انگوروں کی سوغات

انگوروں کی سوغات

’’بیٹا! اپنے کام کا آغاز ہمیشہ اللہ کے بابرکت نام سے کرنا چاہیے، اس نام سے آغاز کرنے سے انسان ہر طرح کے نقصان سے محفوظ رہتا ہے۔‘‘ بوڑھی چڑیا نے اپنی بیٹی کو نصیحت کی۔

’’اماں! آپ بھی نصیحت کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔‘‘ سنہری چڑیا نے اپنے سر کو جھٹکا اور ہاتھ میں لکڑی کی پتلی سے ٹوکری لیے باہر آ گئی۔ اب اسے دن بھر کھانے کی چیزیں اس ٹوکری میں جمع کرنی تھیں۔ 


’’آج تو کچھ اچھا کھانے کو دل چاہ رہا ہے، کیوں نہ جنگل کے اس پار چلوں۔‘‘ یہ سوچتے ہوئے سنہری چڑیا نے پھر سے اڑان بھری اور جنگل کے اس پار پہنچ گئی۔ وہاں میٹھے اور کچے انگوروں کے گچھے لگے ہوئے تھے جنہیں دیکھتے ہی سنہری چڑیا کے منہ میں پانی آگیا اور وہ ان کچے انگوروں سے لطف اندوز ہونے لگی۔ کھٹے میٹھے انگور جب منہ میں جا کر اسے تازہ رس سے بھر دیتے تو اماں کی دن بھر کی نصیحتوں کی کڑواہٹ دور ہوجاتی، باقی بہن بھائیوں اور اماں کو وہ بھول چکی تھی کہ وہ اس کے کھانے کے انتظار میں کب سے بھوکے بیٹھے ہوں گے۔ اسے تو اس وقت صرف تازہ انگور مزہ دے رہے تھے۔ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا اور دیکھتے دیکھتے شام ہو گئی، لیکن سنہری چڑیا کا دل تازہ انگوروں سے نہ بھرا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ میں یہاں مستقل طور پر ڈیرا جمالوں۔  دن بھر تازہ انگور کھا کھا کے اب سنہری چڑیا پر غشی طاری ہونے لگی، اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ 

نیند میں اسے ایسا لگا جیسے کوئی انگور کے پیڑ کو زور زور سے ہلا رہا ہے، جھٹکوں سے جب سنہری چڑیا کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر وہ خوف زدہ ہوگئی کہ کالے سیاہ بادل تیزی سے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں، اور پھر اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ اب تو سنہری چڑیا پریشان ہو گئی، پھر آندھی بھی چل پڑی جس کے زور سے انگور کی نازک بیلیں گرنے کو بے تاب دکھائی دیں۔ گھر سے نکلتے وقت اماں نے اسے جو نصیحت کی تھی، سنہری چڑیا کو وہ یاد آنے لگی۔ طوفانی بارش کے زور نے اس کے ننھے پروں کو بھگو ڈالا تھا۔ 


اوپر سے کڑکتی بجلی کی آواز پر اس کا ننھا سا دل کانپ اٹھتا۔ اب تو وہ دل ہی دل میں کانپ رہی تھی اور اپنی اماں سے معافی مانگنا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے دل میں عہد کرلیا تھا کہ آئندہ کبھی اماں کی نصیحت کو نہیں ٹھکرائوں گی۔ پھر وہ بارش رکنے کا انتظار کرنے لگی۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اپنے گھر جاکر اماں سے معافی بھی مانگوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں تازہ انگوروں کی سوغات بھی پیش کروں گی