افسانہ کی فہرست

حساب کتاب

آخری جلسہ ( آندرے گروشینکو )

محبت یوں نہیں ہوتی

چھوٹی سی نیکی

طاقت کا امتحان

عورت اور ماں

آن زبان اور جان

آئینے میں

خبر ہونے تک

روپ

جال

الجھن

ماسی گُل بانو

چڑیل

ماں کی بدعا

کاویری

پھلوا

ہڈیوں کے الفاظ

پگڑی

کمّی بھائی

شریکا

تابوت

غریب ماں کا دکھ

جسے اللہ توفیق دے

شیطان لمحہ

جنگی قبرستان

آتشی مخلوق

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی (آخری حصہ )

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی (حصہ اول)

بازار، طوائف اور کنڈوم ( حصہ اول)

بازار، طوائف اور کنڈوم (آخری حصہ )

عالاں

چڑیل

رپورٹ پٹواری مفصل ہے

بڑی امی

سوتیلا آدمی

جھکی جھکی آنکھیں

نفرت

جنتی جوڑا

ماسٹر اور ٹیچر

میں ایک میاں ہوں

نصیبوں والیاں ….. ( آخری قسط )

نصیبوں والیاں …..( قسط 1 )

نیچی جگہ کا پانی

خط بنام جاں نثار اختر

چیخ

لاجونتی

ذکواۃ

اترن ۔۔۔ واجدہ تبسم

ذرا ہور اوپر ۔۔۔۔ واجدہ تبسم

نوراں کنجری

منصوبہ بندی

''برا کہانی کار ''

پہلی نظر

''تاریخ کا جنم''

''شہرذات'' 

ڈھائی گز کمبل کا خدا

انجام ڈنڈے کا

اُس کا پتی

انور ظہیر رہبر ، برلن جرمنی

جنتی جہنمی

''خاموش ''

صحبت

''ڈارلنگ ''

'' گناہ گار ''

ہاسٹل میں پڑنا

میری امی

ستم ظریفی

''سوگندھی ''

مما مارشا

عورت ذات

''ادھورا پن ''

''گہرے گھاو ''

’’سہمے کیوں ہو انکُش!‘‘۔

عشقیہ کہانی

''پورے آسمان کے برابر کہکشاں ''

''لباس''

غیرت

''مشرق ''

'' بگڑے چہرے ''

یہ ہے میرا پاکستان

ادھوری کہانی

اگر آئینہ نہ ہوتا؟

مولبی صاحب

مقدر

اصلی زیور

بادشاہ کی نیند

سجدہ

پانی کا درخت

پانی

ادھوری کہانی

کبھی کے دن بڑے!

اگر آئینہ نہ ہوتا

بدصورتی

جولیا کا ہیرو

مقدر

بڑی امی

تمھیں کیسے کہوں کہ جیتے رہو

حیا گریز

گبریئل گارسیا مارکیز اور میری نانی

کچی عمر کا افسانہ

صاحب کی وضاحت

کھلادل خالی ہاتھ

جنگلی لڑکی

سبز سینڈل

بڑھاپا نرا سیاپا

حبیب روسیاہ

کرائے کا مکان

الو کا پٹھہ

تتلیاں

ٹھہری ہوئی یاد

پہلا پتھر

اس کی بیوی

حامد کا بچہ

غرور

معدوم

لُٹی محفلوں کی دھول

تیرے عشق نے سب بل دیے نکال

بوجھ

رام کھلاون

کتاب مقدس

امتحان

عورت ذات

محسن محلہ

یادِ ماضی ’’شاد‘‘ ہے یا رب!

ہر دن نیا دن !

انار کلی

میں قتل کرنا چاہتا ہوں

میری حیرت نہیں جاتی!

کالے جوتے

میرا بیٹا ۔ سجاد حیدر خاں

تارڑ صاحب آلو بخارے

سودا بیچنے والی

محلول

ہنس مکھ

دستاویز

ماریا

تہذیب کا کردار

نیا قانون

چنگاری

میبل اور میں

میرا اور اس کا انتقام

دو مسافر

بقا کی جنگ

مدھم چراغ

اس کی بیوی

شکوہ شکایت

کافی

موسم کی شرارت

الاؤ

مقروض

ڈارلنگ

روپہلا عشق فسانہ ہے

سہیل کی سالگرہ

پیالہ

سوکھے کیکر

سویرے کل آنکھ جو میری کھلی

زندگی خوبصورت ہے

جھمکے

وہ دس روپے

کتے

بھوک

انجام بخیر

دست زلیخا

تکیہ کلام

سینما کا عشق

آنکھوں دیکھی کانوں سنی

عطیہ فیضی

آخری خواہش

پھولوں کی سازش

قہقہہ

چاند کا سفر

سوا سیر گیہوں

لاجونتی

جلا وطن

بٹوے میں پڑا خط

تین میں نہ تیرہ میں

کابُلی والا

توبہ شکن

تین موٹی عورتیں

نیا موڑ

چنوں کا لفافہ

خود سے بیگانہ

بھنگن

گل رخے

بانجھ

جاؤ لوٹ جاؤ!

دست شناس

مار

انتہاکاعشق

''دھنک رنگ زندگی''

نوحہ گر۔۔۔۔۔

"ہانکاکرنےوالے ''

مجبوری

امتحان

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں

بازگشت

آنکھ کا شہتیر

1919 کی ایک بات

سپلیمنٹری کارڈ

تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمے کا بندھن

زندگی …قتل گاہ

بستی والے

سپیدہٴ سحر

تنہا راہیں

یہ لگاؤ ہے

محبت کا نیلا رنگ

چل دیے اس راہ

برف کی سِل

وہ لڑکی

نمک

گوندنی

کلیجہ چیر کے رکھ دیا

شوشو

خونی تھوک

بوتل کا جن

ایک دن

انکل انیس

اب اور تب ۔ ۔ ۔

دادی اماں

پکاسو کی بیوہ

گلابی ربن

عالیہ !!!!

ستارہ اور سفر

تیسرا پاکستان

دستک

رائٹنگ ٹیبل

چلتے ہو تو چین کو چلیے

فقیرنی

شکوہ

خاکستر افسر

جو کیا سو پایا

آتش، بارود، دھواں اور زندگی

منزل منزل

مفاد اپنا اپنا

کاش میں بیٹی نہ ہوتی

ٹوٹا ہوا دل

دوستی

بے نام سی زندگی ۔ آخری حصہ

انسان شناس

اندر کا رنگ

اِک تیرے آنے سے

آرزو تھی اُسے پانے کی ۔ حصہ دوم

آرزو تھی اُسے پانے کی ۔ حصہ اول

احسان اتنا سا کر دے

طاقت کا امتحان

اللہ دتہ

ٹھنڈا گوشت

ٹوبہ ٹیک سنگھ

سویرے جو کل میری آنکھ کھلی

اندھا فرشتہ

بے نام سی زندگی ۔ حصہ سوم

کاش

تنہائی

دھواں

جینے کی راہ

اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا

بے نام سی زندگی ۔ حصہ دوم

پانچ منٹ

بے نام سی زندگی ۔ حصہ اول

قیمتی

آج بھی کچھ نہیں پکایا؟

انسان شناس

عزم کی داستان

یار من بیا

حسن پاگل کردیتا ہے

ہاتھ کی صفائی –

یہ کوٹھے والیاں –

بات تو کچھ بھی نہیں تھی

ستاروں سے آگے

شکوہ شکایت

مٹی کی مونا لیزا

ایک ستم اور میری جاں

لوہے کا کمر بند

آنندی

دھواں اور ریل کی پٹری

شام ڈھل گئی اس پار

لحاف

مہا لکشمی کا پل

کھدّر کا کفن

آخری کوشش

حرام جادی

گڈریا

گنڈاسا

لانگ ویک اینڈ

ادرک کا سواد

صدیوں نے سزا پائی۔۔۔

اپنے دُکھ مجھے دے دو

کالی شلوار

مردم گزیدہ

پرمیشر سنگھ

بلاؤز ...........

گرل فرینڈ۔۔۔۔۔۔

یہ لگاؤ ہے ۔۔۔۔۔

تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گستاخ محبت

کچرا بابا

تعویذ

‘‘بیمار ماں’’

کھول دو

اسیر خواب

الٹی شلوار

اوور کوٹ

"حصارِ شب"

میں لوٹا نہیں ہوں!!!

عروسہ کی ‘‘گڑیا کا گھر’

تنہا راہیں!!!

ایک زاہدہ ایک فاحشہ

میرا نام رادھا ہے.....

کفن

آپا

ماں جی

عورت بے وفا کبھی نہیں ہوتی۔۔۔

آنکھوں اور عقل پر پڑا پردہ

آخری کوشش

ننھے ہاتھ

وہ سانولی لڑکی

شہرِبُتاں ..

ایم اے پاس بلی

الجھن( احمد ندیم قاسمی )

الجھن

رات آئی، خیر کیلئے ہاتھ اٹھائے گئے اور اس کے بیاہ کا اعلان کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ لال دوپٹے میں سمٹی ہوئی سوچنے لگی کہ اتنا بڑا واقعہ اتنے مختصر عرصے میں کیسے تکمیل تک پہنچا.

وہ تو یہ سمجھے بیٹھی تھی کہ جب برات آئے گی تو زمین اور آسمان کے درمیان الف لیلہ والی پریوں کے غول  ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ، پروں سے ملائے بڑا پیارا سا ناچ ناچیں گے ، بکھرے ہوئے تارے ادھر ادھر سے کھسک کر ایک دوسرے سے چمٹ جائیں گے اور ٹمٹماتے ہوئے بادل کی شکل اختیار کر لیں گے ، اور پھر یہ بادل ہولے ہولے زمیں پر اترے گا، اس کے سر پر آ کر رک جائے گا اور اس کے حنا آلود انگوٹھے کی پوروں کی لکیریں تک جھلملا اٹھیں گی ، دنیا کے کناروں سے تہنیت کے غلغلے اٹھیں گے اور اس کے بالیوں بھرے کانوں کے قریب آ کر منڈ لائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔وہ تو یہ سمجھتی تھی کہ یہ دن اور رات کا سلسلہ صرف اس کے بیاہ کے انتظار میں ہے ، بس جو نہی اس کا بیاہ ہو گا، پورب پچھم پر ایک مٹیالا سا اجالا چھا جائے گا۔۔۔۔۔جسے نہ دن کہا جا سکے گا اور نہ ہی رات۔۔۔۔۔۔بس جھٹپٹے کا سا سماں رہے گا قیامت تک اور جونہی برات اس کے گھر کی دہلیز الانگے گی یہ سارا نظام کھلکھلا  کر ہنس دے گا اور تب سب لوگوں کو معلوم ہو گا کہ آج گوری کا بیاہ ہے ۔

لیکن بس برات آئی، لمبی لمبی داڑھیوں والوں نے آنکھیں بند کر کے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ، شکر اور تل تقسیم کئے گئے اور پھر اسے ڈولی میں دھکا دے یا گیا، ڈھول چنگھاڑنے لگے ، شہنائیاں بلکنے لگیں ، گولے بھونکنے  لگے اور وہ کسی ان دیکھے ، ان جانے گھر کو روانہ کر دی گئی۔

ڈولی میں سے بہت مشکل سے ایک جھری بنا کر اس نے میراثیوں کی طرف دیکھا، کالے کلوٹے بھتنے ، میال ڈھول اور مری ہوئی سنپولیوں کی سی شہنائیوں ، نہ بین نہ باجہ نہ تونتنیاں نہ انٹوں کے گھٹنوں پر جھنجناتے ہوئے گھنگرو، نہ گولے نہ شرکنیاں ، جیسے کسی کی لاش قبرستان لے جا رہے ہوں ۔

ہاں وہ لاش  ہی تو تھی اور یہ ڈولی اس کا تابوت تھا، سفید کفن کے بجائے اس نے لال کفن اوڑھ رکھا تھا اور پھر یہ نتھ، بلاق، جھومر، ہار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ قبر والے بچھو اور کنکھجورے تھے ، جو اسے قدم قدم پر ڈس رہے تھے ۔

وہ رو دی، وہ اس سے پیشتر بھی روئی تھی، جب اس کی ماں نے اسے گلے سے لگایا اور سرگوشی کی۔۔میری لاڈلی گوری۔۔۔تیری عزت ہماری عزت ہے ، تو اب پرائے گھر جا رہی ہے ، بڑے سلیقے سے رہنا ورنہ ناک کٹ جائے گی، ہماری۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی اس کی ماں کو اس موقعہ پربھی اپنی ناک کی فکر ہوئی بھٹی میں دانہ اسپند ڈال دیا جائے ۔۔۔۔۔ماں کو اس کے دل کی پرواہ نہ تھی۔

عطر پھلیل لگا لے  ری گوری سیج بلائے توئے

گوری نے ڈولی سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ آنگن سے اس پار تک روئی کی ایک پگڈنڈی سی بچھا دی گئی، اس کی ساس اس سے یوں لپٹ گئی جیسے گوری نے شراب پی رکھی ہوں ، اور ساس کو اس کے لڑکھڑانے کا خوف دامن گیر ہے ، گوری نرم نرم روئی پر چلی تو اسے یونہی شک گزرا کہ واقعی یہ واقعہ تھا تو بڑا، اس کا اپنا اندازہ غلط تھا، آخر اتنی ملائم روئی صرف اسی لئے تو خاک پر نہیں بھچائی گئی تھی، کہ اس کے مہندی رہے پاؤں میلے نہ ہوں ، پر جونہی اس نے اس شبہ کو یقین میں بدلنا چاہا تو اچانک اس کے پاؤں  زمیں کی سخت ٹھنڈی سطح سے مس ہوئے اور سراب کی چمک ماند پڑ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔روئی ختم ہو چکی تھی۔

اب سے سخت سزا بھگتنا پڑ گئی، اسے ایک کونے میں بیٹھا دیا گیا، اس حالت میں کہ اسکا سر جھک کر اس کے گھٹنوں کو چھو رہا تھا اور اس کے گلے کا ہار آگے لٹ  کر اس کی تھوڑی سے لپٹا پڑا تھا، گاؤں والیاں آنے لگیں ، اکنی چونی اسکے مردہ ہاتھ میں ٹھونس دی اور گھونگھٹ اٹھا اٹھا کر بٹر بٹر اس چہرے کو گھورا جانے لگا۔۔۔۔جیسے لاش کے چہرے سے آخری دیدار کی خاطر کفن سرکا دیا جاتا تھا۔۔۔۔

سارا دن اس کی ناک کے بانسے ، اس کی پلکوں کے تناؤ، اس کے  ہونٹوں کے خم، اس کے نام اور اس کے رنگ، اس کی اتنی بڑی نتھ اور جھومر اور بالیوں کے متعلق تذکرے کئے گئے ، اور جب سورج پچھم کی طرف لٹک گیا تو اس کے آگے چوری کا کٹورا ادھر دیا گیا، اس کی ساس ناک سڑ سٹراتی اس کے پاس آئی اور بولی لئ میری رانی کھا لے چوری؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے نئے نئے طوطے کو پچکارا جاتا ہے ، اسے ایک بار خیال آیا کہ کیوں نہ نئے طوطے کی طرح لپک کر اس کی ناک کاٹ لے ۔

گوری کا جی متلا گیا۔۔۔۔

پرے کونے میں دبکی ہوئی ایک بڑھیا نے اپنے زخم کا تذکرہ چھیڑ دیا، چھینک آتی بھی ہے اور نہیں بھی، بس یوں منہ کھولتی ہوں اور کھولے رکھتی ہوں ، اور چھینک پلٹ جاتی ہے اور دماغ میں وہ کھلبلی مچتی ہے کہ چاہتی ہوں چولھے میں دے دوں اپنا سر۔۔۔

اور خدا جانے کیا بات ہوئی کہ گوری کو بھی چھینک آ گئی اس کی ساس اور اوسان خطا ہو گئے ، تجھے بھی چھینک آ گئ، اے ہے ، اب کیا ہو گا، نئی نویلی دلہن کو اللہ کرے کبھی چھینک نہ آئے ، بنفشے کا کاڑھا بنا لاؤں ؟ پر اس صدی میں تو بنفشے کا اثر ہی ختم ہو گیا، گرم گرم چنے ٹھیک رہیں گے وہ یہ کہ تیزی سے اٹھی تو چادر پاؤں میں الجھ گئی، ہڑ بڑا کر پرلے کونے میں بڑھیا پر جا گری، وہ بے چاری چھینک کو دماغ سے نوچ پھینکنے کی کوشش میں تھی کہ یہ نئی آفت ٹوٹی تو اس کہ منہ سے کچھ ایسی آواز نکلی جیسے گیلا گولا پھٹتا ہے ۔

ہڑبونگ مچی تو  گوری سب کے دماغ سے اتر گئی اور جب کچھ سکون ہوا تو بوڑھی نائن کولہوں پر ہاتھ رکھے اندر آئی اور گوری کے پاس بیٹھ کر بولی۔۔

اے ہے میری رانی، ابھی تک چوری نہیں کھائی تو نے ؟ نوج ایسے لاج بھی کیا؟

ان دلہوں کو کیا ہو جاتا ہے ، دو دو دن ایک کھیل بھی اڑ کر نہیں جاتی پیٹ میں اور منہ مچوڑے بیٹھی ہے ۔

جی نہیں چاہتا۔

جی چاہتا ہے اندر سے ، پر یہ نگوڑی لاج نیا گھر۔۔۔۔۔۔۔۔نئے لوگ پر گوری رانی میں تو تیری وہی پرانی نائن ہوں ، جانے کے بار مینڈھیاں بنائیں ، کے بار کنگھی کی، وہ ایک بار تیرا بندا اٹک گیا تھا بالوں میں ، تو چلائی تو گھر بھر مچل اٹھا، بڑی بوڑھیوں کا جمگھٹ ہو گیا، کوئی بندے کو مروڑ رہی تھی، کوئی بالوں کی لٹیں کھینچ رہی تھی اور تو گلاب کا پھول بنی جا رہی تھی۔

گوری پہلے تو بت بنی بیٹھی رہی لیکن جب نائن نے کٹورا اتنا آگے بڑھا دیا کہ وہ اس کے چولے کو چھونے لگا تو وہ ضبط نہ کر سکی، سرگوشی سے بھی کہیں مدھم آواز میں بولی، میں نہیں کھاؤں گی، کیوں نہیں کھائے گی؟ نائن نے اب گوری کا گھونگھٹ اٹھا کر اپنے سر پر ڈال لیا تھا، کیوں نہیں کھائے گی؟ میں کھلا کے چھوڑوں گی، تو نہیں کھائے گی تو میں بھی نہیں کھاؤں گی، ہاں پر تو تو ضرور کھائے گی، یہ دیکھ میں کھا رہی ہوں ، دیکھ نا گوری دلہن۔۔۔۔۔اس نے چوری مٹھی بھری اور پوپلے میں ٹھونس کر بولی اب کھا بھی لے گوری رانی۔

میں نہیں کھاؤں گی،  گوری نے یہ الفاظ کچھ اونچی آواز میں کہے اور گھونگھٹ کھیچ کر  دیوار سے لگ گئی، چوڑیاں بجیں تو عورتیں منمنانے لگیں ۔

نہی نویلی دلہنوں کو پہلے دن کبھی بولتے نہ سنا تھا۔

اور پھر ایک جگہ جم کر  بیٹھی ہی نہیں ، تڑپ رہی ہے پارے کی طرح۔

اس صدی کے بیاہ کیا ہوتے ہیں مداری کھیل دکھاتا ہے ۔

ہم نے دیکھی ہیں دلہن، ایک ایک مہینہ نہیں بولیں کسی سے ۔۔۔۔۔۔ایک ایک مہینہ۔۔۔۔

مجھے تو اور کسی کی بات یاد نہیں ، یہ سامنے نائن بیٹھی ہے ہماری، دس دن تک منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھی رہی، گیارہویں دن زبان بھی ہلائی تو بس اذان کے بعد کلمہ پڑھا۔

نائن یوں ہنسنے لگی جیسے ٹین کے ڈبے میں کنکر ڈال کر اسے لڑھکا دیا جائے

کون گیٹیاں کھیلی، گوری کی ساس دامن میں چنے ڈالے اندر آئی۔۔۔۔دلہن کے ساتھ گیٹیوں کی باتیں کی جاتی ہیں ؟ اتنی عمر گزر گئی، سینکڑوں بار دایہ بنی پر بات کرنے کا ڈھب نہ آیا تجھے ۔۔۔بھونے ہوئے چنوں کی خوشبو سے کمرہ مہک گیا، لیکن شادی کے روز سسرال میں پہلے پہل چنوں سے فاقہ توڑنا برا شگون تھا اس لئے گوری اپنے آپ کو اس نئے حملے سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنے لگی، نائن کا بازو چھوا اور جب وہ اس کے بالکل قریب ہو گئی تو آہستہ سے بولی مجھے نیند آئی ہے ۔

گوری کی ساس نے نائن سے پوچھا کیا کہتی ہے ؟

نائن ناک پر انگلی رکھ کر بولی کہتی مجھے نیند آئی ہے ؟۔۔۔۔۔اور پھر ٹین کے ڈبے میں کنکر بجنے لگے ۔۔۔میری رانی نیدن کی بھی ایک ہی کہی تو نے ۔۔۔۔۔تیری نیند ۔۔۔۔دلہن کی نیند۔۔۔۔۔۔اب میں کیا کہوں ؟ گلے میں پھندا پڑا ہے ۔

یہاں گوری کی ساس نے رحمت کے فرشتے کا روپ دھار لیا بولی، اے رہنے بھی دے بات بات پر دانت نکال رہی ہے ، نائن ہو تو سلیقے والی ہو یہ بھی کیا ادھر بات ہوئی ادھر منہ پھاڑ کر حلق کا کوا دکھا دیا، اتنا نہیں سوچا کہ دن بھر کی تھکن ہے ۔۔۔۔سو چا میری گوری رانی۔۔۔۔پر یہ چنے ۔

سب عورتیں باہر نکل گئیں مگر گوری کی آنکھوں میں نیند کہاں آج تو نیند کی جگہ کاجل نے لے لی ہے ، آنکھیں جھپکاتی رہی اور سوچتی رہی، واہ رے میرے پھوٹے بھاگ یہی بیاہ ہے تو واری جاؤں کنوارے پن پے ، کیا زمانہ تھا کون  سی بات یاد کروں ، کس کس کو یاد کرو، وہ ساون کی چھم چھم میں کڑے نیم کے ٹہنے میں جھولنا، جھولا آگے لپکتا ہے تو ٹھنڈی پھوار دھو ڈالتی ہے ، جھولا پیچھا ہٹتا ہے ، تو خوشبو میں بسی ہوئی لٹیں چہرے کو پونچھ ڈالتی ہیں ،

اور پھر اسی شریر نویر کے کھلے آنگن میں چرخے کی گھوں گھوں ، گورے گورے ہاتھ پونیاں تھامے اوپر ابھرتے ہیں ، تکتے سے باریک  تار لپٹتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے تار پونی سے نہیں نکلا ، گوری  کی ہتھیلی سے نکلا ہے ، اور پھر عید  کے دن ملنگ سائیں کا میلہ، وہ اتری ڈھیروں پر پروا کے جھونکوں میں لچکتی ہوئی گھاس ۔۔۔۔۔وہ گونجتے ہوئے دن اور چپ چاپ راتیں اور یہ نئی زندگی جینا اجیرن ہو رہا تھا، ہاتھ پاؤں ہلاؤں تو بے حیا اور لاڈلی ٹھہروں ، اجنبی عورتوں کا ہجوم کوئی کھانستی ہے ، کوئی چھینکتی ہے ، کوئی پڑوسن کا گلہ کرتی ہے ، کوئی میرے لونگ کے کناروں کو بھدا بتاتی ہے ، نہ ساون کی رم جھم کے گیت، نہ الف لیلہ کی کہانیاں ، نہ ہم سنوں کی چہیلں ، اس سے تو یہی اچھا تھا کہ ماں باپ مجھے کسی کگر سے دکھا دے دیتے ، یہ سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جاتی، چین آ جاتا ، کیسے مذاق کرتی تھی مجھ سے نوری، تو بیاہی جائے گی، دلہن بنے گی مہندی رچائے گی، دودھ پئے گی، چوری کھائے گی اور نوری کو اپنے من سے نکال دے گی۔۔۔۔۔بے چاری بھولی نوری۔۔۔۔۔نادان سہیلی۔۔۔۔تجھے کیا معلوم بیاہ کی رونق صرف دکھاوا ہے ، پھوڑے کی طرح۔۔۔۔۔اوپر سے گلابی اندر سے پیپ بھرا۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔

گوری گھبرا کر اٹھی بیٹھی، چوڑیاں بجیں تو ساس اندر دوڑی آئی اس کے بعد ایک عورت۔۔۔۔دوسری عورت۔۔۔۔پھر تیسری عورت۔۔۔۔۔اور وہی دم گھونٹ دینے والی حرکتیں اور باتیں ، گوری نے چاہا نادان بچوں کی طرح مچل جائے بلک بلک کر رونے لگے ، بھاگ کر باہر آنگن میں لوٹنے لگے ، زیور اتار پھینکے کپڑوں کی دھجیاں اڑا دے اور آنکھوں پر دھول بھرے ہاتھ مل مل کر سسکیاں بھرے اور کہے ، میں تو سب سے تھک گئی ہوں ، تم الف لیلہ والی دیونیاں ہو، تمہاری کھانس کی ٹھن ٹھن تمہارے قہقہوں کی کرختگی بہت ڈراؤنی  بہت گھناؤنی ہے ، مجھے اکیلا چھوڑ دو میں ناچنا اور گانا چاہتی ہوں ۔

وہ خدا جانے اور کیا سوچتی مگر ساس اور نائن اور دوسری کم بختیں پھر  وہی گھس پٹی باتیں کرنیں لگیں ، جہیز کی کیا پوچھتی ہو بہن، سارا گھر دے  ڈالا گوری کو، ایسے ایسے کپڑے کہ دیکھے میلے ہوں ، وہ وہ زیور کہ آنکھیں چندھیا جائیں ، پلنگ کے پانے نہیں دیکھے تم نے ؟ نیچے سے شنگرفی اور اوپر سے اتنے  سفید جیسے چاند اتر کر جڑ دئیے ہیں ، اصل میں میرا بیٹا ہے ہی قسمت والا۔۔

گوری کیلئے یہ موضوع بھی دلچسپی سے خالی تھا، نائن جھوٹ بولتی ہیں اکثر، پر وہ سجیلا ہے بھی تو کیا، حالت تو یہ ہے کہ چار پہر سے اس کے گھر میں بیٹھی ہوں اور اس نے شکل تک نہیں دکھائی، وہیں ڈیوڑھی میں پڑا چھینکتا ہے ، بے ترس۔

بڑی دیر کے بعد شام آئی، عورتیں چلی گئیں اور اس نے ہاتھ پاؤں پھیلا کر بازو تانے ، زیور سے لدے پھندے سر کو دھیرے سے جھٹکایا اور باہر دیکھا، اس کی ساس اور نائن سامنے کے کمرے سے باہر آتی تھیں اور اندر گھس جاتی مرجھائی ہوئی بانہوں میں تانبے کے کنگن اور پتیل کی چوڑیاں جیسے کھانس رہی تھی، جوتیاں چپڑ چپڑ چیخ رہی تھیں اور وہ کل دار گڑیوں کی طرح مٹکتی پھر رہی تھیں۔

کچھ دیر بعد گاؤں والیاں گیت گانے اور سننے آئیں تو ان کے ہمراہ نوری بھی آئی گوری کے قریب بیٹھ گئی اور اس کے کان میں بولی آج تو بات تک نہیں کرتی بہن، اور پھر آنکھیں مٹکا کر گنگننے لگی۔

دلہن کا بولنا گناہ ہے اور پھر گوری تو ان اللہ والیوں کو ذکر بھی سن چکی تھی جنہوں نے ایک ایک ماہ چپ شاہ کا روزہ رکھا، اس لئے اس نے بولنا مناسب نہ سمجھا بس دھیرے سے نوری کے پہلو میں کہنی جڑ دی، اور نوری تڑپ کر بولی، لے کے کلیجہ ہلا دیا میرا، کیوں نہ ہو، بیاہ جو ہو گیا تیرا، ہو لینے دے ہمارا بیاہ، تیرے گھر کے پاس سے گزریں گے تو ناک بھوں چڑھا کر آگے بڑھ جائیں گے غرور سے پلٹ کر دیکھیں گے بھی نہیں ، کر لے مان گھڑی کی بات ہے ۔

گوری کی زبان میں سوئیاں سی چبھ گئیں ، جب تک گیت گائے جاتے رہے وہ نوری کو اور نوری کے نقرئی بندوں کو دیکھتی رہی اور سوچتی رہی کہ ، کنوارے پنے کے ساتھی، بندے کیسے بھلے لگتے ہیں گلابی کانوں میں ، اور ایک میرے کان ہیں کہ کیڑوں ایسی پتلی پتلی بالیوں سے پٹے پڑے ہیں ، نوری سر ہلاتی ہے تو یہ بندے تاروں کی طرح ٹمٹماتے ہیں اور جب پلٹ کر ادھر ادھر دیکھتی ہے تو بندے انگوروں کا گچھا بن جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سوچتے سوچتے اس کا ماتھا دھوپ میں پڑی ہوئی ٹھیکری کی مانند تب گیا اور جب سب ناچنے لگیں۔

جب سب چلی گئیں اور آنگن سونا ہو گیا تو دولہا کا باپ کھانستا ہوا آیا اور ایک طرف سے حقہ اٹھا کر چلتا بنا، نائن ہاتھ ملتی اٹھی اور بولی، آ میری بچی ادھر پلنگ پر آ جا، نیند آ رہی ہو گی تجھے اور پھر گوری کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر نائن نے اسے یوں کھینچا جیسے لاش کو اٹھا رہی ہے ، گوری پاؤں گھسٹی کمرے میں آئی، رنگین پائے والے پلنگ پر دھم سے گری اور چھم سے لیٹ گئی، نائن بولی بیٹی زیور تو اتار لے ، نتھ وتھ کہیں اٹک گئی تو مشکل بنے گی۔۔۔۔۔۔نہیں اٹکتی گوری بولی۔۔۔میں خود اتار لوں گی۔۔

نائن نے آگے بڑھ کر پھر اس کی بغلوں میں دونوں ہاتھ جما دئیے ، نہیں نہیں بیٹی یہ برا شگون ہے ، زیور اتارنے ہی پڑتے ہیں ، ایک بار ایک دلہن نے تیری  طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن نائن اپنی کہانی شروع کرنے ہی پائی تھی کہ گوری زیور نوچنے لگی اور پھر فورا  دھڑام سے پلنگ پر گر گئی، ٹین کے ڈبے میں کنکر بج اٹھے نائن بولی یہ بھی خوب رہی نائن چلی گئی اور گوری دانت پیس کر رہ گئی۔

جیسے بہت سے تاگے آپس میں الجھ جائیں تو انہیں سلجھانے کی کوشش اور الجھنیں پیدا کر دیتی ہے بالکل یہی کیفیت تھی گوری کے ذہن کی، بیاہ کا پہلا دن بس بن کر اس کے سینے پر سوار تھا، کہ اچانک چر سے دروازہ کھلا گوری چونک گئی، ارے ۔

میں سمجھتی تھی نائن جھوٹ بکتی ہے ، اس نے گھونگھٹ کی شکنوں میں سے کنکھیوں سے نو وارد کو دیکھتے ہوئے سوچا، یہ میرا دولہا ہے یا لال بادشاہ۔

بھونچال سا آ گیا اس کی طبعیت میں ، چیختی ہوئی آندھیوں ، کڑکتے ہوئے بادلوں ، لڑھکتی ہوئی چٹانوں اور ٹوٹے ہوئے ٹہنوں میں لپٹا ہوا ذہن یہاں سے وہاں اچھلنے لگا سنبھل کر بیٹھنا چاہا تو پلنگ کے پائے تک کھسک گئے ۔

دولھا مسکراتا رہا اور پھر پلنگ پر بیٹھ کر بولا اگر تم کچھ اور پرے کھسکتیں تو پلنگ سے گر جاتی۔

گوری خاموش رہی۔

دولھا نے اس کا ہاتھ پکڑ  لیا اور بولا، سنا کچھ۔

اور یکایک آندھیاں تھم گئیں اور بادلوں نے چپ سادھ لی، گوری کے جسم میں جھرجھری سی دوڑ گئی، ذہن یوں صاف ہو گیا جیسے اس نے کڑکتی دھوپ میں لیموں کا یخ شربت  غٹ غٹ چڑھا لیا ہو، انگڑائی آئی تو با نہیں نہ تان سکی، بس اندر ہی چٹخ پٹخ کر رہ گئی اور پھر ہاتھ چھڑا کر ذرا پرے کھسکنے کی کوشش کرنے لگی۔

پلنگ سے گر جاؤ گی گوری۔ دولہا بولا۔

آپ کی بلا سے ۔گوری نے جیسے اپنے ذہن کا سارا بوجھ اتار کر پرے جھٹک دیا۔

اگر تم گر گئیں تو تکلیف مجھے ہو گی دولہا بولا۔

گوری شرما گئی اور بے تعلق سا سوال کر بیٹھی، زکام کا کیا حال ہے ۔

سرک گیا ہے اس وقت، دولھا مسکرایا اور پھر خاموشی کے ایک طویل وقفے میں گوری کی اٹھتی اور گرتی ہوئی نظروں سے بہت سی باتیں کر لیں اور جب آنگن کے پرلے سرے پر اپنے ڈربے میں ایک مرغی کڑکڑائی تو دولھا نے کہا کوئی بات کرو گوری۔

تم ہی کوئی بات کرو، گوری پہلی مرتبہ مسکرا دی۔

کیا بات کروں ؟

کوئی کہانی وہانی سناؤ، گوری جیسے اپنے آپ سے باتیں کر رہی ہو۔

کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسی کہانی؟دولھا نے پوچھا۔

کوئی پریوں وریوں کی کہانی، گوری کھل کر بولنے کے باوجود سمٹی جا رہی تھی،۔

مجھے تو صرف لال بادشاہ اور سبز پری کی کہانی آتی ہے ، دولھا مسکرایا۔

وہی سہی، گوری نے انگلی میں سنہری انگوٹھی کو گھماتے ہوئے کہا۔

دولھا نے تکئے پر کہنی ٹیک دی۔ تو پھر سنو، پر ذرا قریب ہو کر سننا۔۔۔۔۔۔یوں ۔۔۔۔جہاں زمین ختم  ہو جاتی ہے نا وہیں ایک نگری ہے ، جسے لوگ نیند کی نگری کہتے ہیں ، اس نگری پر ایک بادشاہ راج کیا کرتا تھا، اسکا نام تھا لال بادشاہ بڑا خوبصورت، بڑا ہنس مکھ بہت بانکا، بہت سجیلا۔

تمہاری طرح، گوری کا بستر کی چادر پر انگلی پھرتے ہوئے یوں بولی جیسے کانسی کے کٹورے سے چھلا مس کر گیا ہو۔

دولھا ہنس دیا اور گوری کی لال لال  پوروں کو اپنی دودھ ایسی پوروں سے ٹٹول کر بولا تو کرنا خدا کیا ہوا گوری کہ ایک دن لال بادشاہ شکار کھیلنے ایک جنگل میں جا نکلا اور۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی کہانی نصف تک پہنچی تھی، ابھی لال بادشاہ نے سبز پری کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں ہی لیا تھا کہ دروازے کی جھریوں سے صبح کاذب جھانکی، دولھا چونک کر بولا، ارے صبح ہو گئی۔

نہیں شام ہو گئی، گوری نہ بھولے سے کہا۔

اچھل کر دولھا نے دروازہ کھولا پلٹ کر مسکرایا اور باہر نکل گیا اور گوری نے اتنی لمبی انگڑائی لی جیسے پورب سے انگڑائی لیتی ہوئی صبح کا منہ نوچ لے گی، تکئیے میں سر جما کر کہنے لگی ہائے رے نوری بہن تو کتنی ابھاگن ہے ، پڑی ہو گی ٹوٹے کھٹولے پر گٹھڑی بن کر۔۔۔۔۔۔اور یہاں تیری گوری شنگرفی پایوں والے پلنگ پر۔۔۔۔۔مہندی کی خوشبو سے بسے ہوئے کمرے میں ۔۔۔۔۔اپنے بانکے سجیلے دولھا سے ۔۔۔۔۔اف، کتنی سچی باتیں کہتی تھی تو؟

اس نے مسکرا کر دئیے کی پیلی روشنی میں اپنی لال ہتھیلیاں دیکھیں اور اپنے تپے ہوئے چہرے پر ہاتھ مل کر بولی، کاش اس وقت یہاں نوری ہوتی ۔۔۔۔۔۔یا کوئی آئینہ ہی ہوتا؟