افسانہ کی فہرست

حساب کتاب

آخری جلسہ ( آندرے گروشینکو )

محبت یوں نہیں ہوتی

چھوٹی سی نیکی

طاقت کا امتحان

عورت اور ماں

آن زبان اور جان

آئینے میں

خبر ہونے تک

روپ

جال

الجھن

ماسی گُل بانو

چڑیل

ماں کی بدعا

کاویری

پھلوا

ہڈیوں کے الفاظ

پگڑی

کمّی بھائی

شریکا

تابوت

غریب ماں کا دکھ

جسے اللہ توفیق دے

شیطان لمحہ

جنگی قبرستان

آتشی مخلوق

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی (آخری حصہ )

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی (حصہ اول)

بازار، طوائف اور کنڈوم ( حصہ اول)

بازار، طوائف اور کنڈوم (آخری حصہ )

عالاں

چڑیل

رپورٹ پٹواری مفصل ہے

بڑی امی

سوتیلا آدمی

جھکی جھکی آنکھیں

نفرت

جنتی جوڑا

ماسٹر اور ٹیچر

میں ایک میاں ہوں

نصیبوں والیاں ….. ( آخری قسط )

نصیبوں والیاں …..( قسط 1 )

نیچی جگہ کا پانی

خط بنام جاں نثار اختر

چیخ

لاجونتی

ذکواۃ

اترن ۔۔۔ واجدہ تبسم

ذرا ہور اوپر ۔۔۔۔ واجدہ تبسم

نوراں کنجری

منصوبہ بندی

''برا کہانی کار ''

پہلی نظر

''تاریخ کا جنم''

''شہرذات'' 

ڈھائی گز کمبل کا خدا

انجام ڈنڈے کا

اُس کا پتی

انور ظہیر رہبر ، برلن جرمنی

جنتی جہنمی

''خاموش ''

صحبت

''ڈارلنگ ''

'' گناہ گار ''

ہاسٹل میں پڑنا

میری امی

ستم ظریفی

''سوگندھی ''

مما مارشا

عورت ذات

''ادھورا پن ''

''گہرے گھاو ''

’’سہمے کیوں ہو انکُش!‘‘۔

عشقیہ کہانی

''پورے آسمان کے برابر کہکشاں ''

''لباس''

غیرت

''مشرق ''

'' بگڑے چہرے ''

یہ ہے میرا پاکستان

ادھوری کہانی

اگر آئینہ نہ ہوتا؟

مولبی صاحب

مقدر

اصلی زیور

بادشاہ کی نیند

سجدہ

پانی کا درخت

پانی

ادھوری کہانی

کبھی کے دن بڑے!

اگر آئینہ نہ ہوتا

بدصورتی

جولیا کا ہیرو

مقدر

بڑی امی

تمھیں کیسے کہوں کہ جیتے رہو

حیا گریز

گبریئل گارسیا مارکیز اور میری نانی

کچی عمر کا افسانہ

صاحب کی وضاحت

کھلادل خالی ہاتھ

جنگلی لڑکی

سبز سینڈل

بڑھاپا نرا سیاپا

حبیب روسیاہ

کرائے کا مکان

الو کا پٹھہ

تتلیاں

ٹھہری ہوئی یاد

پہلا پتھر

اس کی بیوی

حامد کا بچہ

غرور

معدوم

لُٹی محفلوں کی دھول

تیرے عشق نے سب بل دیے نکال

بوجھ

رام کھلاون

کتاب مقدس

امتحان

عورت ذات

محسن محلہ

یادِ ماضی ’’شاد‘‘ ہے یا رب!

ہر دن نیا دن !

انار کلی

میں قتل کرنا چاہتا ہوں

میری حیرت نہیں جاتی!

کالے جوتے

میرا بیٹا ۔ سجاد حیدر خاں

تارڑ صاحب آلو بخارے

سودا بیچنے والی

محلول

ہنس مکھ

دستاویز

ماریا

تہذیب کا کردار

نیا قانون

چنگاری

میبل اور میں

میرا اور اس کا انتقام

دو مسافر

بقا کی جنگ

مدھم چراغ

اس کی بیوی

شکوہ شکایت

کافی

موسم کی شرارت

الاؤ

مقروض

ڈارلنگ

روپہلا عشق فسانہ ہے

سہیل کی سالگرہ

پیالہ

سوکھے کیکر

سویرے کل آنکھ جو میری کھلی

زندگی خوبصورت ہے

جھمکے

وہ دس روپے

کتے

بھوک

انجام بخیر

دست زلیخا

تکیہ کلام

سینما کا عشق

آنکھوں دیکھی کانوں سنی

عطیہ فیضی

آخری خواہش

پھولوں کی سازش

قہقہہ

چاند کا سفر

سوا سیر گیہوں

لاجونتی

جلا وطن

بٹوے میں پڑا خط

تین میں نہ تیرہ میں

کابُلی والا

توبہ شکن

تین موٹی عورتیں

نیا موڑ

چنوں کا لفافہ

خود سے بیگانہ

بھنگن

گل رخے

بانجھ

جاؤ لوٹ جاؤ!

دست شناس

مار

انتہاکاعشق

''دھنک رنگ زندگی''

نوحہ گر۔۔۔۔۔

"ہانکاکرنےوالے ''

مجبوری

امتحان

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں

بازگشت

آنکھ کا شہتیر

1919 کی ایک بات

سپلیمنٹری کارڈ

تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمے کا بندھن

زندگی …قتل گاہ

بستی والے

سپیدہٴ سحر

تنہا راہیں

یہ لگاؤ ہے

محبت کا نیلا رنگ

چل دیے اس راہ

برف کی سِل

وہ لڑکی

نمک

گوندنی

کلیجہ چیر کے رکھ دیا

شوشو

خونی تھوک

بوتل کا جن

ایک دن

انکل انیس

اب اور تب ۔ ۔ ۔

دادی اماں

پکاسو کی بیوہ

گلابی ربن

عالیہ !!!!

ستارہ اور سفر

تیسرا پاکستان

دستک

رائٹنگ ٹیبل

چلتے ہو تو چین کو چلیے

فقیرنی

شکوہ

خاکستر افسر

جو کیا سو پایا

آتش، بارود، دھواں اور زندگی

منزل منزل

مفاد اپنا اپنا

کاش میں بیٹی نہ ہوتی

ٹوٹا ہوا دل

دوستی

بے نام سی زندگی ۔ آخری حصہ

انسان شناس

اندر کا رنگ

اِک تیرے آنے سے

آرزو تھی اُسے پانے کی ۔ حصہ دوم

آرزو تھی اُسے پانے کی ۔ حصہ اول

احسان اتنا سا کر دے

طاقت کا امتحان

اللہ دتہ

ٹھنڈا گوشت

ٹوبہ ٹیک سنگھ

سویرے جو کل میری آنکھ کھلی

اندھا فرشتہ

بے نام سی زندگی ۔ حصہ سوم

کاش

تنہائی

دھواں

جینے کی راہ

اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا

بے نام سی زندگی ۔ حصہ دوم

پانچ منٹ

بے نام سی زندگی ۔ حصہ اول

قیمتی

آج بھی کچھ نہیں پکایا؟

انسان شناس

عزم کی داستان

یار من بیا

حسن پاگل کردیتا ہے

ہاتھ کی صفائی –

یہ کوٹھے والیاں –

بات تو کچھ بھی نہیں تھی

ستاروں سے آگے

شکوہ شکایت

مٹی کی مونا لیزا

ایک ستم اور میری جاں

لوہے کا کمر بند

آنندی

دھواں اور ریل کی پٹری

شام ڈھل گئی اس پار

لحاف

مہا لکشمی کا پل

کھدّر کا کفن

آخری کوشش

حرام جادی

گڈریا

گنڈاسا

لانگ ویک اینڈ

ادرک کا سواد

صدیوں نے سزا پائی۔۔۔

اپنے دُکھ مجھے دے دو

کالی شلوار

مردم گزیدہ

پرمیشر سنگھ

بلاؤز ...........

گرل فرینڈ۔۔۔۔۔۔

یہ لگاؤ ہے ۔۔۔۔۔

تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گستاخ محبت

کچرا بابا

تعویذ

‘‘بیمار ماں’’

کھول دو

اسیر خواب

الٹی شلوار

اوور کوٹ

"حصارِ شب"

میں لوٹا نہیں ہوں!!!

عروسہ کی ‘‘گڑیا کا گھر’

تنہا راہیں!!!

ایک زاہدہ ایک فاحشہ

میرا نام رادھا ہے.....

کفن

آپا

ماں جی

عورت بے وفا کبھی نہیں ہوتی۔۔۔

آنکھوں اور عقل پر پڑا پردہ

آخری کوشش

ننھے ہاتھ

وہ سانولی لڑکی

شہرِبُتاں ..

ایم اے پاس بلی

آخری جلسہ ( آندرے گروشینکو )( . )

آخری جلسہ ( آندرے گروشینکو )

بڈھے باشکوف نے اپنی بہو سے کہا۔

’’جانتی ہو، آج کیا دن ہے! دھوپ نکل آئی ہے، میرے باہر بیٹھنے کا انتظام کر دیا؟‘‘

بہو مسکرائی۔ ’’ہاں! باہر کرسی بچھا دی ہے، کوئلے دہکا کر انگیٹھی گرم کردی ہے۔ اور کیا چاہیے بابا۔‘‘

’’بس تو پھر مجھے سہارا دے کر باہر لے چلو، آہ، یہ درد۔ تیرا گھر والا تو چلا گیا ہوگا؟‘‘

’’ہاں بابا! بچے بھی اس کے ساتھ ہی گئے ہیں۔‘‘

بہو نے بڈھے کو سہارا دے کر بستر سے اٹھایا، پھر اسے سہارا دیتی مکان کے باہر لے آئی، جہاں ایک بڑی کرسی بچھی تھی اور اس کے سامنے ایک انگیٹھی میں کوئلے دہک رہے تھے۔

’’بابا بہت بوڑھا، لیکن بہت بھاری ہوگیا تھا۔

’’بہو نے دل میں کہا اور پھر مسکراتی ہوئی گھر کے اندر چلی گئی۔

باشکوف نے سامنے کھلے میدان کی طرف دیکھا۔ چند سو گز کے فاصلے پر لوگ جمع ہورہے تھے۔ یومِ مئی کا جلسہ ہونے والا تھا۔ اس جلسے میں شریک ہونے والے بہت سے مزدور اس کے جاننے والے تھے۔ چار سال پہلے تک وہ بھی اس جلسے میں شریک ہوا کرتا تھا، حالاں کہ اسے فیکٹری سے ریٹائر ہوئے نو برس ہوچکے تھے۔ جوڑوں کے درد نے اسے کسی کام کا نہ چھوڑا تھا۔ وہی ہڈیاں اور جوڑ جو کبھی اس کی بے پناہ طاقت کے ضامن تھے، اب اس کا روگ بن چکے تھے۔ سارا دن وہ بستر پر لیٹا اِدھر اُدھر کی، ہر طرح کی کتابیں پڑھتا رہتا۔ بیٹا فیکٹری چلا جاتا، پوتے اسکول، گھر میں وہ اور بہو رہ جاتے۔ بہو بہت خدمت گزار تھی۔ اس نے بڈھے باشکوف کو اپنی بیوی کی خدمت بھلا دی تھی۔ باہر نکلنا ختم ہوچکا تھا۔ ہاں، ہر یومِ مئی کا جلسہ سننے کے لیے وہ باہر آکر بیٹھ جاتا۔ وہ جانتا تھا کہ یوں وہ اپنے ساتھیوں کی خوشیوں اور دکھوں میں شریک ہوجاتا ہے۔ پھر جلسے کے اختتام پر جلسہ کرنے والوں کو اس کی ضرورت بھی تو پڑ جاتی تھی۔

وہ مسکرانے لگا۔ اس نے ہاتھ کو حرکت دی۔ اپنے بوسیدہ اوورکوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا، جیب کے اندر کوپک گننے لگا۔ ’’گیارہ کوپک۔‘‘ اس نے گنتی ختم کی۔ 

’’ہاں۔۔۔‘‘ اس نے اپنے آپ سے کہا۔

’’اس سے زیادہ انہیں کیا ضرورت پڑے گی۔‘‘

ہر سال ایسا ہی ہوتا تھا۔ جب جلسہ ختم ہو جاتا تو جلسے کا انتظام کرنے والی کمیٹی کو پتا چلتا کہ فرنیچر اور دریوں کے کرائے کے لیے ان کے پاس کچھ پیسے کم پڑگئے ہیں۔ پھر وہ ایک دوسرے سے پیسے مانگتے، چندہ کرتے اور یوں ادائیگی کرتے تھے۔ آٹھ نو برس پہلے جب بڈھا باشکوف ریٹائر ہوچکا تھا، یہی بات ہوئی تو اس نے سب کو روک کر کہا تھا۔

’’میں اب بوڑھا ہوچکا ہوں، ملازمت سے بھی چھٹی ہوچکی۔ اپنے ساتھیوں کی جدوجہد میں عملی حصہ نہیں لے سکتا۔ اس لیے اب میں اس جدوجہد میں اسی طرح حصہ لے سکتا ہوں کہ یومِ مئی کے جلسے کے انتظامات تم کرو، جو رقم کم پڑے اس کی ادائیگی میں کیا کروں گا۔‘‘ تب سے وہ پانچ، ساتھ، آٹھ، دس کوپک دے کر یومِ مئی کے جلسے کے انعقاد میں عملی حصہ لیا کرتا تھا۔

جلسہ شروع ہوچکا تھا۔ سیکڑوں مزدور وہاں بیٹھے تھے۔ طرح طرح کی ٹوپیوں اور گنجے سروں کا ایک انسانی سمندر دکھائی دے رہا تھا۔ بڈھا باشکوف مسکرایا۔

 اس کی مسکراہٹ میں کچھ تلخی بھی تھی۔ ’’جنہوں نے ٹوپیاں پہن رکھی ہیں، ان میں سے بھی بیش تر کے سر گنجے ہیں، ہم مزدور اتنی جلدی گنجے کیوں ہو جاتے ہیں؟‘‘ 

مزدور ترانہ گارہے تھے۔ وہ توجہ سے سنتے ہوئے دل ہی دل میں گنگنانے لگا۔ وہ جذباتی سا ہورہا تھا۔ ترانے کے بعد ایک نوجوان مزدور تقریر کرنے لگا۔

’’بڑا جوش ہے بھئی اس کی باتوں میں۔‘‘ بڈھے نے دل میں کہا۔

’’کون ہے یہ نیا لیڈر۔ چلو یہ فیکٹری بھی تو دنیا کی طرح ہے۔ کوئی آتا ہے، کوئی جاتا ہے، لیکن اس کی باتوں میں جوش ہی ہے، اس طرح تو مسئلے حل نہیں ہوتے۔ خیر، جوانی کا جوش ہے۔ اس بھٹی سے تپ کر نکلے گا تو کندن بن جائے گا۔ معقولیت۔ وہ ہنسا تو اس کی سفید مونچھیں پھڑ پھڑائیں۔ معقولیت۔ کہاں ہے دنیا میں؟ جہاں بھوک ہو، غربت ہو۔ وہاں معقولیت کا گزر کیسے ہوسکتا ہے۔‘‘

اسٹیج پر آخری مقرر آگیا۔ یہ اناطولی تھا۔ سرخ لمبی ناک، جسے وہ بار بار چھونے اور سہلانے کا عادی تھا۔

اناطولی ہے مزدوروں کا لیڈر، بوڑھے نے اسے داد دی، کیا منجھا ہوا آدمی ہے، کبھی سمجھوتا نہیں کرتا، فولاد ہے فولاد۔ بڈھے باشکوف نے آنکھیں میچ لیں۔

’’کیا حسین عورت تھی اناطولی کی بیوی۔ مر گئی بے چاری۔کتنی چک پھیریاں میں نے اسے راغب کرنے کے لیے لی تھیں، مگر کیسی باوفا تھی۔ واہ۔ کیا حسینہ تھی۔ کیا وفا شعاری تھی۔‘‘ بڈھا پرانی یادوں کے نشے میں اونگھنے لگا۔ تالیوں اور نعروں کا شور سن کر وہ چونکا۔ جلسہ ختم ہوگیا۔ لوگ جانے لگے تھے۔ نعرہ لگاتے، ناچتے، گاتے۔

بہت سے لوگ اس کے پاس آئے، اسے سلام کیا۔ اس کا بھاری بھدا ہاتھ لے کر اپنے گرم ہاتھوں سے سہلایا۔ کسی نے اس کے گھٹنے چھوئے اور کوئی زمین پر پاس بیٹھ گیا۔ وہ مسکراتا رہا۔ حال احوال پوچھتا رہا اور انتظار کرتا رہا۔

وہ جانتا تھا۔ اب جلسہ کمیٹی والے حساب کتاب کر رہے ہوں گے، پھر ان میں سے کوئی ایک حسبِ روایت اس کے پاس آئے گا۔

’’بابا باشکوف صاحب۔ چھے کوپک کم ہوگئے ہیں۔ سات روبل۔ آٹھ روبل۔ دس روبل کم پڑھ گئے ہیں۔‘‘

وہ جیب میں ہاتھ ڈالے گا۔ کوپک نکال کر اسے گن کر دے دے گا۔ وہ شکریہ ادا کرکے سلام کرکے چلا جائے گا۔ 

بڈھے باشکوف نے اوورکوٹ کی جیب سے سارے کوپک نکال کر اپنی مٹھی میں لے لیے۔ 

جلسے کا میدان خالی ہو چکا تھا۔ اپنی بوڑھی آنکھیں میچ کے وہ ان چند لوگوں کو دیکھنے لگا جو اسٹیج کے نیچے سر جوڑے کھڑے تھے، وہ ان کی آواز سن نہیں سکتا تھا، اگر آواز اس تک پہنچ سکتی تو وہ سنتا کہ ایک کہہ رہا تھا:

’’پیسے تو پورے ہیں بلکہ دو کوپک بچ گئے ہیں۔‘‘ 

’’چلو اچھا ہوا۔‘‘ دوسرا مزدور بولا۔ 

’’ہر سال ہم بابا باشکوف کو تکلیف دیتے تھے۔‘‘

’’مجھے اس سے پیسے لینے میں بہت ندامت محسوس ہوتی تھی۔ بے کار ہے، بوڑھا ہے، بیمار ہے۔ ہم اس کی مدد کرنے کے بجائے الٹا اس سے۔‘‘

’’بھئی وہ خود ایسا چاہتا تھا۔‘‘

دوسرا بولا۔

’’اپنی خوشی سے دیتا تھا۔‘‘

’’اچھا بھئی فارغ کرو فرنیچر اور دریوں والے کو۔‘‘

’’ہاں۔ ہاں میں ابھی ادائیگی کر دیتا ہوں۔‘‘

’’بابا باشکوف بیٹھا ہے۔ چلو، اس سے مل آئیں۔‘‘

’’نہیں وہ سمجھے گا کہ ہم اس سے پیسے لینے آئے ہیں، شام کو مل لیں گے۔‘‘

’’ہاں ! ٹھیک ہے، شام کو مل لیں گے۔‘‘

بابا باشکوف دیکھتا رہا۔ وہ ایک ایک کرکے اس کے پاس آئے بغیر چلے گئے۔ اب اس کی نگاہوں کے سامنے خالی میدان پڑا تھا۔ کرسیاں، میزیں، اسٹیج کے تختے، دریاں، سب لادی جاچکی تھیں اور اس کے سامنے گھوڑا گاڑی وہاں سے سامان اٹھا کر چلی گئی۔

اسے یوں لگا جیسے اس کا سارا خون اس کے سَر کی طرف تیزی سے چڑھنے لگا ہے۔ جیسے وہ الٹا بیٹھا ہے، ٹھٹھر رہا ہے۔ انگھیٹی کے کوئلے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔

’’تو انہیں میری ضرورت نہیں رہی۔ میں اپنے ساتھیوں کی جدوجہد میں کسی طرح بھی شریک نہیں ہوسکتا۔‘‘

اس کا بیٹا اور پوتے، جلسے کے بعد جلوس کے ساتھ چلے گئے تھے، جب وہ واپس آئے تو بڈھے کا بھاری سَر سینے کی طرف جھکا ہوا تھا، بیٹے نے آواز دی۔ ’’بابا چلو، اب اندر چلیں۔‘‘

اس کا ایک پوتا چلایا۔ ’’دیکھو! کوپک زمین پر گرے ہیں۔‘‘ کچھ کوپک اس کی مٹھی میں بھی موجود تھے۔

وہ مَر چکا تھا۔