موسیقی۔۔۔جرائم کے خلاف ہتھیار!

موسیقی۔۔۔جرائم کے خلاف ہتھیار!

یہ وینزویلا کی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت اور ان کے موسیقی کے ذریعے سماجی تبدیلی لانے کے نظریے کا تذکرہ ہے جو عملی زندگی کے مختلف شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں اور متعدد محاذوں پر سرگرمِ عمل ہیں۔



ان میں تعلیم، اقتصادیات، سیاست اور فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبے خصوصاً موسیقی شامل ہے۔ Jose Antonio Abreu اپنے فلسفۂ حیات اور نظریات سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے اور سماجی خدمات کے حوالے سے پہنچانے جاتے ہیں۔ 1939 میں پیدا ہونے والےJose  نے لگ بھگ تیس برس قبل وینزویلا میں عام برائیوں اور سنگین نوعیت کے جرائم کی روک تھام کے لیے موسیقی کا سہارا لینے کا نظریہ پیش کیا تھا۔ 

ان دنوں ملک میں ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا۔ نوجوان منشیات کے استعمال کے ساتھ جرائم پیشہ گروہوں میں شامل ہو رہے تھے اور حکومت اور انتظامیہ امن و امان کے قیام میں ناکام ہوچکی تھی۔ سرکاری اداروں میں کرپشن بہت بڑھ گئی تھی اور گینگ وار میں روزانہ ہلاکتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ ان حالات میں حکومت نے Jose Antonio Abreu کی بات مان لی، لیکن اس حوالے سے انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا اور لوگوں نے اسے ایک احمقانہ تصور قرار دیا۔ تاہم حکومت نے دو برس کی عمر ہی سے بچوں کو مفت موسیقی کی تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کردیا۔ 

یہ بچے روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ آرکسٹرا مشق کرتے ہیں اور نصابی تعلیم کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے اس موسیقی کے بھی مزید مراحل سیکھتے ہیں۔ اس کے لیے اسکولز میں ماہر سازندوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس نظریۂ تعلیم میں سماج کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ ایک دوسرے کا احترام اور باہمی تعاون اس تعلیمی عمل کا حصہ ہے۔ آج بھی اگرچہ وینزویلا قانون شکنی اور جرم سے آزاد نہیں ہو سکا ہے، مگر پہلے کے مقابلے میں کافی بہتری آچکی ہے۔ 

دوسری طرف ملک میں کئی پیشہ وَر آرکسٹرا اس فن میں اپنی صلاحیتوں اور مہارت کا مظاہرہ کررہے ہیں اور موسیقی کی یہ صنف اگلی نسلوں میں منتقل ہورہی ہے۔ وینزویلا میں نیشنل یوتھ آرکسٹرا قائم کیا گیا ہے جس سے وابستہ نوجوان موسیقاروں کو عالمی سطح پر بھی پہچانا جاتا ہے۔ اس ادارے کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے اور اسے موسیقی کے ذریعے سماج میں مثبت تبدیلیوں اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کا مرکز مانا جاتا ہے۔

Jose  خود بھی موسیقی کے مختلف سازوں کے ماہر ہیں اور مختلف آرکسٹرا گروپس کے ساتھ پرفارم کرتے رہے ہیں۔ آرکسٹرا میں کئی آلاتِ موسیقی بجانے والے اکٹھے ہو کر مختلف تمثیلوں، ترانوں اور نغموں پر خوب صورت دھنیں بکھیرتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر باجے، ضربی ساز اور انگلیوں کی حرکت سے تاروں کو چھیڑکر مخصوص سُر یا دھنیں نکالنے والے ساز شامل ہیں۔