منٹو… دلدل کا کنول

منٹو… دلدل کا کنول

سعادت حسن منٹو غلط زمانے میں پیدا ہوا اور صحیح وقت پر دنیا سے چلا گیا۔ اْس کے جانے کی خبر سن کر مجھے دْکھ تو بہت ہوا لیکن تعجب قطعاً نہیں۔ 


ہماری آخری ملاقات کراچی میں ہوئی تھی۔ اْسے دیکھ کر میں یہ سمجھ گیاکہ اب اِس کا چل چلاؤہے۔میں یہ دعویٰ تو نہیں کر سکتا کہ منٹو کا بڑا قریبی اور گہرا دوست ہوں۔البتہ یہ ضرور ہے کہ منٹو کی موت سے دو سال پہلے جب مجھے روز گار کی تلاش میں لاہور جانا پڑا تو منٹو کی بیشتر شامیں اْس ہوٹل کے کمرے میں گزرتیں جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا۔منٹو پر ان دنوں گھر والوں کی طرف سے بڑی سخت پابندیاں 

عائد تھیں، اسی لیے اْس نے میرے کمرے کو جائے پناہ اور مے خانہ بنا لیا۔


اْن دنوں منٹوکی ایک کتاب مشہور فلمسٹار سے متعلق شائع ہوئی تھی۔کتاب پڑھنے کے بعد میں نے منٹو سے کہا:’’تمہاری یہ کتاب محض بکواس ہے۔ اب تم ہتک ،بابو گوپی ناتھ اورموذیل جیسے لافانی افسانے کیوں نہیں لکھتے؟فلمسٹاروں کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو؟‘‘ 


منٹونے کہا: ’’یار اب گوپی ناتھ کے مقابلے میں فلمسٹار آسانی سے بِک جاتے ہیں۔‘‘ 


میں نے جل کرکہا: ’’فلمسٹاروں سے زیادہ تو تم بِکتے ہو سعادت، مجھے یہ دیکھ کر دْکھ ہوتا ہے کہ تم اب ادب کی شاہراہ پر خوشیا، سوگندھی ، موذیل جیسے یاد گار مجسمے نصب کرنے کے بجائے پرانے بغداد کے بردہ فروش تاجر کی طرح آوازیں لگاتے ہوئے اپنے دوستوں کے اجسام سرِبازار نیلام کر رہے ہو۔‘‘


منٹو یہ سن جِھلّا اْٹھا۔ یہ اْس کی عادت تھی۔ جب اْس کی تحریر کی برائی کی جاتی تو وہ ایک دم غصّے میں آتا اور لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتا ۔ لیکن تھوڑی دیر بعد وہ پھر اپنے آپ میں لوٹ آتااور کہتا: ’’ادب و دب سب بکواس ہے۔ انسان بڑی چیز ہے۔ اٹھاؤ گلاس اور مارو جھک۔‘‘ 


منٹو کے کردار کے بارے میں بے شمار لوگوں کو، جو اْسے شخصی طور پر نہیں جانتے ، اْس کی تحریروں کے باعث بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ بڑا غلط قسم کا شرابی ، بے حد آوارہ، زن کارَسیا اور غلیظ لباس انسان تھا۔ ملنے سے پہلے میرا تصوّر بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ لیکن جب میں منٹوسے ملا اور ملتا رہا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ دلدل کا کنول ہے۔


بوتلوں کے علاوہ اس کی کہانیوں میں اکثر و بیشتر آوارہ عورتیں نظر آتی ہیں ،فحش گالیوں کا شور سنائی دیتا ہے۔لیکن افسانے سے باہر لاہور کی ہال روڈ کے عقب میں واقع لکشمی مینشن کے کونے کے فلیٹ کا دروازہ کھٹکاتا ہوں تو اندر سے وہ منٹو باہر نکلتا جو بے حد صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس ہوتا۔ میں نے کسی دن بھی منٹو کے اْجلے لباس پر میل کا ہلکا سا دھبّہ تک نہیں دیکھا۔ وہ اچھے فرنیچر سے آراستہ مکان میں رہتا تھا۔ ایک بے حد شریف بیوی کا وفادار شوہر اور تین پیاری ننھی بچیوں کا نہایت مشفق باپ تھا۔ اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھیے تو وہ یہ تک گوارا نہیںکرتا کہ کوئی سگریٹ کی راکھ ایش ٹرے کے بجائے فرش پر جھاڑ دے۔ ایک بار مجھ سے سگریٹ کی راکھ فرش پر گر پڑی تو منٹو نے میرے ہاتھ میں جھاڑو پکڑا دی کہ چلو یہ فرش صاف کرو۔


میں سمجھتا ہوں کہ منٹو کی شخصی اور ذہنی زندگی میں یہ تضاد ہی منٹو کی تخلیق کا باعث ہے۔ گویا شخصی اور ذہنی زندگی کے ٹکراؤ سے ہی سعادت حسن میں ایک منٹو نے جنم لیا۔منٹوکے لیے دنیا میں شاید سب سے زیادہ پیاری چیزبوتل ہی تھی۔ اور میرا یہ ماننا ہے کہ زندگی خود بھی اس کے لیے ایک بوتل تھی، جسے وہ بڑے مزے لے لے کر پیتا اور اس کے نشے کو کہانیوں کی شکل میں اپنے اردگرد بکھیرتا رہا۔


لیکن زندگی کے ہر معاملے میں متلون مزاج اور عجلت پسند منٹو ڈسٹلری کی مے کی طرح زندگی کی شراب کو بھی تیز تیز،جلدی جلدی پیتا گیا اور ساٹھ، ستر، اسّی، نوے اور شاید ایک سو سال تک نشہ دینے والی بوتل اس نے صرف 43 سال میں ختم کر دی۔ منٹو کے رشتے داروں اور عقیدت مندوں نے اس خالی بوتل کو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پھینکنے کے بجائے احتراماً میانی صاحب کے قبرستان میں مٹی کے ایک ڈھیر تلے چھپا دیا۔ بوتل توچھپ گئی لیکن اس کا نشہ جس کا نام منٹو ہے، ادب کی دنیا پر بدستور طاری ہے اور ہمیشہ چھایا رہے گا۔


(از’’آسمان کے باشندے‘‘ ،مطبوعہ 1973ء)