باورچی خانہ

باورچی خانہ

کسی گھر کے نظم و نسق کا جائزہ لینا مقصود ہو تو سب سے پہلے کچن کا رخ کیا جاتا ہے۔

باورچی خانہ گھر کا اہم حصہ ہے۔ اس کی صفائی ستھرائی اور تنظیم و ترتیب سے خاتون خانہ کی خوش سلیقگی ظاہر ہوتی ہے۔ گھر کے سب افراد کی صحت کا انحصار بھی کچن پر ہو تا ہے ۔کچن کی عدم صفائی سے بہت سی بیماریاں وجود میں آتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگر کچن صاف ستھرا ہو گا تو کھانا بھی حفظان صحت کے اصولوں کے تحت تیار کیا جاسکے گا۔کچن کو خوش نما اور خوب صورت بنانے کے لیے تھوڑی سی محنت درکار ہوگی۔ سب سے پہلے کچن کے سارے سامان پر ایک نظر دوڑائیں پھر شروعات کھانے پکانے کے اجزا سے کریں۔ جو چیزیں زیادہ استعمال کی ہیں مثلا دال ، چاول، بیسن وغیرہ انھیں چولھے کے نیچے والے شیلف میں رکھیں تاکہ اٹھانے میں آسانی ہو ۔ بریڈ ،جام ، بسکٹ اور دیگر ناشتے کا سامان ایک شیلف میں رکھ دیں۔ الیکڑانک مشینوں کی ہر وقت ضرورت نہیں پڑتی اس لیے ان کو سلیب سے ہٹا کر پلگ کے نیچے بنے شیلف میں رکھ دیں تاکہ برتنوں کی بھرمار کم ہو سکے ۔ مائیکرو ویو اوون کا استعمال دن میں کئی بار ہوتا ہے لہٰذا ان کی صفائی ستھرائی بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے لیموں کو پانی میں اچھی طرح نچوڑ لیں پھر یہی پانی اوون میں رکھ دیں اور اس کو چار سے پانچ منٹ تک چلائیں۔ اس کے بعد پانی نکال لیں۔ اندر جو بھاپ بنے گی اس کو کپڑے سے صاف کردیںجس سے اوون کی بدبو سب ختم ہو جائے گی ۔

کچن میں موجود شیلفوں میں سے ایک شیلف ہاتھ صاف کرنے والے تولیے ، نیپکن رکھنے کے لیے مختص ہونا چاہیے۔ کچن میں کچھ چیزیں ایسی ہو تی ہیں جن کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ سودا سلف خریدتے ہوئے یہ چیزیں زیادہ مقدار میں لے لی جائیں تاکہ بہ وقت ضرورت ان کی عدم دستیابی کی وجہ سے کوفت اور پریشانی نہ ہو۔ برتن دھونے کا صابن، برش، پونچھا، اسفنج، ڈیٹول ،فرنائل سے ملتا جلتا صفائی کرنے کا سامان سنک کے نیچے رکھ دیں۔کچھ گھروں میں کھانا کئی کئی دن فریج میں پڑا رہتا ہے جو کہ بالکل ٹھیک نہیں ہے ۔ بہتر یہ ہے کہ جو کھانا بچ جائے اسے فورا اگلے دن استعمال کر لیا جائے۔ فریز کی ہوئی ہر قسم کی غذا کو صرف ایک بار پکایا یا گرم کر کے کھایاجا سکتا ہے۔ انھیں دوبارہ فریز کر کے کھانا غیرصحت بخش ہوتا ہے اور مختلف امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق موسم گرما اور مون سون کے موسم میں بیکٹیریا کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے، لہٰذا ان موسموں میں کھانا تیار ہونے کے بعد جلد سے جلد کھا لیا جائے ۔

کچن کی دیواروں کو صاف رکھنا بھی بہت ضروری ہے اس کے لیے ڈٹر جنٹ پائوڈر پانی میں ملا کر استعمال کر کے اچھے طریقے سے دیواروں کے ساتھ ساتھ کچن کے فرش کو بھی دھو ڈالیں تاکہ جراثیم کا صفایا ہو سکے ۔کچن صاف ہو گا تو کیڑے مکوڑے یا لال بیگ وغیرہ گھر میں داخل نہیں ہو سکیں گے ۔کچن میں موجود کوڑے کی ٹوکری کو بھی روزانہ صاف کریں تاکہ زیادہ کچرا جمع نہ ہو اور اس کو ڈھانک کر رکھیں۔

کھانا پکانے کے بعد سلیب صاف کر لیںاگر ہو سکے تو ایک کپڑے پر لیموں سے بنا ڈیٹر جنٹ لگائیں اور اسے اچھی طرح صاف کریں تاکہ سارے نشانات ختم ہو جائیں۔ اگر کھانا پکاتے ہوئے چولھے پر کچھ گر جائے تو اس کے خشک ہونے کا انتظار نہ کریں بلکہ جلدی سے اسے صاف کر لیں۔ اس سے ایک تو دھبے نہیں جمیں گے اور دوسرا آپ کے لیے صفائی کا باقی کام بھی آسان ہو جائے گا ۔

کچھ خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ رات کے کھانے کے برتن یونہی چھوڑ دیتی ہیں جس سے نہ صرف بدبو پھیلتی ہے بلکہ صبح کا ناشتہ بناتے ہوئے بھی ذہنی کوفت ہوتی ہے۔ اس لیے برتن رات کو ہی دھو دینے چاہیں کیوںکہ زیادہ دیر پڑے رہنے سے ان میں تیل جم جاتا ہے جس کی وجہ سے دھلائی بھی مشکل ہو جاتی ہے ۔کچھ برتن پکانے کے دوران جل جاتے ہیں ان کو دھونا جان جوکھوں کا کام محسوس ہو تا ہے۔ اس کے لیے سرکہ ابلے ہو ئے پانی میں شامل کر کے جلے ہوئے برتنوں میں ڈال دیں۔ اس سے چپکے ہوئے کھانے کے حصے باآسانی نکل آئیں گے اور پھر کھانے کا سوڈا ڈال کر برتن کو رگڑ کر صاف کیا جا سکتا ہے۔ برتنوں کے بعد سنک پر توجہ دیں ۔اس کی دھلائی کا آسان طریقہ یہ ہے کہ تھوڑا سا نمک اور سرکہ ڈال کر اس کو برش کی مدد سے صاف کرلیں۔ 

گوشت اور سبزیاں کاٹنے کے لیے کٹنگ بورڈ کا بھی کچن میں زیادہ استعمال ہو تا ہے ۔گندے کٹنگ بورڈ کی صفائی بھی بے حد ضروری ہے۔ اس کے لیے نمک اور لیموں کا رس ملا کر بورڈ پر اچھی طرح چھڑ ک دیں۔ پھر کچھ دیر بعد پانی سے دھو لیں تاکہ ساری چکنائی اچھی طرح صاف ہو جائے۔ یہی طریقہ بیلن کی صفائی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اکثر گھروں میں فریج بھی کچن میں رکھا جاتا ہے جس کا صاف ہو نا بھی بہت ضروری ہے کیوںکہ اس میں بہت سی کھانے پینے کی اشیا رکھی جاتی ہیں۔ اس کی آسان صفائی کے لیے کھانے کا سوڈا پانی کی کچھ مقدار میں ملا کر آمیزہ بنائیں اور اس میں اسفنج بھگو بھگو کر فریج کے اندرونی حصوں کو صاف کر لیں۔ اس کے بعد فلالین کے کپڑے سے اچھی طرح خشک کر لیں۔ اس طر ح نہ صرف فریج سے آنے والی بساند ختم ہوگی بلکہ آپ کا فریج بھی چمک دار دکھائی دے گا۔ کھانے کا سوڈا کُھلی حالت میں چوبیس گھنٹے رکھنے سے بھی فریج کی بدبو ختم ہوجاتی ہے۔کچن میں بہت سے غیر ضروری برتن بھی رکھے ہو تے ہیں۔ کوشش کریں کہ ان کو سلیب پر سجانے کی بجائے کسی بڑے کیبنٹ میں جوڑ کر رکھ دیا جائے اور بوقت ضرورت نکالا جائے تاکہ کام کرنے میں آسانی رہے۔ ہفتے میں ایک بار ضرور کچن کی ساری الماریاں اور درازیں صاف کریں۔ مسالوں کے ڈبوں کو بھی روزانہ پہلے گیلے اور پھر سوکھے کپڑے سے اچھی طرح صاف کریں۔

کچن صاف ستھرا ہو گا تو آپ کو خود بھی خوشی اور طمانیت کا احساس ہوگا اور اہل خانہ سمیت دوسرے لوگ بھی آپ کو سراہے بغیر نہ رہ سکیں گے ۔