غلاموں کا دیس ۔ ۔ ۔ ۔ بنگلا دیش

غلاموں کا دیس ۔ ۔ ۔ ۔ بنگلا دیش

لائی چی کوک ہانگ کانگ کا مشہور صنعتی علاقہ ہے۔ اس علاقے میں معروف کمپنیوں کے دفاتر واقع ہیں۔ ملبوسات کی خرید و فروخت میں سرگرم عمل بین الاقوامی کمپنی‘ ٹاپ گریڈ انٹرنیشنل انٹرپرائیزز(top grade international enterprise ltd) کا صدردفتر بھی یہیں ہے۔ یہ کمپنی ایشیائی ممالک خصوصاً بنگلہ دیش اور ویت نام سے سستے ملبوسات اور کپڑا خرید کر یورپی ممالک میں فروخت کرتی ہے۔


پچھلے دس برس میں ملبوسات کے شعبے میں انقلابی تبدیلی آ چکی۔ ٹاپ برانڈ انٹرنیشنل کا چینی مالک‘ لوئی ونگ بار اس انقلاب سے بخوبی واقف ہے ۔ وہ بتاتا ہے’’دس سال پہلے یورپ کا باشندہ پانچ ڈالر میں صرف ٹی شرٹ ہی خرید پاتا تھا۔ لیکن آج وہ پانچ چھ ڈالر میں سویٹر جبکہ دس بارہ ڈالر میں جیکٹ تک خرید لیتا ہے۔‘‘


ملبوسات سستے ہونے کا انقلاب اس لیے آیا کہ چین اور بنگلہ دیش کے کارخانوں میں وسیع پیمانے پر کم داموں والے تیار شدہ (ریڈی میڈ) کپڑے بننے لگے۔ آج دنیا میں چین اور بنگلہ دیش ہی میں سب سے زیادہ ملبوسات تیار ہوتے ہیں۔ لیکن خصوصاً بنگلہ دیش میں اس تبدیلی کے مثبت مادی اثرات سے صرف مٹھی بھر بااثر اور دولت مند طبقہ ہی مستفید ہو رہا ہے۔ عوام پہ استحصال کی یہ داستان نہایت دردناک ہے۔ یہ اجاگر کرتی ہے کہ بنگلہ دیش میں بھی ایسا طاقتور حکمران طبقہ جنم لے چکا جو 99 فیصد ملکی وسائل سے فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ 1 فیصد وسائل کے ثمرات ہی بقیہ آبادی تک پہنچ پاتے ہیں۔ اس بنگلہ دیشی طاقتور طبقے کا طریق واردات بڑا ظالمانہ اور نا منصفانہ ہے۔

The textile factory machines produce an intolerable degree of uproarious noise and piercing echoes at the working place of Sobuj (13 years old). Further suffering is endured from the excessive heat; a daily and miserable factor. Textile factory workers start their day at 8 AM and finish at 8 PM. During these working hours these children try to heal the pain of the noise and the heat by knowing that they will be rewarded with earnings of 1’200 taka per month (about US $15). Dhaka, Bangladesh


’’بنگلہ بندھو‘‘شیخ مجیب الرحمن نے یہ دعویٰ کرکے مشرقی پاکستان کو کشت و خون کے ذریعے بنگلہ دیش میں ڈھالا تھا کہ وہاں عوام عدل وانصاف حاصل کر پائیں گے۔ترقی کے ثمرات سبھی باشندوں میں برابر تقسیم ہوں گے۔مگر حقیقت برعکس سامنے آئی۔نئی مملکت میں بھی طاقتور طبقے نے سارے قومی وسائل پر قبضہ کر لیا اور عوام کو مونگ پھلی دے کر بہلایا جانے لگا۔حیرت انگیز امر یہ کہ آج بنگلہ دیش میں بنگلہ بندھو کی بیٹی نے اقتدار سنبھال رکھا ہے مگر وہ بھی غریبوں کے استحصال میں پیش پیش ہے۔

Angels in hell Child labour in Bangladesh (9)دس سال پہلے بنگلہ دیش میں ملبوسات اور کپڑا بنانے والی فیکٹریاں آج کے مانند ہزاروں کی تعداد میں نہیں تھیں۔ دراصل 2008ء میں جب دنیا بھر معاشی بحران آیا‘ تو اس کے بعد چین میں فیکٹری کارکنان زیادہ تنخواہوں کا مطالبہ کرنے لگے۔ چینی حکومت کے دباؤ پر فیکٹری مالکان کو کارکنوں کی مانگیں پوری کرنا پڑیں ۔تنخواہیں بڑھنے سے ملبوسات کی تیاری پر آنے والی لاگت بڑھ گئی۔

heartbreaking photos of Child labour in Bangladesh (14)اس دوران چین میں ایک اور بڑی تبدیلی یہ آئی کہ سرمایہ دار الیکٹرونکس‘ کمپیوٹر اور دیگر’’ہائی اینڈ‘‘ اشیا بنانے والے کارخانے قائم کرنے لگے۔ چنانچہ ملبوسات تیار کرنے والی فیکٹریاں بند ہونے لگیں۔تیسرا اہم رجحان یہ سامنے آیا کہ بعض مالکان اپنی فیکٹریاں ویت نام یا بنگلہ دیش لے گئے کیونکہ وہاں افرادی قوت کی تنخواہیں کم تھیں۔ مزید براں اصول و قوانین اور سرکاری پابندیوں کے کمزور یا بالکل ہی نہ ہونے کی بنا پر فیکٹری چلانا بھی آسان تھا۔

Joy (16 years old) started working in the factory when he was 6 years old. He could not remember his bitter childhood except the torture from his drunken father. His mother flew away with her son after she lost all her patience of being beaten up daily. Two years ago Joy lost his one hand during his dangerous work and still he is happy that the factory owner does not fire him from the job. Willfully Joy earns 100 taka (US$1.30) daily for his tuberculosis-ridden mother. Dhaka, Bangladesh

چین میں اگر فیکٹری چلانے پر دس لاکھ ڈالر ماہانہ لگتے تھے‘ تو بنگلہ دیش میں یہی کام صرف پانچ لاکھ ڈالر میں ہونے لگا۔ گویا اخراجات میں پچاس فیصد تک کمی آ گئی ۔ یہ فائدہ دیکھ کر چینی ہی نہیں دیگرممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ داروں نے بھی بنگلہ دیش میں مبلوسات یا کپڑا بنانے والی فیکٹریاں یا اپنی کمپنیوں کے دفاتر کھول لیے۔وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ آج ان کی تعداد دس ہزار تک پہنچ چکی۔

Shocking Photographs of Child Labour in Bangladesh (1)


بنگلہ دیش ماضی میں غریب مملکت رہاہے ۔جب یہ پہلے بنگال اور پھر مشرقی پاکستان کی صورت نقشے پر موجود تھا‘ تو بیشتر بنگالیوں کا ذریعہ معاش کاشت کاری رہا۔ اس پیشے سے عوام کو بس اتنی ہی یافت ہوتی کہ جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھا جا سکے۔ بے محابا غربت کے باعث ہی مشرقی پاکستان کے باسی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ مغربی پاکستان کے سرمایہ داروں اور صنعت کاروں نے وہاں جا کر فیکٹریاں اور کارخانے کھولے‘ تو صنعت و تجارت کی داغ بیل پڑی۔ سستی افرادی قوت کی کشش ہی مغربی پاکستان کے صنعت کاروں کو بھی مشرقی پاکستان کھینچ لے گئی تھی۔


جب بنگلہ دیش وجود میں آیا‘ تو غیر ملکی سرمایہ کار بھی نوزائیدہ مملکت پہنچ کر نئے کارخانے کھولنے لگے۔ رفتہ رفتہ ملبوسات اور کپڑا تیار کرنے والی فیکٹریاں کھولنا رجحان بن گیا۔ یوں بنگلہ دیش عالمی سطح پر گارمنٹس یا ٹیکسٹائل انڈسٹری میں نمایاں نام بن کر نمودار ہونے لگا اور جب چینی سرمایہ داروں اور صنعت کاروں نے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے منہ موڑا‘ تو بنگلہ دیش کو مزید اوپر آنے کا موقع مل گیا۔


آج بنگلہ دیش کے شہروں مثلاً ڈھاکہ‘ چٹاگانگ اور کھلنا وغیرہ میں اندرونی و مضافاتی علاقوں میں مختلف اقسام کے ملبوسات اور کپڑے بنانے والی ہزار ہا فیکٹریاں کھل چکیں۔ ان میں تقریباً پچاس لاکھ بنگلہ دیشی کام کرتے ہیں۔ گویا کم از کم ڈھائی تین کروڑ بنگلہ دیشیوں کی گذران کا دار و مدار انہی فیکٹریوں پر ہے۔


ان فیکٹریوں کی بدولت ہی بنگلہ دیش اس قابل ہو سکا کہ اس کی برآمدات کی مالیت آج تقریباً ’’چالیس ارب ڈالر‘‘ تک پہنچ چکی ہے۔ (اس کے برعکس پاکستان کی برآمدات مسلسل گھٹ رہی ہیں اور ان کا عدد سولہ تابیس ارب ڈالر کے مابین ہے۔) بنگلہ دیش کی کل برآمدات میں ملبوسات وکپڑوں کی برآمد کا حصّہ ’’90‘‘ ہے۔ یعنی بنگلہ دیش اپنی گارمنٹس انڈسٹری سے سالانہ 36 ارب ڈالر کا غیر ملکی زرمبادلہ کمانے لگا ہے جبکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری سالانہ 10 یا 11ارب ڈالر کے مابین کمائی کر رہی ہے۔ گویا بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اپنے سابقہ ساتھی کے مقابلے میں کہیں آگے نکل چکی۔ یہ پاکستانی حکمران طبقے کے لیے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اسے ہی عام طور پر متحدہ پاکستان توڑنے کا قصور وار سمجھا جاتا ہے۔


گارمنٹس یا ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی و بڑھوتری سے بنگلہ دیش میں خاصی خوشحالی آئی ہے۔ملک میں متوسط طبقے نے جنم لیا اور ہزار ہا غریب بھی غربت کے پنجوں سے آزاد ہوگئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ گارمنٹس انڈسٹری سے وابستہ 99 فیصد کارکنوں کی تنخواہیں بہت کم ہیں۔ صرف 1 فیصد بڑی گارمنٹس فیکٹریاں اپنے ملازمین کو اچھی تنخواہ دیتی ہیں۔ بقیہ ننانوے فیصد فیکٹریوں میں ملازمین بس اتنی تنخواہ پر کام کرتے ہیں کہ ماہانہ اخراجات پورے ہوجائیں اور ان کی بنیادی ضروریات بھی پوری ہوسکیں۔اس معاملے کا تاریک و منفی پہلو یہ ہے کہ ترقی کے ثمرات بنگلہ دیش معاشرے میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوئے… بلکہ صرف دولت مندوں اور بااثر شخصیات نے فائدہ اٹھایا۔


عجیب و غریب بات یہ کہ بنگلہ دیشی حکومت نے دانستہ اپنے ملک میں صنعتی کارکنوں اور مزدوروں کی تنخواہیں کم رکھی ہوئی ہیں۔یہ خطے کے ممالک ہی نہیں دنیا میں کم ترین تنخواہ شمار ہوتی ہے۔گویا گارمنٹس انڈسٹری کے ساتھ ساتھ حکومت بھی صنعتی کارکنوں اور ہنرمندوں پر ظلم و ستم کرنے میں برابر کی شریک ہے۔ یہ طاقتور طبقہ دراصل اپنے عوام کی غربت اور معصومیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔بنگلہ دیشی وزیراعظم بڑے فخر سے دعوی کرتی ہے کہ اس کے دور حکومت میں بے انتہا معاشی ترقی ہوئی ہے۔کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ یہ ترقی غریب کارکنان کی بے بسی اور لاچاری سے فائدہ اٹھا کر بڑے ظالمانہ طور پر حاصل کی گئی۔

ایک زمانہ تھا، بنگلہ دیش میں اتنی غربت تھی کہ غریب دو وقت کی روٹی پانے کی خاطر بھی ہر قسم کی ملازمت کرنے کو تیار تھے۔ یہی وجہ ہے، جب ملک میں پہلے پہل کارخانے اور کمپنیاں کھلیں، تو انہیں نہایت سستی افرادی قوت میسر آگئی۔ یہی امر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی بنگلہ دیش لانے کا سبب بن گیا اور انہوں نے خصوصاً شعبہ گارمنٹس میں بھاری سرمایہ کاری کی اور نئے کارخانے و کمپنیاں کھول لیں۔


لیکن بھاری سرمایہ کاری کا عام بنگلہ دیشیوں کو بھی فائدہ پہنچنا چاہیے تھا۔ ایسا نہیں ہوا کیونکہ بیشتر منافع کارخانے داروں اور کمپنی مالکان کی تجوریوں میں جانے لگا۔ حکومت کی آشیرباد سے انہوں نے نہ صرف اپنے کارکنوں کی تنخواہیں کم رکھیں بلکہ اصول و قوانین پر عمل نہ کرکے سالانہ کروڑوں ٹکے (بنگلہ دیشی کرنسی) بھی بچاتے رہے۔ یوں وہ تو اس دوران ارب پتی بن گئے مگر گارمنٹس انڈسٹری کو اپنا خون پسینہ بہا کر پروان چڑھانے والے لاکھوں مرد، عورتیں اور بچے واجبی تنخواہ پر گزارہ کرتے رہے۔


سوال یہ ہے، بنگلہ دیشی حکومت نے صنعتی کارکنوں اور ہنرمندوں کی تنخواہیں بڑھانے کے لیے گارمنٹس فیکٹریوں اور کمپنیوں کے مالکان پر دبائو کیوں نہیں ڈالا؟ وجہ یہ کہ پچھلے دو عشروں کے دوران یہ مالکان سیاست میں دخیل ہوچکے۔ ان کے ہر سیاست دان سے قریبی تعلقات ہیں۔ مالکان وقتاً فوقتاً ان سیاست دانوں کو قیمتی تحائف دے کر اپنا احسان مند بنائے رکھتے ہیں۔ بعض شہروں میں تو فیکٹری مالکان پیسے کے بل پر الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچ چکے ہیں۔ گویا اب گارمنٹس فیکٹریوں کے مالکان اور سیاست دانوں کا چولی دامن جیسا ساتھ ہے۔