سہ تار سے ستار تک

سہ تار سے ستار تک

’’سہ تار‘‘ پرانے ہندی ساز وینا کی سادہ شکل ہے جسے اب ’’ستار‘‘ کہتے ہیں۔

برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کے شائقین اس ساز سے بخوبی واقف ہیں۔ آج بھی اسے بہت شوق اور دل چسپی سے سنا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ ساز امیر خسرو کا ایجاد کردہ ہے، لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خسرو کی تحریروں میں اس ساز کا ذکر نہیں ملتا اور  یہ ساز اصل میں فارس یا کاکیشیا میں مروج تھا۔ وہیں سے یہ ہندوستان میں آیا، مگر مستند محقق ستار کی ایجاد کا سہرا امیر خسرو کے سَر ہی باندھتے ہیں۔ کلاسیکی آلاتِ موسیقی کا علم رکھنے والے اور سازوں کے ماہروں کے مطابق ستار کے کدو کو تونبا کہا جاتا ہے جب کہ ایک لمبی کھوکھلی لکڑی کو ڈانڈ کہتے ہیں۔

تونبے کی چھت پر ہڈی کے دو پل سے ہوتے ہیں جو جواریاں کہلاتے ہیں، ان پر سے تاریں گزرتی ہیں۔ ڈانڈ پر لوہے یا پیتل کے قوس سے بنے ہوتے ہیں جنھیں پردے یا سندریاں کہا جاتا ہے۔ تاروں کا ایک سِرا تونبے کے پیچھے ایک کیل سے بندھا ہوتا ہے اور دوسرے کو ڈانڈ میں لگی ہوئی کھونٹیوں سے باندھ دیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں ستار کے تاروں کی تعداد تو متعیّن نہیں، مگر زیادہ تر اس میں چار تاریں، دو چکاریاں اور تیرہ طربیں رکھی جاتی ہیں۔ کہتے ہیں مغل دور سے لے کر عہدِ حاضر تک اس ساز کو کئی باکمال فن کار ملے، لیکن آئندہ  برسوں میں شاید یہ ساز سُر چھیڑنے والی انگلیوں کو بھی ترس جائے۔