ہمارا عہد

ہمارا عہد

اس بار 14 اگست کو کوئی جھنڈیاں نہیں لگائے گا۔‘‘ دادای اماں کی آواز کمرے میں گونجی تو زارا کے ہاتھ سے قلم چھوٹ کر زمین پر گرگیا۔ کرن اور آفتاب بھی چونک اٹھے۔

’’دادی اماں! یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ زارا حیرت زدہ تھی۔‘‘

’’وہی جو تم نے سنا ہے۔ اس بار 14 اگست کو کوئی جھنڈیاں نہیں لگائے گا۔‘‘ دادی اماں نے کہا۔

’’مگر کیوں دادای اماں!‘‘ زارا نے احتجاج کیا۔

’’بس یہ ہمارا حکم ہے۔‘‘ دادی اماں نے پان دان کا ڈھکن زور سے بند کیا اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔

زارا، کرن اور آفتاب شدید حیران تھے۔ بچوں کی تیاریاں عروج پر تھیں اور دادی جان جھنڈیاں لگانے کو منع کررہی تھیں۔ 

ان کی حالت دیکھ کر کچھ دیر بعد دادی اماں نے تینوں کو اپنے پاس بلاکر کہا:’’میں اپنے پیارے وطن کے پیارے پرچم کو پیروں تلے آتا نہیں دیکھ سکتی، تم لوگ ہر سال 14 اگست کو سبز جھنڈیوں سے اپنے گھر کو سجاتے ہو، مگر یہ دن گزرنے کے بعد جھنڈیوں کو کچرے میں پھینک دیتے ہو۔ ذرا سوچو کہ کتنے افسوس کا مقام ہے۔ یہ ہمارا قومی پرچم ہے جو بعد میں لوگوں کے پیروں تلے آتی ہیں۔ اپنے پیارے وطن کے پیارے پرچم کی اتنی بے قدری، یہ برداشت نہیں کی جاسکتی۔ اسی لیے میں نے تمہیں جھنڈیاں لگانے سے منع کیا ہے۔‘‘

دادی اماں تو یہ کہہ کر خاموش ہوگئیں، مگر زارا ، کرن اور آفتاب کے سر شرمندگی سے جھکے ہوئے تھے۔ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔ کرن کے ساتھ زارا اور آفتاب نے بھی دادی اماں سے معافی مانگی اور اپنے قومی پرچم کی حفاظت اور اس کے احترام کا عہد کیا۔