طلعت محمود، نام وَر گلوکار۔۔۔ناکام اداکار!

طلعت محمود، نام وَر گلوکار۔۔۔ناکام اداکار!

خوب صورتی اور وجاہت کچھ کام نہ آئی۔ درجن سے زائد فلموں میں موقع دیا گیا، لیکن طلعت محمود اپنی اداکاری سے کسی کو متأثر نہ کرسکے۔ اس میدان سے تو وہ نامراد لوٹے، لیکن سُر اور آواز کی دنیا میں انہیں باکمال اور بے مثال مانا گیا۔

 برصغیر کی اس خوب صورت آواز نے مشہور فلم ساز اے آر کاردان کے کہنے پر اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ ان کے اصرار پر طلعت محمود نے 1945ء میں فلم راج لکشمی سائن کی اور پردے پر ہیرو کے روپ میں نظر آئے۔ ممبئی کی فلمی دنیا میں ان کے اس فیصلے کا تو بہت شور ہوا، لیکن بڑے پردے پر اداکار کے روپ میں انہیں پزیرائی نہ ملی۔

پہلی فلم کی ناکامی کے باوجود طلعت محمود کو بڑے بینر تلے مزید فلموں میں رول دیے گئے، لیکن وہ اپنی جگہ نہیں بناسکے۔ لالہ رخ، ایک گاؤں کی کہانی، دیوالی کی رات، وارث، سونے کی چڑیا، ٹھوکر وہ فلمیں ہیں جن میں طلعت محمود نوتن، مالا سنہا اور ثریا جیسی مشہور ایکٹریسوں کے ساتھ کام کیا۔ اداکاری سے پہلے ہی ان کی آواز میں ایک غیر فلمی گیت مشہور ہو چکا تھا۔

اس کے بول تھے: تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی۔۔۔ تاہم بولی وڈ میں بہ طور گلوکار ان کی شہرت کا آغاز فلم ’’آرزو‘‘ کے گیت ’’اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو‘‘ سے ہوا۔ یہ 1950ء کی بات ہے۔ فلم ’’داغ‘‘ کے لیے انہوں نے ’’اے میرے دل کہیں اور چل‘‘ اور ’’ہم درد کے ماروں کا‘‘ جیسے گیتوں کو اپنی آواز دی اور ہر طرف ان کا چرچا ہونے لگا۔ 

طلعت محمود کے والد آل انڈیا ریڈیو پر نعتیں پڑھا کرتے تھے۔ لکھنؤ کے طلعت کو بچپن ہی سے گانے کا شوق ہو گیا اور ایک وقت آیا کہ فلم انڈسٹری کے بڑے ناموں اور گائیکوں نے ان کے کمال فن کا اعتراف کیا۔ یہ 1940ء کی بات ہے جب ان کی عمر 16برس تھی۔ آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ سے طلعت محمود کی آواز میں گیت نشر ہوا۔ ان دنوں کولکتہ فلموں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ اپنی ابتدائی کام یابیوں کے بعد وہاں قسمت آزمانے پہنچے، تقسیمِ ہند کے وقت لکھنؤ لوٹنا پڑا اور پھر 1950ء میں کولکتہ کے بجائے ممبئی کا رُخ کیا، جہاں نہ صرف اپنی آواز کا جادو جگایا بلکہ اداکاری بھی کی۔ تاہم اس شعبے میں ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔

24 فروری 1924ء کو اس دنیا میں آنکھ کھولنے والے طلعت محمود کی زندگی کا سفر 1998ء میں تمام ہوگیا۔