فضائل حج

فضائل حج

حج، اسلام کے اُن پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے جن پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔ اِس کی فضیلت و اہمیت کے حوالے سے اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ اوّل البشر حضرت آدم ؑ یا حضرت ابراہیم ؑ سے لے کر رسول اکرم ؐ تک تمام یا اکثر انبیائے کرام ؑ نے حج ادا فرمایا ہے۔ ( روح المعانی (


اُمت محمدی ؐ پر حج کی فرضیت کا حکم کس وقت نازل ہوا ؟ اس کے بارے میں اہل علم کے مختلف اقوال تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ حج کی فرضیت کا حکم سنہ پانچ ہجری میں نازل ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ سنہ چھے ہجری میں نازل ہوا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ سنہ سات ہجری میں نازل ہوا۔ چوتھا قول یہ ہے کہ سنہ آٹھ ہجری میں نازل ہوا۔ پانچواں قول یہ ہے کہ سنہ نو ہجری میں نازل ہوا۔ تاہم اکثر و بیشتر حضرات اہل علم نے دوسرے قول کو ترجیح دی ہے اور فرمایا ہے کہ حج کی فرضیت کا حکم سنہ چھے ہجری میں نازل ہوا۔ ( روح المعانی  (

قرآن و حدیث میں جہاں حج ادا کرنے کی بہت زیادہ تاکید، اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی گئی ہے تو وہیں اُس کے ترک کرنے پر سخت سزائیں اور وعیدیں بھی ذکر فرمائی گئی ہے۔


قرآنِ مجید میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے، مفہوم: ’’ اور لوگوں میں سے جو لوگ اس (بیت اﷲ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اﷲ کے لیے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔ اور اگر کوئی انکار کرے تو اﷲ دُنیا جہان کے تمام لوگوں سے بے پروا ہے۔‘‘ (سورۂ آل عمران(


قرآنِ مجید میں حضرت ابراہیم ؑ سے اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں، مفہوم : ’’ اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دُور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی اُن اُونٹنیوں پر سوار ہوکر آئیں جو (لمبے سفر سے ) دُبلی ہوگئی ہوں۔‘‘ (سورۃ الح ) 


چناں چہ یہی ہوا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکم خداوندی سے اعلان فرمایا تو دیکھتے ہی دیکھتے زمین کے دُور دراز علاقوں سے حج و عمرہ کی ادائی کے لیے فرزندانِ اسلام قطار اندر قطار، جوق در جوق تلبیہ پڑھتے ہوئے آپہنچے۔

حضرت عبد اﷲ بن عباس ؓ فرماتے ہیں : ’’جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اﷲ کی تعمیر سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے عرض کی کہ : ’’اے میرے رب! میں (بیت اﷲ کی تعمیر سے) فارغ ہوچکا ہوں ۔‘‘

اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ آپ لوگوں میں حج کا اعلان فرما دیجیے۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا : ’’اے میرے رب! کیا میری آواز تمام ( تمام لوگوں تک) پہنچ جائے گی۔ ؟‘‘

اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : ’’آپ اعلان فرمائیے! آواز کا پہنچانا ہمارا کام ہے۔‘‘ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا : ’’اے میرے رب! میں کیسے اعلان کروں؟‘‘

اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : ’’آپ یہ کہیں کہ: ’’اے لوگو! تم پر بیت عتیق (یعنی بیت اﷲ) کا حج فرض کیا گیا ہے۔‘‘ 

(جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اعلان کیا تو) آپؑ کی آواز کو زمین و آسمان کے درمیان والوں سب نے سن لیا۔ دیکھتے نہیں کہ لوگ (آج بھی) زمین کے دُور دراز علاقوں سے حج و عمرہ کا تلبیہ پڑھتے ہوئے (کس طرح ) جوق در جوق (دیوانہ وار) چلے آتے ہیں ؟ ( یہ اسی اعلان کا اثر ہے۔) (مستدرک حاکم   )

اسی طرح حدیث شریف میں بھی حج کرنے کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہے۔

حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ؐ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام کی بنیاد چار باتوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ اﷲ تعالیٰ کے (آخری) رسول ہیں۔ نماز کو قائم کرنا۔ زکوٰۃ دینا۔ (بیت اﷲ شریف کا) حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘(بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی )

ایک مرتبہ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ اے محمد ؐ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ 

آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’ اسلام یہ ہے کہ آپ اس بات کی گواہی دیں کہ اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ اﷲ تعالیٰ کے (آخری) رسول ہیں۔ آپ نماز قائم کریں۔ زکوٰۃ ادا کریں ۔ رمضان المبارک کے روزے رکھیں ۔ اگر بیت اﷲ شرف کی طرف راستہ چلنے کی استطاعت رکھتے ہیں تو اُس کا حج کریں۔‘‘ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ : ’’ آپؐ نے سچ فرمایا۔‘‘(صحیح مسلم) 

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اﷲ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا، مفہوم : ’’ اے لوگو! تم پر اﷲ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے، لہٰذا حج ادا کرو!۔‘‘ (صحیح مسلم ) 

حضرت سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ  ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم : ’’نماز قائم کرو! زکوٰۃ ادا کرو! بیت اﷲ کا حج کرو ! اور اُس کا عمرہ کرو! اور ( اپنے ایمان و اعمالِ صالحہ پر) استقامت (یعنی دوام اور ہمیشگی) اختیار کرو! (اس کے نتیجے میں تمہیں مخلوق کے ساتھ معاملات میں) استقامت (یعنی دوام اور ہمیشگی ) عطاء کی جائے گی۔‘‘(معجم طبرانی  )

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے، (مفہوم) ہمیں (یعنی شہر کے لوگوں کو) رسول اﷲ ؐ سے (غیر ضروری) چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے روک دیا گیا تھا، اس لیے ہم چاہتے تھے کہ کوئی دیہاتی عقل مند شخص آئے اور وہ رسول اﷲ ﷺ سے سوال کرے اور ہم (اس کا جواب) سنیں۔ چناں چہ ایک دیہاتی آیا اور عرض کیا: ’’اے محمدؐ! ہمارے پاس آپؐ کا قاصد آیا اور اُس نے ہمیں یہ بات بتائی کہ ’’ آپؐ یہ سمجھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے آپؐ کو (اپنا) رسول بنا کر (اِس دُنیا میں) بھیجا ہے۔‘‘

آپؐ نے فرمایا کہ : ’’ اُس نے سچ کہا۔‘‘ ( اس کے علاوہ بھی اُس دیہاتی شخص نے آپؐ سے بیسیوں سوال و جواب کیے منجملہ اُن میں سے ایک یہ بھی تھا ) ’’ آپؐ کا قاصد یہ یقین ظاہر کرتا ہے کہ ہم میں سے ہر اُس شخص پر بیت اﷲ کا حج کرنا فرض ہے جو اس کی طرف راستہ چلنے قدرت و استطاعت رکھتا ہو۔‘‘

آپؐ نے فرمایا : ’’ اُس نے سچ کہا۔‘‘ (صحیح مسلم )

رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا، مفہوم : ’’جس شخص نے (خاص) اﷲ تعالیٰ کے لیے حج کیا ، اس میں نہ کوئی فحش گوئی کی اور نہ کوئی گناہ کیا تو وہ شخص اُس دن کی مانند (اپنے گھر کی طرف واپس) لوٹتا ہے، جس دن کہ اُس کی ماں نے اُس کو جنا تھا۔‘‘ (بخاری و مسلم )

 نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا، مفہوم : ’’حج اور عمرے کو ملا کر کرو! کیوں کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اِس طرح دُور کرتے ہیں جیسا کہ بھٹی سونے، چاندی اور لوہے کے میل کو دُور کرتی ہے۔ اور حج مبرور (یعنی حج مقبول) کی جزا (اور اُس کا بدلہ) جنت کے علاوہ (اور) کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ (ترمذی، نسائی )

رسولِ مقبولؐ نے ارشاد فرمایا، مفہوم : ’’جو شخص حج کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اُس کو چاہیے کہ وہ جلدی کرے۔‘‘ ( ابوداؤد، دارمی)

ایک حدیث میں حضورِ اقدسؐ کا ارشاد مروی ہے : ’’حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اﷲ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ اگر وہ دُعا مانگیں تو اﷲ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ اگر وہ استغفار کریں تو اﷲ تعالیٰ اُن کی مغفرت کردے اور اُن کو بخش دے۔‘‘ 

)الترغیب والترہیب، نسائی، ابن ماجہ (

حج چوں کہ اسلام کا انتہائی اہم اور بنیادی رکن ہے اس لیے جہاں اس کی ادائی کی اہمیت و فضیلت ثابت ہے تو وہیں اُس کے ترک کرنے اور ادا نہ کے پر سخت وعیدیں بھی احادیث و روایات میں وارد ہوئی ہیں۔ رسول اﷲ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’ جس شخص کے پاس حج کے سفر کا ضروری سامان ہو اور اُس کو سواری (یا سواری کا کرایہ ) میسر ہو جو بیت اﷲ تک اُس کو پہنچا سکے اور پھر (بھی) وہ حج نہ کرے، تو پھر چاہے وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے (اُس کے لیے برابر ہے) اور یہ اس لیے ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے، مفہوم : ’’ اور لوگوں میں سے جو لوگ اس (بیت اﷲ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں اُن پر اﷲ کے لیے اِس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔‘‘ (جامع ترمذی )

ایک اور حدیث میں آتا ہے ٗ حضرت ابو اُمامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’ جس شخص کے لیے کوئی ظاہری ضرورت حج سے مانع (رکاوٹ ڈالنے والی) نہ ہو، یا کسی ظالم بادشاہ کی طرف سے اُسے کوئی روک ٹوک نہ ہو، یا اُسے کوئی ایسا مرض لاحق نہ ہو کہ جو اُسے حج سے روک سکے اور وہ حج کیے بغیر (اسی حال میں) مرجائے تو چاہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے۔‘‘ (سنن دارمی، سنن بیہقی )

مشہور تابعی حضرت عمرو بن میمونؒ سے بھی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’جو شخص حج ادا کرنے کی قدرت اور طاقت رکھتا ہو (اس کے باوجود وہ ) حج نہ کرے تو چاہے وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے ۔‘‘( اخبارِ مکہ للفاکہیؒ   )