افسانہ کی فہرست

حساب کتاب

آخری جلسہ ( آندرے گروشینکو )

محبت یوں نہیں ہوتی

چھوٹی سی نیکی

طاقت کا امتحان

عورت اور ماں

آن زبان اور جان

آئینے میں

خبر ہونے تک

روپ

جال

الجھن

ماسی گُل بانو

چڑیل

ماں کی بدعا

کاویری

پھلوا

ہڈیوں کے الفاظ

پگڑی

کمّی بھائی

شریکا

تابوت

غریب ماں کا دکھ

جسے اللہ توفیق دے

شیطان لمحہ

جنگی قبرستان

آتشی مخلوق

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی (آخری حصہ )

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی (حصہ اول)

بازار، طوائف اور کنڈوم ( حصہ اول)

بازار، طوائف اور کنڈوم (آخری حصہ )

عالاں

چڑیل

رپورٹ پٹواری مفصل ہے

بڑی امی

سوتیلا آدمی

جھکی جھکی آنکھیں

نفرت

جنتی جوڑا

ماسٹر اور ٹیچر

میں ایک میاں ہوں

نصیبوں والیاں ….. ( آخری قسط )

نصیبوں والیاں …..( قسط 1 )

نیچی جگہ کا پانی

خط بنام جاں نثار اختر

چیخ

لاجونتی

ذکواۃ

اترن ۔۔۔ واجدہ تبسم

ذرا ہور اوپر ۔۔۔۔ واجدہ تبسم

نوراں کنجری

منصوبہ بندی

''برا کہانی کار ''

پہلی نظر

''تاریخ کا جنم''

''شہرذات'' 

ڈھائی گز کمبل کا خدا

انجام ڈنڈے کا

اُس کا پتی

انور ظہیر رہبر ، برلن جرمنی

جنتی جہنمی

''خاموش ''

صحبت

''ڈارلنگ ''

'' گناہ گار ''

ہاسٹل میں پڑنا

میری امی

ستم ظریفی

''سوگندھی ''

مما مارشا

عورت ذات

''ادھورا پن ''

''گہرے گھاو ''

’’سہمے کیوں ہو انکُش!‘‘۔

عشقیہ کہانی

''پورے آسمان کے برابر کہکشاں ''

''لباس''

غیرت

''مشرق ''

'' بگڑے چہرے ''

یہ ہے میرا پاکستان

ادھوری کہانی

اگر آئینہ نہ ہوتا؟

مولبی صاحب

مقدر

اصلی زیور

بادشاہ کی نیند

سجدہ

پانی کا درخت

پانی

ادھوری کہانی

کبھی کے دن بڑے!

اگر آئینہ نہ ہوتا

بدصورتی

جولیا کا ہیرو

مقدر

بڑی امی

تمھیں کیسے کہوں کہ جیتے رہو

حیا گریز

گبریئل گارسیا مارکیز اور میری نانی

کچی عمر کا افسانہ

صاحب کی وضاحت

کھلادل خالی ہاتھ

جنگلی لڑکی

سبز سینڈل

بڑھاپا نرا سیاپا

حبیب روسیاہ

کرائے کا مکان

الو کا پٹھہ

تتلیاں

ٹھہری ہوئی یاد

پہلا پتھر

اس کی بیوی

حامد کا بچہ

غرور

معدوم

لُٹی محفلوں کی دھول

تیرے عشق نے سب بل دیے نکال

بوجھ

رام کھلاون

کتاب مقدس

امتحان

عورت ذات

محسن محلہ

یادِ ماضی ’’شاد‘‘ ہے یا رب!

ہر دن نیا دن !

انار کلی

میں قتل کرنا چاہتا ہوں

میری حیرت نہیں جاتی!

کالے جوتے

میرا بیٹا ۔ سجاد حیدر خاں

تارڑ صاحب آلو بخارے

سودا بیچنے والی

محلول

ہنس مکھ

دستاویز

ماریا

تہذیب کا کردار

نیا قانون

چنگاری

میبل اور میں

میرا اور اس کا انتقام

دو مسافر

بقا کی جنگ

مدھم چراغ

اس کی بیوی

شکوہ شکایت

کافی

موسم کی شرارت

الاؤ

مقروض

ڈارلنگ

روپہلا عشق فسانہ ہے

سہیل کی سالگرہ

پیالہ

سوکھے کیکر

سویرے کل آنکھ جو میری کھلی

زندگی خوبصورت ہے

جھمکے

وہ دس روپے

کتے

بھوک

انجام بخیر

دست زلیخا

تکیہ کلام

سینما کا عشق

آنکھوں دیکھی کانوں سنی

عطیہ فیضی

آخری خواہش

پھولوں کی سازش

قہقہہ

چاند کا سفر

سوا سیر گیہوں

لاجونتی

جلا وطن

بٹوے میں پڑا خط

تین میں نہ تیرہ میں

کابُلی والا

توبہ شکن

تین موٹی عورتیں

نیا موڑ

چنوں کا لفافہ

خود سے بیگانہ

بھنگن

گل رخے

بانجھ

جاؤ لوٹ جاؤ!

دست شناس

مار

انتہاکاعشق

''دھنک رنگ زندگی''

نوحہ گر۔۔۔۔۔

"ہانکاکرنےوالے ''

مجبوری

امتحان

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں

بازگشت

آنکھ کا شہتیر

1919 کی ایک بات

سپلیمنٹری کارڈ

تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمے کا بندھن

زندگی …قتل گاہ

بستی والے

سپیدہٴ سحر

تنہا راہیں

یہ لگاؤ ہے

محبت کا نیلا رنگ

چل دیے اس راہ

برف کی سِل

وہ لڑکی

نمک

گوندنی

کلیجہ چیر کے رکھ دیا

شوشو

خونی تھوک

بوتل کا جن

ایک دن

انکل انیس

اب اور تب ۔ ۔ ۔

دادی اماں

پکاسو کی بیوہ

گلابی ربن

عالیہ !!!!

ستارہ اور سفر

تیسرا پاکستان

دستک

رائٹنگ ٹیبل

چلتے ہو تو چین کو چلیے

فقیرنی

شکوہ

خاکستر افسر

جو کیا سو پایا

آتش، بارود، دھواں اور زندگی

منزل منزل

مفاد اپنا اپنا

کاش میں بیٹی نہ ہوتی

ٹوٹا ہوا دل

دوستی

بے نام سی زندگی ۔ آخری حصہ

انسان شناس

اندر کا رنگ

اِک تیرے آنے سے

آرزو تھی اُسے پانے کی ۔ حصہ دوم

آرزو تھی اُسے پانے کی ۔ حصہ اول

احسان اتنا سا کر دے

طاقت کا امتحان

اللہ دتہ

ٹھنڈا گوشت

ٹوبہ ٹیک سنگھ

سویرے جو کل میری آنکھ کھلی

اندھا فرشتہ

بے نام سی زندگی ۔ حصہ سوم

کاش

تنہائی

دھواں

جینے کی راہ

اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا

بے نام سی زندگی ۔ حصہ دوم

پانچ منٹ

بے نام سی زندگی ۔ حصہ اول

قیمتی

آج بھی کچھ نہیں پکایا؟

انسان شناس

عزم کی داستان

یار من بیا

حسن پاگل کردیتا ہے

ہاتھ کی صفائی –

یہ کوٹھے والیاں –

بات تو کچھ بھی نہیں تھی

ستاروں سے آگے

شکوہ شکایت

مٹی کی مونا لیزا

ایک ستم اور میری جاں

لوہے کا کمر بند

آنندی

دھواں اور ریل کی پٹری

شام ڈھل گئی اس پار

لحاف

مہا لکشمی کا پل

کھدّر کا کفن

آخری کوشش

حرام جادی

گڈریا

گنڈاسا

لانگ ویک اینڈ

ادرک کا سواد

صدیوں نے سزا پائی۔۔۔

اپنے دُکھ مجھے دے دو

کالی شلوار

مردم گزیدہ

پرمیشر سنگھ

بلاؤز ...........

گرل فرینڈ۔۔۔۔۔۔

یہ لگاؤ ہے ۔۔۔۔۔

تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گستاخ محبت

کچرا بابا

تعویذ

‘‘بیمار ماں’’

کھول دو

اسیر خواب

الٹی شلوار

اوور کوٹ

"حصارِ شب"

میں لوٹا نہیں ہوں!!!

عروسہ کی ‘‘گڑیا کا گھر’

تنہا راہیں!!!

ایک زاہدہ ایک فاحشہ

میرا نام رادھا ہے.....

کفن

آپا

ماں جی

عورت بے وفا کبھی نہیں ہوتی۔۔۔

آنکھوں اور عقل پر پڑا پردہ

آخری کوشش

ننھے ہاتھ

وہ سانولی لڑکی

شہرِبُتاں ..

ایم اے پاس بلی

خبر ہونے تک( . )

خبر ہونے تک

مختصر سا خط تھا۔دو لائنوں میں اس نے اپنے پہنچنے کی تاریخ، دن، فلائٹ نمبر اور اپنا نام لکھا تھا۔

میرے اوپر دو کیفیات بیک وقت وارد ہوئی تھیں۔ بے پناہ خوشی اور بے پناہ حیرت۔ خط میری یار غار کا تھا جہاں آرا کا اور اس سرزمین کی خوشبو لایا تھا جو کبھی اپنی تھی۔ پر یہ کیسا خط تھا؟ سارے کا سارا تشنگی میں ڈوبا ہوا ادھورا نامکمل۔

اداکار ندیم کے خالو سسر بنگلہ دیش سے لاہور آئے تو مجھ سے ملنے کے لئے تشریف لائے۔ پورے چودہ سال بعد میں نے اپنی اس ہم پیالہ و ہم نوالہ کے بارے میں جانا کہ وہ اس قیامت میں سے کیسے زندہ بچی۔ ستم یہ تھا کہ اس کا ایڈریس انہیں بھی معلوم نہ تھا اور میں اس کے بار ے میں بہت کچھ جان کر بھی اندھیرے میں ہی تھی۔ہاں روشنی کی ایک کرن ضرور تھی کہ میں نے اپنا پتہ انہیں دیا تھا اور آج یہ خط میرے ہاتھوں میں تھا۔

میری اس سے پہلی ملاقات اس شام کو ہوئی جب میں نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے گرلز ہوسٹل میں قدم رکھا۔ اب اللہ جانے اس نے دل میں اتر جانے کا فن کا رنیگی سے سیکھا تھا یا یہ خوبی اسے فطرتاً ودیعت ہوئی تھی۔ بہرحال وہ حوصلہ مند، برُد بار اور فہمیدہ خصائل کی لڑکی تھی۔ چند دن بعد جب ایک دوپہر میں اس کے پاس بیٹھی ملکی حالات پر تبصرہ کر رہی تھی اس نے اچانک مجھ سے پوچھا۔

’’ بھلا چیچاوطنی کہاں ہے؟‘‘

’’ پنجاب میں ‘‘ میرے جواب میں کسی قدر حیرت تھی۔

’’ وہ تو میں بھی جانتی ہوں۔ میرا مطلب ہے لاہور سے کتنی دور ہے؟‘‘

 میں قدرے سٹپٹائی۔ کچھ موٹا موٹا اندازہ لگانے کے لئے میں نے تیزی سے پلکیں جھپکائیں۔ پر بات یہ بھی تھی کہ میں حساب اور جغرافیہ میں بہت نکمّی تھی۔

’’ دیکھو یہ مغربی پاکستان کا نقشہ ہے۔ میں نے ایک ہاتھ اوپر اور دوسرا نیچے کرتے ہوئے تمثیلی انداز اختیار کیا۔

یہ لاہور ہے۔ ساہیوال اور یہاں چیچا وطنی‘‘۔ دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت کو میں نے لاہور، ساہیوال اور پھر چیچا وطنی پر لہراتے ہوئے کہا۔

’’ اچھی ایکٹنگ کر لیتی ہو‘‘۔

جہاں آرا کی ہنسی بڑی من موہنی تھی۔

، پر یہ چیچا وطنی کی ہڑک تمہیں کیوں اٹھی‘‘۔

’’ ارے بس یونہی۔ نام سنا تھا کسی سے۔ غنائیت سی محسوس ہوئی تھی۔

پر چند دنوں بعد جب پھر کسی نہ کسی بہانے چیچا وطنی کا نام زیر گفتگو آیا تو میں نے گہری مسکراہٹ سے کہا۔

’’ سنو بی اس نام کے ساتھ جو داستان وابستہ ہے وہ مجھے سنا دو‘‘۔

کوئی اتھلا پانی تھی وہ جو ذرا دبانے پر چھلک جاتی۔ گہرے پانیوں کی مچھلی تھی۔ کیا مجال جو اس نے میری ایڑی زمین پر ذرا سی بھی لگنے دی۔

’’ اگل دو وہ سب کچھ جو اندر ہے‘‘۔

اس کا کتابی چہرہ اپلائیڈ سائیکلولوجی کی کتاب پر جھکا جو ڈیسک پر روشنی میں نہا رہی تھی۔میں نے کھانا میز پر لگا دیا تھا۔ اماں، اباّ اور زینت آ کر بیٹھ گئے تھے۔ علی اکبر اورحسین دونوں غائب تھے بلکہ دوپہر سے نظر نہیں آئے تھے۔ مجھے علی اکبر پر سخت غصہ آ رہا تھا۔ ایسا فضول لڑکا کہ بغیر کچھ بتائے گواچی گاں کی طرح ادھر ادھر بھاگا پھرتا اور اپنے ساتھ دم چھلا بھی لگائے رکھتا۔ حسین ہمارا چیچا زاد بھائی تھا اور کلکتے سے ان دونوں ملنے کے لئے آیا ہوا تھا۔ابا نے پلیٹ میں چاول ڈالے اور علی اکبر کا پوچھا۔

، بھلا ابا میاں میں کیا جانوں ؟ آپ نے تو اُسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔ کبھی کسی بات پر روکا ٹو کا ہی نہیں ‘‘

ارے بیٹی جوان جہاں بچہ ہے۔ ناروا سختی مناسب نہیں۔یوں بھی وہ سمجھدار ہے۔'

سول اسپتال کے جنرل وارڈ میں بیڈ پر جو نوجوان لیٹا ہوا تھا وہ یقیناً حُسن و جوانی کے نصف النہار پر پہنچا ہوا تھا۔نام محمود اور چٹا گانگ میڈیکل کالج کے سال سوم کا طالب علم تھا۔ ایکسچینج پروگرام کے تحت مغربی پاکستان سے آیا تھا۔ اس وقت یرقان کا مریض بنا بستر پر دراز تھا۔

میری داخلی اور خارجی شخصیت میں کبھی تضاد نہیں رہا۔ میرا اندر میری آنکھوں اور زبان کے راستے بہت جلد باہر آ جاتا ہے۔ گیارہ دن اس معمول کے مطابق گزرے تھے جو میں نے اس کی آمد کے بعد وضع کیا تھا۔ پر بارہ دن رہنے کے بعد وہ ایک شام چلا گیا اور یہ وہ شام تھی جب میں اپنی ایک دوست سے ملنے گئی ہوئی تھی۔ رات کو جب میں نے جوس کا گلاس اس کے لیے بنا یا اور نوکر کو اسے دے آنے کے لئے کہا وہ بولا۔

’’ آپا وہ تو چلے گئے ہیں ‘‘۔

’’ چلے گئے ہیں ‘‘۔ میں نے حیرت سے دہرایا۔

اور جوس کا گلاس میں نے فی الفور یوں اپنے ہونٹوں سے لگا لیا جیسے کوئی اسے چھیننے کے لئے میرے پیچھے کھڑا ہے۔

یہ تو اگلے دن ہی ظاہر ہو گیا تھا کہ وہ میرے خانۂ دل میں کہیں بہت نیچے اُترا بیٹھا ہے۔

میں نے اس سے محبت نہیں، پیار نہیں، عشق کیا۔ زور دار اور اندھا عشق۔ ہر خوف اور ڈر سے بے نیاز ہو کر۔ اس کے ساتھ چٹا گانگ کی ساحلی جگہوں پر گھومتی۔ نیو مارکیٹ کی ایسکا لیٹرز پر چڑھتی، اترتی،مضافاتی جگہوں پر گھومتی اور انہی قربت کے لمحوں میں میں نے اس کے متعلق اور اس کی چیچا وطنی کے متعلق جانا۔ وہ چیچا وطنی سے کوئی پانچ کوس پرے کسی چھوٹے سے کاشت کار کا بیٹا تھا۔ ماں بچپن میں مر گئی تھی پر اس کے باپ نے دوسری شادی نہیں کی تھی۔ وہ اپنے چچا کی لڑکی سے منسوب تھا۔

تب میں نے کہا تھا۔

’’ پر اب تم مجھ سے منسوب ہو‘‘۔

]بیمار سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پیدا ہوئی۔ یاس میں بجھی ہوئی آواز تھی اس کی جب وہ بولا تھا۔

’’ معلوم نہیں کیا قیمت دینی پڑے گی مجھے اس کی؟‘‘

’’ جو بھی قیمت دو گے خلوص سے دینا۔ یقیناً مجھے کبھی شکایت نہیں ہو گی۔‘‘

’’ میرا چچا میرے باپ سے میری طرح ہی پیار کرتا ہے کیونکہ اس کی پرورش بھی میرے باپ نے ہی کی ہے۔ وہ اس کا سگا نہیں سوتیلا بھائی ہے۔ پر ان میں سوتیلے پن والی کوئی بات نہیں۔ میرا چچا ضلع وہاڑی کا ایس پی اور زینب اس کی اکلوتی اولاد ہے۔‘‘

گفتگو کا دروازہ بند ہو گیا تھا اور ہم ایک دوسرے کو خدا حافظ کہہ کر اپنے اپنے مقام پر آ گئے تھے۔ تقریباً بائیس دن تک ہم نے ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھی۔ پر یہ تو اپنے آپ کو روز سولی پر چڑھا کر مصلوب ہونے والی بات تھی اور میں یقیناً ابھی مصلوب ہونا نہیں چاہتی تھی۔ اس لیے ایک ملگجی سی شام کو اسے فون کیا۔

’’ تم‘‘

اس نے نرمی اور محبت سے کہا۔

’’ ہاں میں ! تمہیں دیکھنے کو میرا جی چاہتا ہے۔ شنگھوا آ جاؤ‘‘۔

اور ہم خوابناک سی نیلگوں روشنی میں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے۔

’’ آؤ شادی کر لیں ‘‘ میں بولی۔

وہ محجوب سی ہنسی ہنسا۔

’’ کوئی گڈے گڑیا کا کھیل ہے‘‘۔

’’ کبھی کبھی گڈے گڈی کا کھیل کھیلنے میں بھی مزہ آتا ہے‘‘۔

’’ چھوڑو جہاں آراء مذاق چھوڑو۔ سنجیدگی سے کوئی اور بات کرو‘‘۔

’’ میں سنجیدہ ہوں ‘‘

’’ مگر میں نہیں ‘‘

’’ چلو یہ بھی دیکھ لیتے ہیں ‘‘ میں اٹھ گئی تھی۔

میں نے اعلان کر دیا تھا کہ میں اس سے شادی کروں گی۔ علی اکبر، اماں، ابا سبھی حیران تھے۔

’’ بھلا ایسے بھی شادیاں ہوتی ہیں۔اماں نے مجھ سے کہا تھا۔ ہم اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں ‘‘۔

’’ آپ کو ضرورت بھی نہیں جاننے کی۔ اماں میں جو جانتی ہوں سب کچھ‘‘۔

علی اکبر نے بھی کہا۔

’’ پلیز یہ جوا مت کھیلو‘‘۔

پر میں کیسے نہ یہ جوا کھیلتی؟ بھلا لمس کی کثافت کے بغیر روح کی لطافت کیسی؟ میرا دل اس کا تھا۔ اپنے جسم پر بھی میں اسے قابض کرنا چاہتی تھی۔ ایک سال یا دو سال یا جب تک وہ چاہتا۔

’’ میں تمہارے فیصلے سے پریشان ہوں ؟‘‘

’’ کیوں ؟میں نے تم پر کوئی شرط لگائی۔ کوئی پابندی عائد کی۔ جب جی چاہے چھوڑ کر چلے جانا۔ باپ جس سے کہے گا شادی کر لینا‘‘۔

’’ تم نے مجھے پاگل کر دینا ہے‘‘۔ اس نے سر کو دونوں ہتھیلیوں میں تھام لیا تھا‘‘۔

’’ ارے تم تو پھر بھی ہوش میں ہو۔ اچھائی اور برائی کی تاویلیں دیتے ہو۔ نفع اور نقصان کے جائزے لیتے ہو‘‘۔

’’ بخدا نہیں ‘‘۔

اور جو کام اس کے کرنے کا تھا وہ میں نے کیا۔ عشق کی نسوانی تاریخ میں ایسی چند مثالیں شاید مجھ جیسی جری عورتوں نے ہی رقم کی ہوں۔

 پھر میری اس سے شادی ہو گئی۔ میرا اس کا ساتھ تقریباً دو سال رہا۔ میں ایک خوبصورت بیٹے کی ماں بھی بنی۔

اور جب وہ اپنے گھر واپس جا رہا تھا وہ نیم پاگل سا تھا۔ وہ ہاؤس جاب بھی یہیں کرتا پر اس کے باپ نے لکھا تھا میں بیمار ہوں اور تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔

میں نے اس کی پیشانی پر پیار کیا۔ اس کی دونوں آنکھیں چومیں۔ اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں تھاما اور کہا۔

’’ جاؤ مجھے کبھی اپنے پاؤں کی زنجیر نہ سمجھنا‘‘۔

میں نے اس کا سامان باندھا۔ اس کی ساری تیاری مکمل کی۔ اس کے سینے سے لگی پر میں نے آنسو نہیں بہائے۔

پھر وہ جہاز میں بیٹھ کر پرواز کر گیا اور میں گھر آ گئی۔ میں نے بچے کو سینے سے چمٹایا اور میرے کانوں میں اس کے آخری الفاظ گونجے۔

’’ جہاں آرا تم مجھے کبھی نہیں سمجھ سکو گی‘‘۔

’’ بچہ کتنا بڑا ہے اب؟‘‘ یہ سوال کوئی دس بار پوچھنے کے بعد جواب ملا تھا۔

’’ دو سال کا‘‘۔

’’ کوئی خط پتر یا اس کی دوبارہ آمد‘‘۔

’’ کچھ نہیں ‘‘۔

جہاں آراء نفسیات میں ایم۔ اے کر رہی تھی. جب میں اپنا کورس مکمل کر کے واپس آ رہی تھی وہ مجھے چھوڑنے ائیرپورٹ آئی ہوئی تھی۔ میں نے بہت آہستگی سے اس سے کہا تھا۔

’’ تم اگر کہو تو میں چیچا وطنی کا چکر لگا آؤں اور تمہیں صورت حال لکھوں ‘‘۔

’’ نہیں ‘‘ اس کی آواز فیصلہ کن تھی۔

’’ تمہارا خیال ہے میں جھُنجھلا کر اس پر برسی۔ وہ تمہارے سوگ میں بیٹھا ہے۔ شادی کر کے سکھ چین کی زندگی گذار رہا ہو گا اور تم یہاں ہر دم آگ پر بیٹھی جلتی ہو۔‘‘

’’ ارے کب؟ میں تو بڑے مزے میں ہوں ‘‘

’’ تمہارا خیال ہے وہ سکون میں ہو گا۔نہیں میری جان نہیں ہرگز نہیں وہ بھی آگ پر ہی بیٹھا جل رہا ہو گا۔‘‘اور اب وہ آ رہی تھی۔ جس شام اُسے آنا تھا۔ دن بہت مصروف گزرا۔ میرے بچوں کو بھی بنگلہ دیشی آنٹی سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا۔ میرے جذبات عجیب سے ہو رہے تھے۔ جیسے ابھی کل کی بات ہو۔ درمیان کا سارا وقت بیچ میں سے سرک سا گیا تھا۔

کھانے سے فارغ ہو کر ہم باتوں میں جُت گئے۔’’ تم اپنے بارے میں بھی کچھ بتاؤ‘‘؟

’’ اب کیسے آئی ہو؟‘‘

’’ اس کا بیٹا اسے دینے‘‘ اس کے لہجے میں بشاشت تھی۔

’’ کیوں ؟‘‘۔۔۔ میری آنکھیں پھٹتے پھٹتے بچ گئی تھیں۔

’’ کچھ پلے بھی ڈالو گی یا یونہی پہیلیاں ہی ڈالتی رہو گی۔ تمہیں بچے کی ضرورت نہیں ‘‘۔

’’ دراصل مجھے کینسر ہو گیا ہے۔ کافی اندر پھیل گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق میں زیادہ سے زیادہ سال اور جی سکتی ہوں۔ اب تمہیں بتاؤ بچہ باپ کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔ اماں اور ابا دونوں ختم ہو گئے ہیں۔ علی اکبر کی بیوی انتہائی خود غرض اور بدمزاج عورت ہے۔

اور میرا جی چاہا دھاڑیں مار مار کر اونچے اونچے بین ڈالوں۔ میں نے اس کے ساتھ چیچا وطنی جانے کی پیشکش کی۔پروہ اکیلی جانے پر مصر تھی۔ میں نے زیادہ اصرار مناسب نہیں سمجھا اور ماں بیٹے کو بس میں بٹھا دیا۔

کوئی پانچ دن بعد وہ واپس آئی۔ میں چھت پر کپڑے پھیلانے گئی ہوئی تھی۔ اسے دیکھتے ہی دو دو سیڑھیاں الانگتی نیچے آئی۔ وہ تھکی تھکی نڈھال سی ہو رہی تھی۔ بیٹا اس کے ساتھ ہی تھا۔ میں نے چائے وغیرہ پلائی اور اس کے پاس بیٹھی۔ میری آنکھوں میں کچھ جاننے کی خواہش مچل رہی تھی۔ وہ اسے پڑھ بیٹھی تھی۔ میرے داہنے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولی۔

’’جانی میں بہت تھکی ہوئی ہوں۔ ذرا آرام کر لوں پھر سب کچھ بتاؤں گی‘‘۔

شام کی چائے پی کر وہ بولی۔

تو پھر میں چیچا وطنی کے اس گاؤں میں پہنچی جو اس کی جنم بھومی تھی۔ جہاں اس کا گھر ہے۔ آنگن میں اگے بکائن کے درخت کے نیچے ایک بوڑھا آدمی بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔

، لالہ کوئی عورت تمہارے گھر مہمان آئی ہے‘‘۔

اور لالہ نے موٹے موٹے عینک کے شیشوں میں سے مجھے گھور کر دیکھا۔ پھر دوسری چارپائی پر اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

بیٹھو۔ بنگال سے آئی ہونا۔

’’ جی ہاں ‘‘۔۔۔ میرا مختصر سا جواب تھا۔

’’ یہ لڑکا؟‘‘

’’ محمود کا بیٹا‘‘۔۔۔۔۔۔ میرا جواب پھر اختصار لئیے ہوئے تھا۔

اور یہ جانتے ہی اس نے جھپا مارا۔ اُسے اپنی بغلوں میں لے لیا۔ اس کی عینک لرزنے لگی تھی۔ اس کی داڑھی کے بال کھڑے ہو گئے تھے۔ وہ چلانے لگا تھا۔

’’ محمود۔۔۔ محمود۔۔۔ محمود۔۔۔ آؤ۔ دیکھو کون آیا ہے؟‘‘

وہ اُسے اپنے سینے سے چمٹائے اب رو رہا تھا۔میں دائیں بائیں دیکھ رہی تھی۔ چند عورتیں، تین مرد اور ڈھیر سارے بچے ہمارے اردگرد کھڑے ہو گئے۔

جب اس کی آہ و زاری بہت بڑھ گئی۔ تب دو مرد آگے بڑھے اور بولے۔

’’ صبر کر۔ لالہ صبر کر۔ بچہ تھکا ہوا ہے۔ اُسے ہلکان نہ کر‘‘۔

عورتیں بھی نم آنکھوں کے ساتھ صبر صبر کی تلقین کر رہی تھیں۔

’’ جانی جہاں آرا نے میری طرف دیکھا۔ محمود اس دنیا میں نہیں تھا۔ اُسے اللہ میاں کے پاس گئے دس سال ہو گئے تھے۔ وہ جب اپنے گاؤں آیا۔ اس کے باپ نے اس سے شادی کے لئے کہا۔ اس نے صاف گوئی سے اعتراف کیا وہ شادی کر بیٹھا ہے اور ایک بچے کا باپ بھی ہے۔ باپ مصر کہ وہ دوسری شادی کرے اور پہلی کو طلاق بھیجے۔ پھر اس نے قسم کھائی کہ وہ نہ شادی کرے گا نہ اپنی بیوی بچے کی صورت دیکھے گا۔

بس تو تین سال جیا پر کیسے ؟میرا خیال ہے آگ پر بیٹھ کر جلتے ہوئے اور پھر بھسم ہو گیا۔ ساری کہانی ختم۔

’’ بچے کے لئے اس نے ضد کی ہو گی‘‘۔ میں نے پوچھا۔

’’ ہاں کہا تھا۔ میں نے انہیں اپنے بارے میں بتا دیا تھا اور یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یہ میرے بعد آپ کے پاس ہی آئے گا‘‘۔

’’ چلو یار چھوڑو۔ میں لاہور آئی ہوں۔ اس کی تاریخی عمارات ہی دکھا دو‘‘۔

میں سوچ رہی تھی کہ وہ تقدیر کے ہاتھوں اسی طرح روندی گئی ہے جیسے انسان کے پاؤں تلے ننھے منے سے کیڑے۔

۔۔۔۔