فیضؔ صاحب کی فلم تو فلاپ ہو گئی، مگر۔۔۔

فیضؔ صاحب کی فلم تو فلاپ ہو گئی، مگر۔۔۔

1956 میں فیض احمد فیضؔ نے فلم ساز اے جے کار دار کے ساتھ ’جاگو ہوا سویرا‘ پر کام شروع کیا۔

اس فلم کو ناقدین اور اس شعبے سے وابستہ نمایاں شخصیات نے ہر اعتبار سے فیضؔ صاحب کا اہم کارنامہ قرار دیا، لیکن بدقسمتی سے باکس آفس پر اسے کام یابی نصیب نہ مل سکی۔ اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا اسکرپٹ پاکستان میں لکھا گیا جب کہ مرکزی کردار ایک ہندوستانی اداکارہ نے نبھایا اور شوٹنگ ڈھاکا میں ہوئی، جو اس وقت کے مشرقی پاکستان کا سب سے بڑا شہر تھا۔ اس کی کہانی بنگالی رائٹر مانک بندو پادھیائے کے ناول ’بوٹ مین آف پدما‘ سے ماخوذ تھی۔ یہ بنگال ہی کے مچھیروں کی زندگی پر مبنی کہانی تھی۔ فیضؔ صاحب نے نہ صرف اس فلم کی کہانی، مکالمے اور گیت لکھے بلکہ ہدایت کاری میں بھی ہاتھ بٹایا۔ فلم کے لیے ایک برطانوی کیمرہ مین والٹر لیزلی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔


جاگو ہوا سویرا کے زیادہ تر مناظر دریائے میگھنا کے کنارے فلمائے گئے تھے جو ڈھاکا سے 30 میل کی دوری پر بہتا تھا۔ فلم کا مرکزی کردار ہندوستان کی معروف اداکارہ ترپتی مترا نے ادا کیا تھا۔


کہانی میں مچھیروں کا ایک ایسا خاندان دکھایا گیا ہے جو ایک کشتی خریدنے کے لیے سود پر رقم حاصل کرتا ہے اور پھر ساہوکار کی چیرہ دستیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔


یہ فلم بتاتی ہے کہ اس زمانے میں جب مشرقی پاکستان میں غربت اور بھوک کا راج تھا تو لوگ کیسے سود خوروں کے ظلم کا شکار ہوتے رہے۔


1958 میں یہ فلم بڑے پردے پر نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ یہ پہلی پاکستانی فلم تھی جسے آسکر ایوارڈ کے لیے بھی بھیجا گیا، لیکن وہ اس دوڑ میں شامل نہیں ہوسکی، البتہ ماسکو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اس فلم نے طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔ بین الاقوامی سطح پر فیضؔ کی اس فلم کو پزیرائی ضرور ملی، لیکن بزنس نہیں کرسکی۔


یہ فلم کراچی کے جوبلی سنیما میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، جہاں صرف تین دن ہی شو جاری رہ سکا۔ فیضؔ صاحب نے اس کے بعد  دستاویزی فلمیں تو بنائیں، لیکن فیچر فلموں سے اگلے 14 سال تک دور رہے۔


اس سال پھر برسوں پرانی اس فلم کا چرچا ہورہا ہے جس کا سبب دی برٹش فلم انسٹیٹیوٹ کا میلہ ہے۔ یہ فلم اس میلے میں 26 اور 28 اگست کو نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔