حاضری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

حاضری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

حاضری اور وہ بھی رب کائنات کے در کی، ایسی حاضری جس کے لیے چاہے کتنا بھی عاصی و خطاکار مسلمان ہو اس کا دل تڑپتا ضرور ہے۔ 

یہ راہ شوق ہے اس میں قدم سنبھال کے رکھ

انسان، احسان کا بندہ ہوتا ہے اگر کوئی اس پر احسان کرے، اس کے بُرے وقت میں اس کے کام آئے، اسے مشکل میں سنبھالا دے تو وہ چاہے زبان سے اس کا اعتراف نہ بھی کرے لیکن اس کا دل ضرور تشکر کے جذبات سے معمور ہوتا ہی ہے۔

رب جو کائنات کا رب ہے، جو پالن ہار ہے سارے جہاں کا، جو خالق و مالک ہے، اس کا احسان تو شمار ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے در کی حاضری کیسی بڑی سعادت کی بات ہے، بس جب وہ بلائے تو انسان رکاوٹوں کے باوجود بے اختیار کھنچا چلا جاتا اور وہاں اسے اپنا منتظر پاتا ہے، اور پھر بندہ جانے اور بندہ پرور۔ انسان کے گناہ اس کی آنکھوں سے برسنے والی برسات میں ایسے دھل جاتے ہیں کہ ان کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ ہاں اسی لیے تو کہتے ہیں۔

ایں سعادت بہ زور بازو نیست

تانہ بخشد، خدائے بخشندہ 

یعنی یہ جو ہمیں سعادت ملی ہے، یہ ہماری اپنی کوششوں اور زور بازو کا نتیجہ نہیں ہے بل کہ خدا جسے چاہے اسے اس سعادت عظیم سے معمور فرمادے۔

ہمیں تو بس وہی بارگاہ درکار ہے کہ جناب سرور عالمین ﷺ نے فرمایا کہ میرے لیے تو بس میرا رب ہی کافی ہے۔ مخبرِ صادقؐ نے بتایا کہ بس وہی ہے کارساز، پالن ہار، مشکل کشا و کارآفریں۔

رب کے سامنے کیا چُھپا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ ؟ 

کچھ بھی تو نہیں، چُھپ ہی نہیں سکتا کہ وہی بس وہی ہے ہر شے کی جزیات تک کو جاننے اور دیکھنے والا، لطیف و علیم و خبیر رب کہ جس کی بارگاہ میں پہنچنا ہی سعادت ہے۔ اور جب کوئی اس دربار میں حاضر ہوجائے تو وہاں کچھ بتاتے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر کوئی چیخ چیخ کر کہنا چاہے تو کوئی پابندی بھی نہیں کہ میری زندگی اجیرن ہوگئی ہے کہ تُونے تو میرے لیے سُکھ لکھا تھا لیکن میں نے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اپنی زندگی برباد کردی، ہاں میں اعتراف جرم کرتا ہوں، ہاں میں اقراری مجرم ہوں کہ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اور ہاں میں سزا کے قابل ہوں، لیکن اے میرے رب تُو تو داتا ہے، رحیم ہے ناں، کریم ہے ناں تو بس مجھے اپنے کرم سے معاف فرما دے کہ بس تُو ہی معاف کرنے والا ہے اور معاف کردینے والوں کو بھی پسند کرتا ہے، تو بس میری زندگی بدل دے مولا، میرا دل بدل دے۔ آنسوئوں کی رم جھم میں پکارتے رہیے تو سکینت اترتی ہے اور بلاشبہ اترتی ہے۔ اس لیے کہ وہ در کریم و رحیم ہے اور وہاں سے کوئی بھی، ہاں کوئی بھی خالی دامن نہیں لوٹتا تو بس فرمایا گیا کہ حج مبرور کا صلہ تو جنت ہی ہے۔ اور جب وہ کریم وعدہ کرلے کہ اب تم ایسے صاف و پاک ہوگئے کہ جیسے نومولود ہوتا ہے تو بس شکر کیجیے اور آئندہ اس کی نعمتوں کا کفران مت کیجیے کہ اسی نے تو فرمایا ہے کہ اگر شُکر کروگے تو نعمتوں کو بڑھاتا رہوں گا اور انکار کیا تو بس داندۂ درگاہ ہوجائو گے۔

در ربِ کریم کی حاضری پر مبارک باد قبول کیجیے۔

 حاضری درحبیب ﷺ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! 

زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا، پیام آیا

جھکائو نظریں، بچھائو پلکیں، ادب کا اعلی مقام آیا

مشکل ہے، بہت مشکل کہ آپؐ کا نام نامی اسم گرامیٔ قدر لیا جائے اور انسان کا سر احترام میں نہ جھکے، مشکل ہے، بہت مشکل۔ وہ ذات گرامیٔ قدر ﷺ کہ جس کے لیے ساری کائنات بنائی گئی، آسماں بنایا گیا، یہ زمیں بچھائی گئی، شجر اگائے گئے، یہ کہکشاں سجائی گئی۔ 

کائنات کے وہ محسنِ اعظم ﷺ جو شافع محشر ہیں، حبیب کبریا ہیں، یتیموں کے والی، غلاموں کے آقا، وہ جو 

اتر کر حرا سے سوئے قوم آئے

اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لائے

تو بس یہ طے ہوا کہ رب کو منانا ہے تو اس کے حبیبؐ کو منائو، آئو

در ِنبیؐ پر پڑا رہوں گا 

پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا

یقینا ایسا ہی ہے، زندگی کو یک سر بدلنے کے لیے در نبیؐ پر ہی پڑا رہنا ہوگا کہ بس وہی تو درِ نجات ہے۔ لیکن یہاں محتاط رہیے کہ  اس بارگاہ عظیم میں ہوشیار رہنے کو کہا گیا ہے۔ ادب، ادب اور صرف ادب عقیدت و احترام کے ساتھ۔ اس لیے کہ رب کائنات نے فرمایا کہ اگر یہاں آواز بلند کی، یہاں ادب سے نہیں رہے، احترام کو ملحوظ خاطر نہ رکھا تو تمہارے سارے اعمال ناقابل قبول ہوں گے، سب اکارت چلے جائیں گے۔

بس ایک ہی طریقہ ہے کہ یہاں سرگوشیوں میں اپنا مدعا بیان کیا جائے، نم آنکھوں سے درود و سلام پڑھا جائے کہ بس آپؐ ہی ہیں اس کے حق دار اور کوئی نہیں۔