قربانی کی تاریخ : فضائل و مسائل

قربانی کی تاریخ : فضائل و مسائل


سورہ ٔکوثر میں اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جس طرح نماز اﷲ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہوسکتی اسی طرح قربانی بھی اسی کے نام پر ہونی چاہیے. 

قرآن مجید میں سورۃ ’’ والفجر ‘‘ میں اﷲ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور وہ دس راتیں جمہور کے قول کے مطابق یہی عشرہ ذ ی الحجہ کی راتیں ہیں۔ خصوصاً نویں ذی الحجہ کا روزہ رکھنا ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے اور عید کی رات میں بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہنا بڑی فضیلت اور ثواب کا موجب ہے۔ 

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا، مفہوم: ’’ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کے لیے عشرہ ذی الحجہ سے بہتر کوئی زمانہ نہیں ان میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ایک رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔‘‘ (ترمذی۔ ابن ماجہ ) 

لفظ ’’ قربانی ‘‘ قرب سے ہے جس کا معنی یہ ہے کہ انسان کا اپنی جان، مال، اولاد یا کسی حلال جانور کو اﷲ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اﷲ تعالیٰ کے دربار میں پیش کردینا، یہی قربانی کا مقصد و منشا ہے۔ کسی حلال جانور کو اﷲ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کی نیت سے ذبح کرنا اس وقت شروع ہوا جب سے حضرت آدم ؑ اس دنیا میں تشریف لائے اور دنیا آباد ہوئی۔ سب سے پہلے قربانی حضرت آدم ؑ کے دو بیٹوں ہابیل و قابیل نے دی۔ جب کہ دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی۔ 

علامہ ابن کثیر ؒ نے بہ روایت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں نقل فرمایا کہ ہابیل نے ایک مینڈھے کی قربانی پیش کی اور قابیل نے اپنے کھیت کی پیداوار سے کچھ غلہ وغیرہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی۔ حسب دستور آسمان سے آگ نازل ہوئی ہابیل کے مینڈھے کو کھاگئی اور قابیل کی قربانی کو چھوڑ دیا۔ قربانی کے قبول ہونے یا نہ ہونے کی پہچان پہلے انبیائے کرامؑ کے زمانے میں یہ تھی کہ جس کی قربانی اﷲ تعالیٰ قبول فرماتے تو ایک آگ آسمان سے آتی اور اس چیز کو جلا دیتی تھی۔ سورۃ آل عمران میں اس کا ذکر آیا ہے کہ قربانی جس کو آگ کھا جائے۔ اس زمانے میں کفار سے جہاد کے ذریعے جو مال غنیمت ہاتھ آ تا تو اس کو بھی آسمان سے آگ نازل ہوکر کھا جاتی تھی اور یہ جہاد کے مقبول ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ امت محمدی ؐ پر اﷲ تعالیٰ کا یہ خصوصی انعام ہو ا کہ قربانی کا گوشت اور مال غنیمت ان کے لیے حلال کر دیے گئے۔

قربانی ایک عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی اس کو عبادت سمجھا جاتا تھا مگر وہ بتوں کے نام پر قربانی کرتے تھے۔ اسی طرح آج تک دوسرے مذاہب میں قربانی مذہبی رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے جو بتوں کے نام پر یا مسیح کے نام پر قربانی کرتے ہیں۔ سورۃ کوثر میں اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جس طرح نماز اﷲ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہوسکتی اسی طرح قربانی بھی اسی کے نام پر ہونی چاہیے۔ رسول اکرمؐ نے ہجرت کے بعد دس سال تک مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا اور ہر سال پابندی سے قربانی فرماتے تھے۔ جس سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف مکہ معظمہ کے لیے مخصوص نہیں بل کہ ہر شخص پر، ہر شہر میں شرائط کے بعد واجب ہے اور مسلمانوں کو اس کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اس لیے جمہور علمائے اسلام کے نزدیک قربانی واجب ہے۔ (بہ حوالہ شامی )

رسول اکرم ؐ نے ہجرت کے بعد ہر سال قربانی فرمائی۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضرت زید بن ارقمؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ؐسے صحابہ ؓنے عرض کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ آپ ؐ فرمایا: ’’ قربانی تمہارے باپ ابراہیمؑ کی سنت ہے۔ صحابی ؓ نے پوچھا ہمارے لیے اس کا کیا ثواب ہے ؟ آپؐ نے فرمایا ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ اون کے متعلق فرمایا اس کے ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓفرماتی ہیں، مفہوم: ’’ قربانی کے دن قربانی سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں ہے، قیامت کے دن قربانی کا جانور سینگوں، بالوں، کھروں کے ساتھ لایا جائے گا اور وہ جانور خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کی سند لے لیتا ہے۔ اس لیے تم قربانی خوش دلی سے کرو۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح)

قربانی کس پر واجب ہے؟

قربانی ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو عاقل، بالغ اور مقیم ہو، اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کا مال ہوا اور اس کی ضرورت سے زاید ہو اور یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات ہوں یا مال تجارت ہو یا ضرورت (حاجت ) سے زاید گھریلو سامان ہو یا رہائش کے مکان سے زاید مکانات اور جائیداد وغیرہ ہوں۔ قربانی کے لیے اس مال پر سال بھر کا گزرنا بھی شرط نہیں، اگر کوئی شخص قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن بھی کسی صورت سے مال کا مالک ہوجائے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے اور اگر بچہ اور مجنون (پاگل) کی ملکیت میں اتنا مال ہو تو اب دونوں پر یا ان کی طرف ان کے ولی پر قربانی واجب نہیں۔ اگر کوئی شخص شرعی قاعدے کے مطابق مسافر ہو یعنی قربانی کے دنوں میں اپنے وطن سے اڑتالیس میل یا اس سے زاید کی دوری میں گزاریں تو اس پر بھی قربانی واجب نہیں اور اگر قربانی کے دنوں میں (یعنی گیارہ، بارہ) بارہویں ذی الحجہ کو سورج غروب ہونے سے پہلے گھر آگیا اور وہ صاحب حیثیت لوگوں میں سے ہے تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔ اور اگر کوئی شخص ایسا ہے جو صاحب حیثیت نہیں یعنی مذکورہ بالا نصاب نہیں ہے تو شرعاً اس پر قربانی واجب نہیں۔ لیکن اگر اس نے قربانی کے دنوں میں قربانی کی نیت سے کوئی جانور خرید لیا تو اس جانور کی قربانی اس پر واجب ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ غریب آدمی کے لیے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدنا نذر کے حکم میں ہوجاتا ہے جس کا پورا کرنا بندے پر واجب (ضروری ) ہوجاتا ہے۔ اور ضرورت اصلیہ سے مراد وہ ضرورت ہے جو جان یا آبرو سے متعلق ہو اس کے پورا نہ ہونے سے جان مال یا عزت و آبرو جانے کا اندیشہ ہو یعنی کھانا پینا اور رہنے کا مکان، اہل صنعت و حرفت کے لیے اس کے پیشے کے اوزار۔ باقی بڑی بڑی دیگیں، بڑے بڑے فرش، شامیانے، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈ اور ٹیلی وژن، وی سی آر وغیرہ یہ اسباب ضروریہ میں داخل نہیں اس لیے ان کے مالک پر قربانی واجب ہوگی، جب کہ ان کی قیمتیں نصاب تک پہنچ جائیں۔ جس طرح مردوں پر قربانی واجب ہے اسی طرح عورتوں کے ذمے بھی قربانی واجب ہے، بہ شرطے کہ ان کے پاس ذاتی زیورات ہوں یا اتنا مال ہو یا جائیداد ہو جو نصاب کے برابر ہو، قربانی صرف اسی کی طرف سے واجب ہے۔ اولاد کی طرف سے واجب نہیں ( کسی اور عزیز و اقرب کی طرف سے بھی واجب نہیں ) مثلاً کسی مرد کی دس بیٹے یا بیٹیاں ہیں اور سب ایک ساتھ رہتے ہیں۔ باپ کی زندگی میں صرف باپ پر واجب ہوگی جب کہ وہ صاحب نصاب نہ ہوں یعنی والد اپنے نام سے وہ قربانی کرے اور اگر بیوی صاحب حیثیت (صاحب نصاب ) ہے تو اس کو بھی اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔ شوہر کی قربانی بیوی کی طرف سے یا بیوی کی قربانی شوہر کی طرف سے کافی نہیں ہوگی ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ قربانی ضروری ہے۔ 

بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ کسی سال اپنے نام سے قربانی کرلیتے ہیں اور کسی سال اپنی بیوی کی طرف سے یعنی ہر سال نام بدلتے رہتے ہیں یہ جائز نہیں ہے۔ اگر صاحب نصاب ہے تو اس کو اپنی طرف سے قربانی کرنا ضروری ہے اگر اپنے نام سے نہیں کی کسی دوسرے کے نام سے کرلی تو اس کے ذمے وجوب باقی رہ جائے گا، دوسروں کے نام سے کرنے سے خود اس کا وجوب ادا نہیں ہوگا۔ اگر باپ کی وفات ہوچکی اور اولاد ایک ساتھ رہ کر کاروبار کرتی ہے تو اگر ان کا مال مشترکہ، جائیداد تقسیم کرنے کے بعد ہر ایک صاحب نصاب ہو جاتا ہے تو ہر ایک بالغ اولاد کو اپنے اپنے نام سے قربانی ضروری ہے۔ اگر کسی ایک بھائی کی طرف سے قربانی کی تو باقی بھائیوں کے ذمے وجوب باقی رہ جائے گا۔ اگر ماں باپ پر قربانی واجب تھی اور وہ نہ کرسکے تو انہیں وصیت کرنا ضروری ہے اگر وصیت کرکے انتقال کیا تو ان کی طرف سے ان کے مال میں سے قربانی کرنا ضروری ہے اور اگر وصیت نہیں کی تو ان کی طرف سے واجب نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص ان کی طرف سے قربانی کر دے تو یہ قربانی نفلی ہوگی اور اس نفلی قربانی کا ثواب ان کو پہنچ سکتا ہے۔ 

( بہ حوالہ: تاریخ قربانی و مسائل عید ین و قربانی ) 

قربانی کے ایام : ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی صبح سے بارہویں ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ایام نحر، قربانی کے دن ہیں۔ اس کے بعد یا پہلے قربانی کرنا صحیح نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع) 

وہ جانور جن کی قربانی جائز ہے۔

٭ قربانی کے جانور اونٹ، گائے، دنبہ، بھیڑ ، بکرا، بھینس، گائے مذکر و مونث دونوں جائز ہیں، ان کے علاوہ کسی جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ (کفایت المفتی )

٭ کسی شخص کا یہ فعل حرام ہے کہ وہ اپنی گائے دوسرے کے کھیت میں بلا اجازت چھوڑتا ہے لیکن اس سے وہ گائے (جانور) حرام نہیں ہوتی اس کی قربانی درست ہے۔ (فتاویٰ ھندیہ ) 

٭ اگر کسی جانور کی کھال جل جانے کی وجہ سے اس پر بال نہ رہے ہوں اور زخم وغیرہ نہ ہو اور تمام اعضا صحیح و سالم ہوں تو ایسے مویشی کی قربانی جائز ہے۔ (امدادالفتاویٰ) 

٭ جس جانور کے بال کاٹ لیے گئے ہوں اس کی قربانی درست ہے۔ (عالمگیری ) 

٭ اگر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لیے گرایا اور گرانے کی وجہ سے عیب پیدا ہوگیا اس کا کچھ اعتبار نہیں ہے اس کی قربانی درست ہے۔ (عالمگیری ) 

٭ اگر قربانی کے لیے جانور کو لٹایا اور چھری پھیرنے سے پہلے اس کی آنکھ خود بہ خود نکل آئے تو اس کی قربانی درست ہے اور قربانی کے وقت جو بھی نقص جانور میں آجائے گا اس کا اعتبار نہیں قربانی درست ہے۔ ( فتح القدیر) 

٭ جو جانور ناپاکی یا غلاظت کھاتا ہے اس کے باندھنے سے پہلے اس کی قربانی درست نہیں جب کہ اس کو چند روز باندھ دیا گیا جس سے وہ نا پاکی نہ کھا سکے تو اس کی قربانی جائز ہے اگر اونٹ ہے تو اس کو چالیس روز، گائے، بھینس اور بیل وغیرہ کو بیس روز بکرا بکری کو دس دن قید رکھا جائے۔ (شامی) 

٭ بانجھ اور سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی درست ہے بشرطیکہ اس کا سینگ جڑ سے نہ ٹوٹا ہوا ہو اور مذبح تک اپنے پیروں سے چلا جائے۔ ( عزیز الفتاویٰ ) 

٭ جس جانور کی ران وغیرہ کو لوہے سے داغ دیا گیا ہو اور زمین جوتنے اور مارنے سے جو جانور کے ران پر زخم یا نشان ہو جاتا ہے تو اس جانور کی قربانی درست ہے مگر معتبر یہ ہے کہ قربانی میں کوئی عیب ظاہر ی نہ ہو۔ (عزیز الفتاویٰ) 

٭ قربانی کے جانور سے فائدہ اٹھانا مکروہ ہے اور صحیح قول کے مطابق مال دار اور غریب (قربانی کے جانور کا ) دودھ اور اون کاٹنے کے حکم میں برابر ہیں۔ مگر ذبح کرنے سے پہلے قربانی کے جانور کا دودھ یا اس کا اون کاٹا ہو تو اس کو صدقہ کردے اور اس سے فائدہ حاصل نہ کرے۔ (دفتاوی عالمگیر ی) 

وہ جانور جن کی قربانی جائز نہیں: 

٭ جس جانور کی ناک کٹی ہو اس کی قربانی درست نہیں۔ ( عالمگیری) 

٭ جس جانور کی زبان کٹی ہوئی ہو جس کی وجہ وہ چارا ( گھاس وغیرہ ) نہ کھا سکے تو اس کی قربانی درست نہیں۔ (عالمگیری ) 

٭ اگر بھیڑ، بکری اور دنبہ کے ایک تھن سے دودھ اترتا ہو تو اس کی بھی قربانی درست نہیں۔ ( شامی ) 

٭ اگر بھینس، گائے، اونٹنی وغیرہ کے دو تھنوں سے دودھ نہ اترتا ہو تو اس کی بھی قربانی درست نہیں ہے۔ (عالمگیری ) 

٭ اونٹنی، گائے، بھینس کے اندر ایک تھن خشک ہو جائے تو قربانی جائز ہوتی ہے لیکن دو تھن خشک ہو جائیں یا کٹ جائیں تو قربانی جائز نہیں۔ ( کفایت المفتی ) 

٭ عیب دار جانور کی قربانی جائز نہیں لیکن اگر ذبح کے وقت تڑپنے کودنے سے عیب دار ہوگیا تو کچھ مضائقہ نہیں۔ ( عالمگیری ) 

٭ جو جانور اندھا ہو یا کانا ( ایک آنکھ ولا ) ہو یا اس کی ایک آنکھ کی تہائی روشنی یا اس سے زیادہ جاتی رہی ہو یا یا ایک کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹ گیا ہو تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہے۔ (شامی ) 

٭ جو جانور اتنا لنگڑا ہے کہ فقط تین پائوں سے چلتا ہے چوتھا رکھا ہی نہیں جاتا یا چوتھا پائوں رکھتا تو ہے لیکن اس سے چل نہیں سکتا ہے تو اس کی بھی قربانی درست نہیں۔ اور اگر چلتے وقت وہ پائوں زمین پر ٹیک کر چلتا ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔ (عالمگیری) 

٭ اتنا دبلا لاغر بالکل مریل جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو جو ذبح کرنے کی جگہ خود نہ جاسکتا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں۔ اور اگر اتنا دبلا نہ ہو تو دبلے ہونے سے کچھ حرج نہیں یعنی مرض کی وجہ سے نہیں بل کہ قدرتی ساخت ایسی ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔ لیکن موٹے اور فربہ جانور کی قربانی زیادہ بہتر ہے۔ (شامی ) 

٭ جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں اس کی قربانی درست نہیں، اگر کچھ گرگئے لیکن جتنے گرے ہیں اس سے زیادہ باقی ہیں تو اس کی قربانی درست ہے لیکن موٹے اور فربہ جانور کی قربانی کرنا زیادہ بہتر ہے۔ ( درمختار) 

٭ جس جانور کے پیدائش سے ہی کان نہیں ہیں ان کی بھی قربانی درست نہیں ہے یا کان تو ہیں مگر کسی کان کا تہائی حصہ یا زیادہ کٹ گیا ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے اور اگر پیدائش سے کان تو ہیں لیکن بالکل ذرا ذرا سے چھوٹے چھوٹے ہیں تو اس کی قربانی درست ہے۔ ( درمختار) 

٭ جس جانور کے سینگ نہ ہوں ٹوٹ گئے ہوں یا اوپر کا خول اتر گیا ہو تو اس کی قربانی درست ہے۔ البتہ سینگ جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں یا اکھڑ گئے ہوں اور چوٹ کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں۔ ( فتاویٰ رحیمیہ) 

٭ بھینگی آنکھ والے اور بائولے اور خارش والے جانور کی قربانی درست ہے لیکن اگر بائولے پن کی وجہ سے کچھ کھا پی نہ سکتا ہو یا خارش کی وجہ سے بالکل کم زور ہوگیا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ہے۔ ( در مختار) 

٭ جس جانور کے کان پیدائشی چھوٹے ہوں اس کی قربانی جائز ہے ہاں جس جانور کے پیدائشی کان نہ ہوں یا ایک ہی کان ہو یا ناک کان یا دونوں کان مکمل کٹ گئے ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ ( فتاویٰ رحیمیہ) 

٭ گائے، بھینس چھوٹا کٹّا، اونٹ اونٹنی میں اگر سات افراد شریک ہوکر قربانی کریں تب بھی درست ہے ( یعنی مذکورہ اقسام میں سات حصے ہوسکتے ہیں ) لیکن شرط یہ ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں سے کم نہ ہو اور سب کی نیت قربانی کرنے کی یا عقیقہ کرنے کی ہو صرف گوشت کھانے کی نیت درست نہیں ہوگی۔ ( عالمگیری ) 

مذکورہ جانوروں میں سات حصے ہوں گے اس سے زیادہ نہیں اور اگر چھے یا پانچ یا اس سے کم بھی شریک ہوں تو تب بھی درست ہے یہاں تک کہ اگر صرف تنہا ہی ایک آدمی پورے بڑے جانور کی قربانی (صرف اپنی طرف سے ) کرے تو بھی جائز ہے۔ اور اگر آٹھ افراد یا اس سے زیادہ شریک ہوئے تو کسی کی بھی قربانی درست نہ ہوگی۔ (عالمگیری) 

تکبیر ات تشریق:۔

ایام تشریق ذی الحجہ کی نویں تاریخ صبح سے تیرہ تاریخ کی عصر کی نماز تک ہر فرض نماز کے بعد بالغ مرد اور عورت پر تکبیر تشریق معمولی اونچی آواز سے پڑھنا واجب ہے۔ تکبیرات تشریق یہ ہیں۔

اﷲاکبر اﷲاکبر لا الہ الا اﷲ و اﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد ( درمختار)