سلیم کی کاہلی

سلیم کی کاہلی

سلیم بہت ہی کاہل لڑکا تھا۔ اگر اس سے کسی کام کو کہا جاتا تو پہلے تو اس کا منہ بن جاتا تھا۔ جب کرتا تو عام طور سے لیٹ ہوجاتا تھا۔ ہر وقت کاہلوں کی طرح گھر میں پڑا رہنا اسے بہت پسند تھا۔ اس کے امی ابو اور بہن بھائی اسے بہت سمجھاتے تھے، مگر سلیم پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ نہ بدلا۔ 

وہ گرمیوں کی چھٹیوں کا ذکر ہے، سلیم حسب معمول گھر پر سستی سے پڑا آرام کررہا تھا کہ ایک دن ابو نے صبح صبح  سلیم کو ایک لفافہ دیا اور کہا:’’آج شام چار بجے تک یہ لفافہ انکل فرید تک پہنچا دینا۔‘‘

انکل فرید، سلیم کے ابو کے بہت اچھے دوست تھے اور اسی محلے میں قریب ہی رہتے تھے۔ سلیم نے سوچا کہ چار بجنے میں تو ابھی بہت وقت ہے، تھوڑا ٹی وی دیکھ لوں، پھر یہ لفافہ انکل فرید کو دے آؤں گا۔ وہ ٹی وی دیکھتا رہا، پھر اسے تھکن محسوس ہوئی تو وہیں بیٹھے بیٹھے سوگیا۔ 

کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی تو سلیم کی آنکھ کھل گئی۔ باہر اس کا دوست شبلی آیا تھا۔ سلیم اسے اندر لے آیا، پھر دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے تو انہیں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ کافی دیر بعد شبلی اٹھا اور اپنے گھر چلاگیا۔ اس وقت تک سلیم یہ بھول چکا تھا کہ اسے انکل فرید کے گھر جانا ہے اور انہیں ابو کا ضروری لفافہ پہنچانا ہے۔ جب شام کے پانچ بج چکے تو اسے یاد آیا، پھر تو اس نے انکل فرید کے گھر کی طرف دوڑ لگا دی، مگر وہاں پہنچا تو دیکھا کہ دروازے پر تالا لگا ہوا ہے۔ 

وہ اس کا انتظار کرتے کرتے جاچکے تھے۔ اب تو سلیم بہت شرمندہ ہوا، اسی حالت میں جب وہ سر جھکائے اپنے گھر پہنچا تو ابو نے سلیم کو بہت ڈانٹا، مگر اب کیا ہوسکتا تھا