہوئے میرا پیشاب نکل گیا تھا لیکن اس کی ماں بڑی محبت اور لگاؤ رکھنے والی تھی۔ اس نے مجھے کوئی سزا نہیں دی۔

ان دنوں دیوالی کے آس پاس پالی میں جوا بہت کھیلا جاتا تھا۔ بھکاری لال کا چھوٹا بھائی ڈالچند چھوٹی موٹی چوری کرنے، جوا کھیلنے اور کشتیاں لڑنے کی وجہ سے لوگوں پر دباؤ بنائے ہوئے تھا۔ سارے خاندان میں چھوٹے لال بے حد محنتی آدمی تھے۔ کولہو کے بیل کی طرح جٹے رہنا ان کا معمول تھا۔

بھکاری لال مردہ مویشی اٹھانے رنگ چمڑے سے مونڈا (جوتے) جوتیاں ہارے سارے بنانے کا کام کرتے تھے۔ وہ فصل پر کسانوں کو نارے سارے (چمڑے کا سامان) بانٹتے اور گیہوں ، مکا اکٹھا کرتے تھے۔ میں جب اسکول سے روک لیا گیا تھا تو مردار جانور کھینچنے، کچرا وغیرہ اٹھانے اور کھیتوں سے اناج بٹورنے کے کام میں لگ گیا تھا۔ میری بہن اور ماں بھی ہر فصل پر کام پر جاتیں۔ چماریوں کے جھنڈ کے جھنڈ ان دنوں کام پر جاتے تھے لیکن ڈالچند جسم کو تکلیف دینے والے کام خاص طور پر نہیں کرتا تھا۔

ڈالچند ان دنوں دھوم سے جوا کھیل رہا تھا، دیوالی سے ایک دن پہلے اس کی جیت ہوئی تھی۔ میں گھر میں گھسا۔ کھونٹی پر ڈالچند کا کرتا ٹنگا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے چور کی طرح جیب ٹٹولنا شروع کی۔ لٹکی ہوئی جیبوں میں کچھ نہ تھا۔ لیکن سینے پر خفیہ جیب بنی تھی۔ اس میں نوٹ بھرے تھے۔ میں نے نوٹوں کی گڈی کو آہستہ سے نکالا اور اس میں ایک کا نوٹ ڈھونڈا۔ ایک روپیہ لے کر باقی روپیہ اسی طرح جیب میں رکھ کر کواڑ بند کر کے میں باہر نکل گیا۔ ماں اس وقت گھر پر نہیں تھی۔ گھر میں گھستے نکلتے، روپیہ چراتے مجھے کسی نے نہیں دیکھا۔ اس خوشی میں میں جلدی سے پینٹھ بازار سے نکل کر بنیوں کی دکان کی طرف چلا گیا۔ اتنے سارے روپیوں سے ایک روپیہ چرایا ہے، چاچا کو پتہ بھی نہیں ہو گا۔ کتنے روپئے اس کی جیب میں ہیں اور پتہ بھی ہو گا تو جیتے ہوئے روپیوں میں سے ایک روپیہ کی پرواہ وہ کیا کرے گا۔

پینٹھ سے آگے بنیوں کی چھ سات دکانیں ایک کے بعد ایک ہیں۔ میں بیچ کی دکان پہنچا اور کہا، لالہ جی میرے چاچا آپ کو پیسے دیں گے۔‘‘

’’تو دوئی خرید لیں گے۔ تو کیوں آیا ہے؟‘‘

’’کتابیں تہو کر پوں کوں۔‘‘ کہہ کر میں دکان سے نیچے اتر کر جدھر سے چاچا چھوٹے لال آ رہے تھے اس طرف کو لوٹ آیا اور شری نواس کی کوٹھی کے سامنے شاستری جی کے مکان کے پیچھے چل رہی پتلی نالی میں میں نے وہ ڈبیہ پھینک دی۔

میں جیسے ہی چھوٹے لال کے پاس گیا انھوں نے پکڑ کر میری جیبیں ، پاجامہ ، کچھا اور اس کے ازار بند کی جگہ ٹٹول کر دیکھی اور پوچھا، ’’تو روپیہ لایا۔‘‘

 ’’نہ، نہیں تو؟‘‘

 ’’تو دکان پر کیا کرنے گیا تھا؟‘‘

 ’’کتاب پوچھنے۔‘‘

 ’’وہ تسلی کے لیے دکان پر گئے۔ لالہ نے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی کہا ’’چھوٹے لال بناپیسے کے بچوں کو کیوں بونی کے وقت بھیج کر دکانداری خراب کرتے ہو۔‘‘

چاچا نے فوراً میرا ہاتھ پکڑا اور گھر کی جانب واپس ہوئے۔ چلتے چلتے وہ بتا رہے تھے  ’’ڈالا کا ایک روپیہ جیب سے کون نکال لیا۔ اس نے گھر میں اودھم مچا رکھا ہے۔ تیری ماں پر بے مطلب ہی شک کر رہا ہے۔ وہ جب سے گھر میں آئی ہے گھر کی حالت سدھر گئی ہے۔ یہ ڈالا پاگل کہاں سمجھتا ہے یہ سب باتیں۔‘‘

وہ بولتے جا رہے تھے گھر سے روپیہ چرا کر جانے اور دکانوں پر کتاب کی تلاش میں گھومنے میں اور پھر چھوٹے لال چاچا کے ساتھ گھر لوٹنے میں آدھا پون گھنٹہ تو لگ ہی گیا ہو گا۔

گھر عام راستے سے تھوڑا اندر گلی میں تھا۔ اس سے پہلے صرف ایک گھر تھا۔ عام راستے پر پتا بھیکاری لال کی جوتیاں بنانے کی دکان تھی۔ ان دنوں کئی گھروں میں جوتیاں بنائی جاتی تھیں اور پینٹھ کے دن سب لوگ لائن سے انھیں پینٹھ میں پیش کرتے تھے۔ اسی دن وہ باہر بیٹھے نئی جوتیاں تیا ر کر رہے تھے۔ جب میں روپیہ چرا کر گیا تھا انھیں کام کرتے چھوڑ گیا تھا۔ چاچا کے ساتھ لوٹا تو دیکھا میری ماں قصائی کے ذریعہ کاٹی جا رہی گائے کی طرح زور زور چیخ رہی تھیں۔ ماں کی چیخ مجھے بہت دور سے سنائی پڑ گئی تھی۔ میں دوڑ کر ماں کے پاس پہنچا۔ تب گلیارے میں پڑی ماں کراہ رہی تھی۔ اس کی کمر پر بھکاری لال نے پہلا وار پھر ہے (وہ لکڑی جس پر چمڑا کاٹا جاتا ہے) سے کیا تھا۔ اس کے بعد ڈالچند نے ماں کے جسم پر لاٹھیاں برسائی تھیں۔ سر چھوڑ کر سارا جسم ڈلا نے توڑ دیا تھا۔ ماں چیختے کراہتے بے ہوش ہو گئی تھی۔

 ’’ڈلّا تو راکشش ہے، بھکریا تو نے تو اپنی بہو کو مارا ہی، ڈلّا سے کیوں پٹوایا۔‘‘

’’ارے ساب سسر کی.... اس کو کھانے کی کمی نہیں ہے، ہم تین بھائی کما کے اس کا پیٹ بھرتے ہیں ، اس کی اولاد کو کھلاتے ہیں۔ تب بھی اس نکمی نے ایک روپیہ پر نیت گاڑ لی۔ اگر ضرورت تھی تو مانگ لیتی۔‘‘

ڈلاّ فتح مندی کے غرور میں چار پائی پرتن کر بیٹھا تھا۔ وہ پہلوان بھی تھا اور چور جواری بھی۔ اس کا بستی بھر پر دبدبہ تھا۔ ’’سسری نے ایک روپیہ چرا کر اپنی عادات شروع کی ہے۔ ارے سسری ہم سارے بڑے سے بڑے طرم خاں کی جیب میں سے نکال لائے۔ تو نے ہماری جیب میں ہاتھ ڈالے۔‘‘

 ’’مت اٹھاؤ دادی کو۔‘‘ چھوٹے لال کا دل پسیج رہا تھا۔ ڈلا تو نشے میں ہے کیا؟ ارے ایسی کیا بات تھی، میں دے دیتا تجھے ایک کے دس۔ تو نے اس کی سب ہڈیاں توڑ دیں۔‘‘

اس دن پورے دن گھر میں چولھا گرم نہیں ہوا۔ رات میں کراہتے ہوئے میری بہن سے کہتا تھا ’’بیٹا کچھ دانے بھونج کر چکھ لو۔بھیا کو دے دو۔‘‘ میں اپنے جرم کی وجہ سے دکھی تھا۔ چور تھا اور سزا پالی ماں نے۔ وہ بھی اتنی سخت جسے زندگی بھر بھلایا نہیں جاسکتا۔

ماں کا منہ سوج گیا تھا، ہونٹ بھی بڑے بڑے ہو گئے تھے۔ اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔ کسی طرح وہ بولی۔ ’’دادی جار کا روکڑ میں نے چرانا تو دور رہا، دیکھا تک نہیں ، پر قصائی نے میرا پورا جسم توڑ ڈالا۔‘‘ میں اپنا جرم قبول کروں ، یہ اسی وقت سوچ رہا تھا۔ جب سے ماں کو بری طرح پٹتے دیکھا تھا ، ماں پیٹی جاچکی تھی۔ ڈلا کا غصہ ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ اب میں اپنا گناہ قبول کروں تو جو حال ماں کا ہوا ہے وہی میرا بھی ہو گا۔ اس ڈر سے میں نے چپ رہنا ہی بہتر سمجھا۔ پر ماں جب رو رو کہتی،  ’’میں نے چونی تک کسی کی کمائی کبھی نہیں چھوئی۔ آج ایک روپیہ کیوں چراتی؟ وہ اپنے بچوں میں خود کو چورنی بننے کے ڈر سے روتے کراہتے صفائی پیش کر رہی تھی۔ بہن مایا دیوی نے کہا ’’اماں ، تو نے ایک روپیہ کیوں چرایا؟ پورے گاؤں میں لوگ تجھے چورنی سمجھ رہے ہوں گے؟‘‘  ’’جو جو چاہے سمجھے بیٹا، میرا بھگوان گواہ ہے، چور کون ہے میں نہیں جانتی پر جو چور ہو گا بھگوان اس کے جسم میں کیڑے ڈالے گا۔‘‘ اور نہ جانے کیا کیا وہ بول رہی تھی۔ دیر رات اس کا درد بڑھ گیا تھا۔ ’’ایک گلاس دودھ میں پھٹکری ڈال کر پی لے، بھکاری نے کہا تھا۔ ’’ہلدی پوت دو بچو، تمھاری ماں کے بدن پر۔‘‘ میں اور میری بہن پیٹھ پر ہلدی پوتتے رہے۔ پھر ماں نے جانگوں سے لہنگا اٹھا کر نیلے نشانوں پر ہلدی پتوائی جو پوشیدہ عضو کے پاس تھے اور پھر کراہتے ہوئے اس نے اشارہ کیا مجھے باہر جانے کا۔ میں سمجھ گیا ماں کے پوشیدہ حصوں پر گہری چوٹ لگی تھی۔ بہن نے ہلدی پوتی اور میں تھوڑی دیر بعد پھر گھر میں آیا۔ ماں کی چارپائی کے پاس تسلے میں کنڈوں کی آگ سلگ رہی تھی۔ چھوٹے، ڈلا سب سونے چلے گئے تھے۔ سکائی کراتے کراتے ماں نے پوچھا، ’’بیٹا تو کتاب کی ضد کر رہا تھا، یہ کام تو نے تو نہیں کیا۔؟‘‘

 ’’نہیں اماں۔ میں نے نہیں کیا۔‘‘ میں صاف جھوٹ بول گیا اور پھر ماں کی پیٹھ کے نشان کو سینکنے لگا۔ جسم پر اُبھرے نشان اور چوری کے روپے سے آنے و الی کتاب کے حروف میں مجھے عجیب سی برابری لگی۔ دوسرے دن صبح نالی میں پھینکی گئی کاغذ کی ڈبّی ڈھونڈ نے گیا پر وہاں نہیں ملی۔ میرے جیسا کوئی اور اسے اٹھا لے گیا ہو گا۔

بھونچال گزر جانے کے بعد کے حالات پر میں بیٹھا سوچ رہا تھا۔ ماں کو سچ بتانا چاہیے یا نہیں ماں کو اس سے تندرستی ملے گی یا نہیں۔ پر میں مہا خود غرض انسان، ماں کی کراہوں میں بھی مجھے کتاب یاد آ رہی تھی۔ ایسی دیوانگی سوار تھی دماغ پر۔

ماں نے پھٹکری پڑے دودھ کے علاوہ شاید اور کچھ نہیں کھایا تھا۔ ڈلا نے خود کھانا بنایا تھا۔ ایک ایک روٹی بہن بھائیوں کو چٹنی سے دے دی گئی تھی۔

اس واقعہ کے بعد قریب 12سال میں نے کسی بھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا۔ ماں کے پاس سے بھی بہن بھائی اپنے پشتینی گاؤں ندرونی سات آٹھ سال کی عمر میں چلے آئے تھے اور یہاں مزدوری اور بیگاری وغیرہ سے پیٹ پالتے رہے۔ 20 سال بعد جب میں نے گریجویشن کر لیاتھا تو جلدی نوکری پا کر میں ماں کو وہ واقعہ بتانے کے جوش میں تھا۔ ماں بھوک مری، میری بیکاری اور خوفناک غریبی کی وجہ سے بیمار رہتی تھی۔ اسے بھوک سے پیدا کیے ہوئے ٹی بی جیسے روگ ہو گئے تھے۔ مرنے سے پہلے ماں سچ سن لے اور میری کتاب کی تمنا کو جان سکے۔ میرے گناہوں کے لیے مجھے معاف کر دے۔ میں ایسا سوچتا تھا لیکن ماں دوائی ، گولی اور پرہیز کی کمی سے موت سے پہلے مر گئی۔ میں گاؤں میں بھی نہیں تھا۔ لاش بھی نہیں دیکھ پایا ماں کی۔ جب میں پہنچا تو چتا کی راکھ بھی ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ کئی دنوں میں اپنی ماں کی راکھ پر جا کر بیٹھا رہا اپنی احسان مند یادداشتوں کے ساتھ۔