افسانہ کی فہرست

حساب کتاب

آخری جلسہ ( آندرے گروشینکو )

محبت یوں نہیں ہوتی

چھوٹی سی نیکی

طاقت کا امتحان

عورت اور ماں

آن زبان اور جان

آئینے میں

خبر ہونے تک

روپ

جال

الجھن

ماسی گُل بانو

چڑیل

ماں کی بدعا

کاویری

پھلوا

ہڈیوں کے الفاظ

پگڑی

کمّی بھائی

شریکا

تابوت

غریب ماں کا دکھ

جسے اللہ توفیق دے

شیطان لمحہ

جنگی قبرستان

آتشی مخلوق

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی (آخری حصہ )

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی (حصہ اول)

بازار، طوائف اور کنڈوم ( حصہ اول)

بازار، طوائف اور کنڈوم (آخری حصہ )

عالاں

چڑیل

رپورٹ پٹواری مفصل ہے

بڑی امی

سوتیلا آدمی

جھکی جھکی آنکھیں

نفرت

جنتی جوڑا

ماسٹر اور ٹیچر

میں ایک میاں ہوں

نصیبوں والیاں ….. ( آخری قسط )

نصیبوں والیاں …..( قسط 1 )

نیچی جگہ کا پانی

خط بنام جاں نثار اختر

چیخ

لاجونتی

ذکواۃ

اترن ۔۔۔ واجدہ تبسم

ذرا ہور اوپر ۔۔۔۔ واجدہ تبسم

نوراں کنجری

منصوبہ بندی

''برا کہانی کار ''

پہلی نظر

''تاریخ کا جنم''

''شہرذات'' 

ڈھائی گز کمبل کا خدا

انجام ڈنڈے کا

اُس کا پتی

انور ظہیر رہبر ، برلن جرمنی

جنتی جہنمی

''خاموش ''

صحبت

''ڈارلنگ ''

'' گناہ گار ''

ہاسٹل میں پڑنا

میری امی

ستم ظریفی

''سوگندھی ''

مما مارشا

عورت ذات

''ادھورا پن ''

''گہرے گھاو ''

’’سہمے کیوں ہو انکُش!‘‘۔

عشقیہ کہانی

''پورے آسمان کے برابر کہکشاں ''

''لباس''

غیرت

''مشرق ''

'' بگڑے چہرے ''

یہ ہے میرا پاکستان

ادھوری کہانی

اگر آئینہ نہ ہوتا؟

مولبی صاحب

مقدر

اصلی زیور

بادشاہ کی نیند

سجدہ

پانی کا درخت

پانی

ادھوری کہانی

کبھی کے دن بڑے!

اگر آئینہ نہ ہوتا

بدصورتی

جولیا کا ہیرو

مقدر

بڑی امی

تمھیں کیسے کہوں کہ جیتے رہو

حیا گریز

گبریئل گارسیا مارکیز اور میری نانی

کچی عمر کا افسانہ

صاحب کی وضاحت

کھلادل خالی ہاتھ

جنگلی لڑکی

سبز سینڈل

بڑھاپا نرا سیاپا

حبیب روسیاہ

کرائے کا مکان

الو کا پٹھہ

تتلیاں

ٹھہری ہوئی یاد

پہلا پتھر

اس کی بیوی

حامد کا بچہ

غرور

معدوم

لُٹی محفلوں کی دھول

تیرے عشق نے سب بل دیے نکال

بوجھ

رام کھلاون

کتاب مقدس

امتحان

عورت ذات

محسن محلہ

یادِ ماضی ’’شاد‘‘ ہے یا رب!

ہر دن نیا دن !

انار کلی

میں قتل کرنا چاہتا ہوں

میری حیرت نہیں جاتی!

کالے جوتے

میرا بیٹا ۔ سجاد حیدر خاں

تارڑ صاحب آلو بخارے

سودا بیچنے والی

محلول

ہنس مکھ

دستاویز

ماریا

تہذیب کا کردار

نیا قانون

چنگاری

میبل اور میں

میرا اور اس کا انتقام

دو مسافر

بقا کی جنگ

مدھم چراغ

اس کی بیوی

شکوہ شکایت

کافی

موسم کی شرارت

الاؤ

مقروض

ڈارلنگ

روپہلا عشق فسانہ ہے

سہیل کی سالگرہ

پیالہ

سوکھے کیکر

سویرے کل آنکھ جو میری کھلی

زندگی خوبصورت ہے

جھمکے

وہ دس روپے

کتے

بھوک

انجام بخیر

دست زلیخا

تکیہ کلام

سینما کا عشق

آنکھوں دیکھی کانوں سنی

عطیہ فیضی

آخری خواہش

پھولوں کی سازش

قہقہہ

چاند کا سفر

سوا سیر گیہوں

لاجونتی

جلا وطن

بٹوے میں پڑا خط

تین میں نہ تیرہ میں

کابُلی والا

توبہ شکن

تین موٹی عورتیں

نیا موڑ

چنوں کا لفافہ

خود سے بیگانہ

بھنگن

گل رخے

بانجھ

جاؤ لوٹ جاؤ!

دست شناس

مار

انتہاکاعشق

''دھنک رنگ زندگی''

نوحہ گر۔۔۔۔۔

"ہانکاکرنےوالے ''

مجبوری

امتحان

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں

بازگشت

آنکھ کا شہتیر

1919 کی ایک بات

سپلیمنٹری کارڈ

تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمے کا بندھن

زندگی …قتل گاہ

بستی والے

سپیدہٴ سحر

تنہا راہیں

یہ لگاؤ ہے

محبت کا نیلا رنگ

چل دیے اس راہ

برف کی سِل

وہ لڑکی

نمک

گوندنی

کلیجہ چیر کے رکھ دیا

شوشو

خونی تھوک

بوتل کا جن

ایک دن

انکل انیس

اب اور تب ۔ ۔ ۔

دادی اماں

پکاسو کی بیوہ

گلابی ربن

عالیہ !!!!

ستارہ اور سفر

تیسرا پاکستان

دستک

رائٹنگ ٹیبل

چلتے ہو تو چین کو چلیے

فقیرنی

شکوہ

خاکستر افسر

جو کیا سو پایا

آتش، بارود، دھواں اور زندگی

منزل منزل

مفاد اپنا اپنا

کاش میں بیٹی نہ ہوتی

ٹوٹا ہوا دل

دوستی

بے نام سی زندگی ۔ آخری حصہ

انسان شناس

اندر کا رنگ

اِک تیرے آنے سے

آرزو تھی اُسے پانے کی ۔ حصہ دوم

آرزو تھی اُسے پانے کی ۔ حصہ اول

احسان اتنا سا کر دے

طاقت کا امتحان

اللہ دتہ

ٹھنڈا گوشت

ٹوبہ ٹیک سنگھ

سویرے جو کل میری آنکھ کھلی

اندھا فرشتہ

بے نام سی زندگی ۔ حصہ سوم

کاش

تنہائی

دھواں

جینے کی راہ

اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا

بے نام سی زندگی ۔ حصہ دوم

پانچ منٹ

بے نام سی زندگی ۔ حصہ اول

قیمتی

آج بھی کچھ نہیں پکایا؟

انسان شناس

عزم کی داستان

یار من بیا

حسن پاگل کردیتا ہے

ہاتھ کی صفائی –

یہ کوٹھے والیاں –

بات تو کچھ بھی نہیں تھی

ستاروں سے آگے

شکوہ شکایت

مٹی کی مونا لیزا

ایک ستم اور میری جاں

لوہے کا کمر بند

آنندی

دھواں اور ریل کی پٹری

شام ڈھل گئی اس پار

لحاف

مہا لکشمی کا پل

کھدّر کا کفن

آخری کوشش

حرام جادی

گڈریا

گنڈاسا

لانگ ویک اینڈ

ادرک کا سواد

صدیوں نے سزا پائی۔۔۔

اپنے دُکھ مجھے دے دو

کالی شلوار

مردم گزیدہ

پرمیشر سنگھ

بلاؤز ...........

گرل فرینڈ۔۔۔۔۔۔

یہ لگاؤ ہے ۔۔۔۔۔

تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گستاخ محبت

کچرا بابا

تعویذ

‘‘بیمار ماں’’

کھول دو

اسیر خواب

الٹی شلوار

اوور کوٹ

"حصارِ شب"

میں لوٹا نہیں ہوں!!!

عروسہ کی ‘‘گڑیا کا گھر’

تنہا راہیں!!!

ایک زاہدہ ایک فاحشہ

میرا نام رادھا ہے.....

کفن

آپا

ماں جی

عورت بے وفا کبھی نہیں ہوتی۔۔۔

آنکھوں اور عقل پر پڑا پردہ

آخری کوشش

ننھے ہاتھ

وہ سانولی لڑکی

شہرِبُتاں ..

ایم اے پاس بلی

آن زبان اور جان( . )

آن زبان اور جان

اس وقت جب گرمیوں کی تپتی دوپہروں کی مخصوص ویرانی اور سناٹا ڈیرے کے چاروں طرف اگی فصلوں اور سہاگہ کئے ہوئے کھیتوں پر تیرتا پھرتا تھا۔

نیم، پیپل اور شیشم کے درخت ان کی ٹہنیاں، پتے، پتوں سے لٹکتے بُندے اور شاخیں سب اس احساس کو نمایاں کرتے تھے۔

چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے چند ایک نے کہا۔ چوہدری جمال دین بھی حقے کی نے پرے کرتے ہوئے بولا۔

’’ بس چھوڑ اسے اب۔ دو تارے پر کچھ سنا‘‘

تبھی چھٹی رسین کی سائیکل کی گھنٹی بجی۔ وہ کیکر اور بکائن کے پیڑوں کے جھنڈ سے نمودار ہوا۔

جمال دین کا کرخت چہرہ اس پر نظر پڑتے ہی یوں چمکا جیسے کسی گندی مندی جگہ پر ککر متا کھّمبی کا پودا۔

’’ خالد بیٹے کے آنے میں بس سات آٹھ ماہ رہ گئے ہیں۔ چوہدری جی اللہ پاک آپ کو بیٹے کی خوشیاں دیکھنی نصیب کرے‘‘۔

منشی جی کے جانے کے بعد اس نے خط کھولا اور اشتیاق سے اس پر اپنی عینک میں لپٹی آنکھیں جھکائیں۔ لیکن ابھی دوسطریں ہی پڑھی تھیں کہ سر چکرا گیا اور چہرہ تنور کی دہکتی ہوئی آگ کی طرح سرخ ہو گیا۔ خط اس کے بیٹے کا نہیں تھا۔ کسی امیرہ نامی لڑکی کا تھا۔

اس وقت ا سکا مضبوط دل زور زور سے بجتا تھا۔ ہاتھوں میں ہلکی ہلکی کپکپاہٹ تھی۔ ما تھا پسینہ پسینہ تھا۔

ارد گرد چار پائیوں پر بیٹھے لوگوں نے کہا۔

’’ خیر صلا تو ہے نا چوہدری جی۔اپنا بیٹا تو راضی خوشی ہے نا‘‘

اس نے ’’ ہاں بھئی ہاں سب ٹھیک ہے‘‘ کہنے پر اکتفا کیا۔ نوکر سے پانی لانے کو کہا۔ جب وہ لبا لب بھرا گلاس اپنے ہونٹوں کو لگا رہا تھا وہاں موجود چند لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف یوں دیکھا تھا جیسے کہتے ہوں ‘ خیر صلا ہرگز نہیں۔ کوئی گڑ بڑ والی بات ہے۔

پانی پی کر اس نے خط پر نظریں پھر دوڑائیں۔ مضمون یوں تھا۔

’’ آپ کا بیٹا خالد جمال مجھ سے شادی کے لیے بضد ہے۔ خالد اچھا لڑکا ہے۔ لیکن وہ انسانوں کی نہیں زنخوں کی اولاد ہے۔ میں تکشک ناگن جیسی خوبصورت غصیلی اور آن بان والی لڑکی ایسے لڑکے سے شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اسے سمجھائیے کہ میرا پیچھا چھوڑ دے۔

اس نے لفافے کی بیرونی سطح دیکھی۔ برمنگھم کا پتہ درج تھا۔ وہ اسی وقت اٹھا۔ زنان خانے میں آیا۔

لمبے چوڑے آنگن کے بیچ میں ٹاہلی اور نیم کے درختوں کے جھنڈ تلے اس کی بوڑھی ماں رنگین سوتری سے بنی نفیس نقش کاری سے مزین پایوں والی چارپائی پر حقے کے کش لگاتی چوپال سجائے بیٹھی تھی۔

اسّی سال کی عمر میں بھی ا سکے سب اعضاء ٹھیک تھے۔ آواز میں دبدبہ اور گونج تھی۔ ذہن توڑ جوڑ کی سیاست میں چوکنا اور مستعد تھا۔ حقیقت میں وہ پتری تمباکو کی طرح تھیں، جس کو پینے سے بڑے بڑوں کو اچھو لگ جاتا ہے اور آنکھوں میں کھارا پانی اتر آتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر دور میں برداشت نامی لفظ سے ناآشنا رہی۔ ذرا سی حکم عدولی پر دوسرے کے بخیئے اُدھیڑ دینا اور اُسے رُسوا کر نا پہلا فرض سمجھتی۔ خالد پر جتنا حق وہ اپنا خیال کرتی تھی اس کا بیسواں حصہ بھی وہ کسی کو دینے کے لیے تیار نہ تھی۔

ماں جی نے باتیں کرتے کرتے رک کر گامے کو آواز دی۔

’’ تمباکو کے گھٹے کھول کر دھوپ میں پھیلا دے۔ بدبخت تجھے تو کبھی کچھ یاد نہیں رہے گا۔ بس تھوڑا سارہ گیا ہے۔‘‘

بی بی شاہزاداں نے زور دار کش لیا۔ دھواں چھوڑا اور بولی۔

’’ ستیاناس ہو سیم تھور کا۔تمباکو کی ساری کڑواہٹ نکل گئی ہے۔ پینے کا مزا ہی نہیں رہا۔‘‘

وہ آنگن میں سے ہوتا ہوا بڑے کمرے میں آیا۔ کروشیئے کی چادر بچھے پلنگ پر اس کی بیوی رقیہ بیٹھی کروشیئے کی لیس اور سرخ پٹی سے منڈھے ہوئے دستی پنکھے سے اپنے آپ کو ہوا کر رہی تھی۔ رقیہ اس کی دوسری بیوی تھی۔‘‘

خالد جمال پہلی بیوی سے تھا جو اسے جننے کے دس دن بعد مر گئی تھی۔ رقیہ اس کی مرحومہ بیوی کی ممیری بہن تھی۔ سال بعد ہی ماں جی اسے بیاہ لائی تھی۔ وہ رقیہ کے پاس بیٹھ گیا اور خط اس کی طرف بڑھا دیا۔ رقیہ آٹھ جماعت پاس تھی۔ وہ خط پڑھتی رہی اور محمد جمال اپنی مونچھوں کو بل دیتے ہوئے فرش کو گھورتا رہا۔

ایک بار، دو بار، تین بار پڑھنے کے بعد ا ُس نے گردن موڑی اور شوہر کو دیکھا۔ اُسے ان میں حیرت و استعجاب کے رنگوں کے ساتھ ساتھ غصے کی سرخی بھی نظر آئی تھی۔

’’ جی یہ کیا چکر ہے۔ میری تو سمجھ میں نہیں آ رہا۔ اور ہاں کیسی بد تمیز لڑکی ہے؟ کموت دی مار، بھلا ہمارا بیٹا کیوں زنخوں کی اولاد ہونے لگا؟۔

’’ سمجھ میں میری بھی کچھ نہیں آ رہا۔‘‘

’’ اس میں کوئی الجھن نہیں۔ خالد سے لے لیا ہو گا۔ ‘‘

’’ یونہی باتوں باتوں میں پوچھ لیا ہو گا۔ ‘‘ اس نے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے کہا۔

’’ تم ماں جی سے کوئی ذکر نہ کرنا۔ خوامخواہ چیخنا چلانا شروع کر دیں گی اور بات پھیل جائے گی‘‘۔

خالد بہت ضدی، سرکش، ہٹ دھرم اور غصیلے بچے کی صورت میں پروان چڑھا تھا۔ دادی نے اس کے اور رقیہ بیگم کے درمیان ہمیشہ سوتیلے پن کی خلیج کو کم کرنے کی بجائے گہرا کیا۔ کہنے کو خالد اس کی پھوپھی زاد بہن کا بیٹا تھا۔ مگر نہ تو اس نے اس کی طرف کوئی توجہ دی اور نہ ہی دادی پھوپھی نے اس کی توجہ نئی ماں کی طرف مبذول کرائی۔ شروع شروع میں رقیہ نے اسے پیار کرنا چاہا تو وہ بدک کر یوں پیچھے ہٹا جیسے وہ کوئی اچھوت ہو۔

رقیہ بیگم کے ہاں تین بیٹیاں تھیں بہت خواہش تھی اسے بیٹے کی۔ مگر اللہ نے پوری نہ کی۔

عام کھاتے پیتے امیر کبیر گھرانوں کے برعکس خالد پڑھنے لکھنے میں بہت تیز تھا۔ وہ ایک غیر معمولی لڑکا تھا۔ ہوسٹل میں شہزادوں جیسی شان سے رہتا مگر کیا مجال کہ پڑھائی اور کھیلوں میں کہیں سے جھول آئے۔ ایف ایس سی میں ٹاپ کیا اور میڈیکل کے لئے چلا گیا۔ میڈیکل میں گولڈ میڈل لیا۔ ایک سال ہاؤس جاب کرنے کے بعد اس نے اعلان کر دیا کہ وہ نیورو سرجری میں سپیشلائیزلیشن کے لیے انگلینڈ جائے گا۔ وہ گورنمنٹ کے وظیفے کا انتظار نہیں کر سکتا۔ ہاں اتنا ضرور ہوا تھا کہ جوان ہونے پر اس کا رویہ بہنوں اور سوتیلی ماں کے ساتھ بہتر ہو گیا تھا۔

اور اب یہ خط ان کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا تھا۔ بہت سوچ و بچار کے بعد فیصلہ ہو اکہ رقیہ بیگم اسے خط لکھے۔ یہ فیصلہ چوہدری جمال کا تھا۔رقیہ بیگم نے لکھا۔

’’ بیٹی تمہارے خط نے ہمیں پریشانی اور سوچوں کی گھمن گھیریوں میں پھنسا دیا ہے۔ ہمارا ذہن اُلجھ کر رہ گیا ہے۔ گرہوں کے کھولنے میں میرا ذہن بہت تیز ہے۔ لیکن یہ گرہ جو تمہارے خط نے لگائی ہے کسی طرح کھلنے میں نہیں آ رہی ہے۔ پیاری بچی خالد تو ماشاء اللہ بڑا ہونہار بچہ ہے۔ یہ بات ماں ہونے کے ناطے نہیں کہہ رہی ہوں بلکہ اس کا اعتراف تم نے خط میں بھی کیا ہے۔ بیٹی یہ تو بتاؤ وہ زنخوں کی اولاد کیونکر ہوا؟ کیا اس نے کوئی ایسی حرکت کی ہے؟ طبیعت کا ضدی ضرور ہے مگر دل کا برا ہرگز نہیں۔ ہم تو اس کی خوشی میں خوش ہیں ؟ اپنے بارے میں سب کچھ لکھو تاکہ ہماری پریشانی دور ہو۔

اب رقیہ بیگم کو روز انتظار رہتا تھا۔ پہلے چند رو تو خط پہنچ جانے کے خیال میں گزرے۔ پھر چند روز اس کی طرف سے جواب دینے اور پاکستان آنے کے اندازے لگانے میں بیتے۔ مگر خط پھر بھی نہ آیا۔ اب اس کی تشویش اور بڑھ گئی۔ کبھی وہ سوچتی کہ بیمار نہ ہو۔ کبھی خیال آتا کہیں چلی نہ گئی ہو؟ کبھی دعائیں مانگتی اللہ مولا اس نے خالد سے شادی کر لی ہو۔

اور پھر کوئی ڈھائی ماہ بعد اس کا خط آیا۔ اس دن چوہدری جمال اپنے چند دوستوں کے ساتھ شکار کے لیے گیا ہوا تھا۔ ملازم ساری ڈاک زنان خانے میں لے آیا۔ ایروگرام دیکھتے ہی اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ خط کھولا اور پڑھنے بیٹھ گئی۔

مناسب سے القاب کے بعد اُس نے لکھا تھا۔

نام سے تو آپ متعارف ہو ہی چکی ہیں۔ گوجرانوالہ میں گھر ہے۔ لندن پڑھنے کے سلسلے میں آئی ہوئی ہوں۔ برمنگھم میری دوست کا گھر ہے۔ جہاں میں چھٹیاں گزارنے گئی تھی۔

گذشتہ تین دنوں سے ہم دونوں کے درمیان امریکہ جانے اور نہ جانے پر بحث ہو رہی تھی۔ زیبی میری دوست) امریکی گلوکار مرحوم ایلوس پر سیلے کی ساتویں برسی پر اس کے آبائی علاقے گریس لینڈ جانا چاہتی تھی۔ زیبی پرسیلے کی دیوانی ہے۔ میرے خیال میں یہ محض وقت اور پیسے کا ضیاع تھا۔ زیبی مجھ سے اس سلسلے میں بہت الجھی تھی اور نتیجتاً میں نے ہار مان لی تھی۔

اس دن ہم نے ضروری شاپنگ کی۔ جب پانچ بجے گھر واپس آئے تو دیکھا برآمدے میں ایزی کرسیوں میں دھنسے دو نوجوان لڑکے ہنس رہے تھے۔ زیبی نے مجھے اور میں نے اُسے دیکھا۔ میری نگاہوں میں استفسار کی علامات محسوس کرتے ہوئے وہ بولی۔

’’ معلوم نہیں ہونگے کوئی بھیجی کے(اس کا بھائی پرویز نثار) لفنگے دوست۔

کھانے کی میز پر تعارف ہوا تو احساس ہوا کہ وہ لفنگے تو ہرگز نہ تھے۔ اچھے بھلے ڈیَشنگ قسم کے خوب پڑھے لکھے لڑکے ہیں۔ خالد سے میری یہ پہلی ملاقات تھی۔ صورت کے اعتبار سے اس میں اور یورپین لڑکوں میں کچھ زیادہ فرق نہ تھا۔ مقام شکر تھا کہ اس کی آنکھیں سیاہ اور بال بھی سیاہی مائل تھے وگرنہ شاید میں اسے یک جنبش رد کر دیتی۔

رات کا کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔ خالد کے بارے میں یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اسے محفل پر چھا جانے کا فن آتا تھا۔ البتہ وہ بور انسان بھی نہیں تھا۔

بات چیت سے اس کی اعلیٰ ذہانت کا پتہ ضرور چلتا تھا۔ کھانے کے بعد کافی پی گئی اور پھر تاش کی بازی جمی۔ ایک پاؤنڈ کے حساب سے رمی کھیلی گئی اور وہ ہارا۔ ا سنے سادگی سے کہا۔

’’ مجھے تاش کھیلنا نہیں آتا اور نہ میں نے کبھی سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ مگر میں کل پھر کھیلوں گااور ہارے ہوئے سارے پیسے واپس لوں گا‘‘۔

اس نے میری طرف بغور دیکھا تھا۔ میں اس کے پچیس پاؤنڈ اور باقیوں کے پچاس پاؤنڈ اپنے بیگ میں ٹھکانے لگا رہی تھی۔ میری آنکھوں اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ میں نے بیگ کو کندھے پر لٹکایا اور کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

’’ کل آئے گا تو دیکھا جائے گا‘‘۔

صبح دیر سے آنکھ کھلی۔ یوں بھی میں بہت سوتی ہوں۔ ناشتے کی میز پر آئی۔ سب لوگ فارغ ہو چکے تھے۔ اکیلے ناشتہ کیا۔ ثوبیہ لان میں سبزیوں کی کانٹ چھانٹ میں لگی ہوئی تھی۔ وہاں پہنچی تو اس نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’ آج تیار رہنا۔ خالد ساری رات کھیلتا رہا ہے‘‘۔

’’ میری جان میں رمی کی مانی ہوئی کھلاڑی ہوں۔ کوئی مجھے مات نہیں دے سکتا۔ رنگ میں تو کبھی کبھار بازی الٹ جاتی ہے مگر رمی میں نہیں ‘‘۔

دو بجے بازی جمی اور واقعی جو اس نے کہا تھا سچ کر دکھایا۔ اس نے اپنے ہارے ہوئے پاؤنڈ ہی نہیں نکلوائے بلکہ مزید بھی جیتے۔ صرف پانچ پاؤنڈ ہارنے کے بعد میں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے‘‘۔’’ بیٹھئے اتنی جلدی حوصلہ ہار گئیں ‘‘۔ اس کی نظریں تمسخر سے چھلکی پڑتی تھیں۔

خوبصورت پنک کڑھت والے کرتے پر میرے سیاہ لانبے بال بکھرے ہوئے تھے۔ میرے اٹھنے سے وہ بل کھا کر آگے آ گئے تھے جنہیں ایک جھٹکے سے میں نے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔

’’ میں کسی لینڈ لارڈ کی بیٹی نہیں ہوں جو پیسوں کا یوں تفریح میں ضیاع کرتی پھرے۔ پارٹ ٹائم جاب کرتی ہوں اور پڑھائی کے لیے پیسہ اکٹھا کرتی ہوں ‘‘۔

اس نے میری صاف گوئی کو پسند کیا۔

میں اور زیبی امریکہ نہیں گئیں۔ ہفتے بعد میری لندن واپسی اس کے ساتھ ہی ہوئی۔ راستے میں اس نے کہا تھا۔

’’ بہت سی لڑکیوں سے مل چکا ہوں۔ آپ سے زیادہ خوبصورت تھیں مگر معلوم نہیں آپ کیوں اتنی اچھی لگیں ؟۔

خوبصورت لڑکیاں بالعموم ذہین نہیں ہوتیں۔ مگر مجھ میں دونوں خوبیاں ہیں۔ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔

 تھوڑی دیر بعد بولا۔

’’ میرے بارے میں کیا خیال ہے‘‘؟

’’ بس گزارا ہے‘‘۔ میرے انداز میں شرارت آمیز سنجیدگی تھی۔

’’ سنو مجھ میں اچھا لگنے کی ساری خوبیاں موجود ہیں۔ غلط بیانی سے کام مت لو‘‘۔

اور میری ہنسی چھوٹ گئی۔ اُسے اپنے آپ پر کتنا اعتماد تھا۔

 مجھے ڈراپ کرنے کے بعد جب وہ جانے لگا تو بولا۔

’’ امیرہ میں کل شام آؤں گا۔ کہیں جانا مت‘‘

اور پھر یہ ہمارا معمول بن گیا۔ ہماری شامیں اکٹھی گزرنے لگیں۔ اس کی طبیعت میں غصہ اور ضد تھی جو بات وہ ایک بار منہ سے کہہ دیتا اس پر فوری عمل چاہتا۔ کبھی کبھی مجھے اس کی یہ بات اچھی لگتی مگر کبھی کبھی اس سے الجھن بھی ہوتی۔

 

ایک بار جب ہم دریائے ٹیمز کے کنارے بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ وہ مجھے اپنے ماں باپ، دادا، دادی اور دوسرے رشتہ داروں کے متعلق بتا رہا تھا۔ مجھے دفعتاً احساس ہوا کہ میں انہیں نہ صرف جانتی ہوں بلکہ میری دور پار کی رشتہ داری بھی ہے۔ میں نے اپنے یقین کو پختہ کرنے کے لیے چند اور باتیں پوچھیں۔ جب یقین میں شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہی۔ تب واپس آتے ہوئے میں نے بہت دھیمی مگر مضبوط آواز میں اُس سے کہا تھا۔

’’ خالد میں تم سے شادی نہیں کروں گی‘‘۔

’’ کیوں ‘‘ ؟

حیرت زدہ سا وہ چلایّا۔ بریک لگی اور پہیے زور سے چرچرائے۔ اردگرد کے لوگ متوجہ ہو گئے۔

’’ ڈھنگ سے گاڑی چلاؤ۔ سڑک پر تماشا بننے کی ضرورت نہیں ‘‘۔

’’ وجہ بتاؤ و’’ وگرنہ گاڑی ابھی ٹیمز میں گرا دوں گا‘‘۔

 

’’ میری جان اتنی سستی نہیں اور میرا خیال ہے تمہاری بھی نہیں ‘‘۔

’’ اصل بات کرو‘‘ وہ دھاڑا۔

اور میں نے بتانا شروع کیا۔۔

تمہاری پھوپھی سرداراں بیگم جو گوجرانوالہ میں رہتی ہیں۔ ہمارے ان سے دیرینہ مراسم تھے۔ لیکن ان مراسم کی نوعیت صرف بڑے اور بزرگ افراد کی ایک دوسرے کے گھروں میں آمدورفت تک ہی محدود تھی۔ نہ تو کبھی ان کے بچے ہمارے ہاں آئے اور نہ ہی کبھی ہم نے جانے کی ضرورت محسوس کی۔

میرا ایم ایس سی کا آخری سال تھا جب تمہاری پھوپھی نے اپنے بڑے بیٹے تابش کے لیے میرا پروپوزل دیا۔

اماں نے جی جان سے اس رشتے کو پسند کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ پرانی باڑھ کو نیا چھاپہ لگے گا۔ رشتہ داری اور مستحکم ہو جائے گی۔

منگنی کی رسم ادا کرنے تمہارا والد، نانا اور پھوپھا آئے۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار ایسے قد آور اور فولادی جسم والے زمیندار دیکھے تھے۔ ان کے سروں پر ابرق لگی پگڑیاں تھیں جن کے اونچے شملے ہوا سے لہراتے تھے۔ بہترین لٹھے کے تہ بند جن کے ڈھائی بالشت لڑ نیچے لٹکتے تھے۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ میری ہتھیلی پر ہزار ہزار کے کھڑکھڑاتے نوٹ رکھے اور کہا۔

’’ امیرہ بیٹی اب ہماری ہوئی۔‘‘

 

منگنی کو کوئی چھ ماہ گزرے ہونگے جب اسے توڑ دیا گیا۔ وجہ جو سننے میں آئی وہ کچھ اس قسم کی تھی کہ لڑکی بہت پڑھی لکھی ہے۔ خاندان میں نباہ نہیں کر سکے گی۔

’’ خالد‘‘۔

میں نے ایک لمحہ توقف کے بعد کہا۔

’’ جس خاندان کے بزرگوں کو اپنی زبان کے احترام کا احساس نہ ہو۔ جس خاندان کے اونچی پگڑیوں والے اپنی مانگ کو بغیر معقول عذر اور جواز کے چھوڑ دیں۔ میں اس خاندان کے کسی بھی فرد سے دوبارہ ناطہ جوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ ایک جیالے اور جی دار مرد کے لئے اپنی زبان اور آن جان سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ میں انسان کے بچے سے شادی کروں گی، زنخوں کی اولاد سے نہیں۔

میں اس کی گاڑی سے یہ کہتے ہوئے نیچے اتر آئی اور بس میں بیٹھ کر اپنے ہوسٹل آ گئی۔ خالد میرے تعاقب میں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں اسے آزما کر دیکھوں۔میں ہنستی ہوں کہ میں نے بڑے بڑو ں کو آزما لیا ہے، تم جیسے کس گنتی شمار میں ہو۔

آخر میں وہی نام تھا۔

رقیہ بیگم نے خط کو تہہ کیا اور اسے اٹیچی کیس کی جیب میں سنبھالتے ہوئے باہر آئی۔ اُس وقت اس کے لبوں پر بڑی زہریلی مسکراہٹ تھی۔