روتھ فاؤ

روتھ فاؤ

در بہ در خاک بہ سر ہونے والے گھرانوں کے بچے، جان لیوا بارود اور سیسے سے بھری ہوئی بے حس گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور وحشت ناک آگ برساتے موت بانٹتے آسمان سے برستے ہوئے بموں کے درمیان پلنے والے بچے، جو دوست دشمن، مذہب و ملت، چھوٹے بڑے، معصوم اور قصور وار کی تمیز سے یک سر عاری اور احساس سے محروم ہوتے ہیں، دو طرح کے احساسات سے بھر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا تو وہ بے حس گولیوں اور سفاک بموں کی طرح سے وحشی ہوجاتے ہیں، اپنے انسان ہونے کے شرف سے محروم ہوجاتے ہیں یا پھر اتنے حساس کہ ہر انسان کی چھوٹی سی تکلیف بھی انہیں آزردہ، بے چین اور مغموم کردیتی ہے۔ وہ اپنا چین کھو بیٹھتے ہیں لیکن ان دکھوں پر صرف کڑھتے نہیں ہیں بل کہ ان کو سُکھوں میں بدلنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش اور جتن کرتے ہیں۔ یوں، ان کی زندگی بس دوسرے انسانوں کے سکھ چین کے لیے وقف ہوجاتی ہے۔ بدقسمتی سے ایسے لوگ نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہوتے ہیں۔

ان کا بچپن بھی کچھ ایسا ہی تھا، جب ہر طرف وحشت پائوں میں بم باندھ کر اپنے مکروہ چہرے کو انسانی خون کی لالی سے سجا کر بدمست ہوکر ننگا ناچ رہی تھی۔ ایسی قیامت میں انسانوں کا جم غفیر ہجرت کا عذاب سہہ رہا تھا۔ ڈاکٹر رُوتھ کیتھرینا مارتھا فائو کا خاندان بھی ایسے ہی اندوہناک حالات اور غیر یقینی صورت حال کا شکار تھا، یہی وجہ تھی کہ انہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد روسی تسلط والے مشرقی جرمنی سے فرار ہونا پڑا تھا۔

مسیحا روتھ فائو واقعی مریم مقدس کے قلبِِ مطہّر کی بیٹی تھیں، اسی لیے تو انہوں نے ’’ دخترانِ قلب مریم‘‘ نامی سماجی تنظیم سے سُکھ بانٹنا شروع کیا تھا۔ وہ ڈاکٹر تھیں لیکن وہ ڈاکٹر نہیں جو دور حاضر میں دوائیں بنانے والی عالمی استحصالی کمپنیوں کے سیلز ایجنٹ بن گئے ہیں۔ نہیں، وہ ایسی ڈاکٹر نہیں تھیں۔ انہوں نے تو مسیحا بننا تھا اس لیے کہ وہ اُس پیغمبر کی پیروکار تھیں جسے مسیحا کہا جاتا ہے۔ اور وہ تھے بھی تو ایک ایسے مسیحا جو یک سر بے غرض، بے لوث اور بے نیاز تھے۔ ڈاکٹر روتھ فائو نے جناب عیسیؑ، جو روح اﷲ تھے، کی پیروی کا حق ادا کردیا۔ انہوں نے اپنا سکھ چین، آرام و سکون انسانیت کے لیے تج دیا اور نہ صرف چین و سکون بل کہ اپنی ساری چھوٹی بڑی خواہشات بھی نادار انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے قربان کردیں۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں ان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے شادی کیوں نہیں کی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا : ’’شادی میں میرا فائدہ اور نہ کرنے میں لوگوں کا فائدہ تھا، میں نے لوگوں کے فائدے کا انتخاب کیا، اس لیے شادی نہیں کی۔‘‘

وہ بھی ہماری طرح گوشت پوست کی بنی ہوئی تھیں اور ان کا دل بھی دھڑکتا تھا لیکن ہماری طرح نہیں کہ بس اپنے لیے جیے جاتے ہیں اور بے مقصد۔ ہم اپنے دو دھیلے کسی کے لیے قربان نہیں کرتے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا پورا خزانہ انسانیت کے لیے لٹا دیا اور بغیر کسی صلے اور ستائش کے۔ وہ واقعی بے غرض، بے نیاز اور بے لوث تھیں۔

بابائے انسانیت جناب عبدالستار ایدھی کی وفات پر صحافی فرنود عالم کی روایت کے مطابق انہوں نے ڈاکٹر بخت سرور سے کہا تھا ’’ میں نے جو کیا صلے کے لیے نہیں بھلے کے لیے کیا، صلہ صرف خداوند دے سکتا ہے، خداوند مجھے وہیں رکھے، جہاں ایدھی صاحب کو رکھیں گے۔ ‘‘

اور کسے کہتے ہیں خاک ساری۔۔۔۔۔۔!

ڈاکٹر روتھ فائو کی آخری تین خواہشات تھیں کہ انہیں وینٹی لیٹر یعنی مصنوعی تنفس پر نہ رکھا جائے، ان کے جسد خاکی کو میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر لایا جائے اور انہیں سرخ جوڑے میں سپرد خاک کیا جائے۔ سادگی دیکھیے اور کسے کہتے ہیں سادگی۔ موت سے بے خوف ہونا اور کسے کہتے ہیں۔ وہ کسی بھی حالت میں مصنوعی زندگی کی قائل نہیں تھیں، اسی لیے انہوں نے مصنوعی تنفس کو بھی گوارا نہ کیا۔ وہ حقیقی زندگی بسر کرنا چاہتی تھیں اور انہوں نے ایسا کیا بھی۔

میں سوچتا ہوں، اگر وہ شادی کر بھی لیتیں تو ان کے کتنے بچے ہوجاتے۔ لیکن اب ہر طرف ان کے ہزاروں نہیں لاکھوں بیٹے اور بیٹیاں ہر جگہ موجود ہیں، اور ان کا وجود ہر سمت سے ’’ماں، ماں‘‘ کی صدا سماعت کرتا ہے۔ وہ کیسی قسمت کی دھنی تھیں۔ کبیر داس نے کہا تھا، ’’ جب میں دنیا میں وارد ہوا تو میں رو رہا تھا، لیکن میری خواہش ہے کہ میں ہنستا ہوا رخصت ہوجائوں اور میرے پیچھے دنیا روئے۔‘‘

وہ کہیں نہیں گئیں، یہاں یہ سامنے شہر کے وسط میں گورا قبرستان میں بسیرا کر لیا ہے۔ اب مجھ پر کھلا کہ انہوں نے گورا قبرستان کا انتخاب کیوں کیا۔۔۔؟ اس لیے کہ وہ شہر کے وسط میں رہ کر پورے شہر کے دکھی لوگوں اور اپنے بیٹے بیٹیوں پر نظر رکھ سکیں۔ مائیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ہاں، دریا چاہے کتنا ہی خشک ہوجائے اس کی تہ نم ہی رہتی ہے۔ روتھ فائو ماں تو سمندر تھیں اور سمندر کے قُرب کو پسند بھی کیا تو بس شانت ہوجائیے اور ہاں ان کی جلائی ہوئی شمعوں کو روشن رکھیے کہ اگر کسی نے کوئی ذرا سی بھی کوتاہی کی تو وہ یہیں موجود ہیں، خاطر جمع رکھیے وہ کہیں نہیں گئیں، ہمارے آس پاس ہی موجود ہیں۔

اور ہاں ماں تو بہت مصروف ہیں۔ تو کبھی ان کی ضرورت ہو یا کوئی مشکل آن پڑے تو چلے جائیے گا ان سے ملنے کہ یہ سامنے ہی تو گورا قبرستان ہے اور یہ تو ماں کا حق ہوتا ہی کہ وقتاً فوقتاً ان کی قدم بوسی کی جائے کہ یہی سعادت شعار بچوں کا طریق ہے۔ ہم آپ کو الوداع نہیں کہہ سکتے ماں کہ آپ ہمارے درمیان تھیں، ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔

ہاں ماں، ہم سب گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے حق ادا کردیا، اور ایسے کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہوگی۔

میں رخصت ہوا:

یہ جہاں ایک تماشا ہے، سبھی کہتے ہیں

تم نہ ہوتے تو اسے ہم بھی تماشا کہتے