ہم کسی سے کم نہیں

ہم کسی سے کم نہیں

کسی جنگل میں ایک کوّا اور کوّی رہتے تھے، کوّی بہت سمجھ دار تھی۔ ایک صبح جب کوّا گھر لوٹا تو بہت اداس تھا۔ کوّی نے اداسی کی وجہ پوچھی تو کوّے نے ٹالنے کی کوشش کی، مگر جب وہ نہ مانی تو پھر کہا:’’مجھے اپنا کالا رنگ بالکل پسند نہیں۔ نہ جانے اﷲ نے مجھے کالا کیوں بنایا ہے؟‘‘

یہ سن کر کوّی نے کہا:’’اﷲ نے ہمیں بہت اچھا بنایا ہے۔ جب ہمارے کالے پروں پر دھوپ پڑتی ہے تو وہ چمکتے ہوئے کتنے بھلے لگتے ہیں۔ پھر اﷲ نے ہمیں کیسی روشن آنکھیں دی ہیں، جن سے ہم دور دور تک دیکھ لیتے ہیں۔ ہماری آواز بھی کتنی تیز ہے، کائیں کائیں کرکے ذرا سی دیر میں اپنے سب ساتھیوں کو جمع کرلیتے ہیں۔

ہمارا رنگ کالا ہے تو کیا ہوا، ہمارا دل تو اُجلا ہے۔ ہمیں قدرت نے ہمیں اتنی مضبوط چونچ دی ہے جس سے ہم منٹوں میں سب کچھ چٹ کر جاتے ہیں۔‘‘

کوّا خاموشی سے اپنی مادہ کی بات سن رہا تھا۔ وہ دوبارہ بولی:’’اﷲ نے ہمیں دوسرے پرندوں کے مقابلے میں زیادہ انسان دوست بنایا ہے۔ انسان دوسرے پرندوں کو تو اپنے پاس پنجروں میں قید رکھتا ہے، لیکن ہمیں کوئی پنجرے میں نہیں رکھتا، یہ انسان کی ہم سے دوستی ہی تو ہے۔

پھر ہماری ذہانت کی کہانیاں بچوں کو سنائی جاتی ہیں۔ ہمیں خدا سے شکوہ کرنے کے بجائے ان سب نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔‘‘

کوّا ابھی تک چپ تھا۔ یہ دیکھ کر کوّی نے کہا:’’ہم کالے کلوٹے سہی، مگر جب کسی گھر کی دیوار پر بیٹھ کر کائیں کائیں کرتے ہیں تو گھر والوں کو کسی خاص مہمان کی آمد کا پیغام مل جاتا ہے۔ کیا یہ سب کم ہے؟‘‘ یہ کہہ کر کوّا اور کوّی دونوں اُڑگئے