فاطمہ ثریا بجیا ہم میں نہ رہیں

پاکستان کی معروف ڈرامہ اور افسانہ نگار فاطمہ ثریا بجیا وفات پاگئیں

پاکستان کی معروف ڈرامہ اور افسانہ نگار فاطمہ ثریا بجیا وفات پاگئیں
فاطمہ ثریا بجیا 1930میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئی اور قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے پاکستان آگئیں۔  بجیا نے کوئی باقاعدہ اسکول کی تعلیم حاصل نہیں کی ۔ اس کے باوجود انہوں نے ادب اور تحریر کی دنیا میں نام پیدا کیا۔ ان کے خاندان میں اور بھی کئی مشہور شخصیات ادبی دنیا میں مصروف عمل ہیں بھائیوں میں احمد مقصود اور انور مقصود بہنوں میں سارہ نقوی، زہرہ نگاہ اور زبیدہ طارق نے کافی شہرت پائی ہے۔ 
بجیا کی ٹیلی وژن کی دنیا میں آمد محض اتفاقا ہوئی تھی جب 1966 میں کراچی جانےکے لیے ان کی فلائٹ تعطل کا شکار ہوئی تو وہ اسلام آباد پی ٹی وی سینٹر کسی کام سے گئیں وہاں اسٹیشن ڈائریکٹر آغا ناصر نے ان کی پیشکش کی اس کے بعد انہوں نے ڈرامہ نگاری کے ذریعے اس ادارے سے اپنا تعلق مضبوط کیا۔ فاطمہ ثریابجیا کے مشہور ڈراموں میں عروسہ، آگہی، شمع  اور سسی پنوں شامل ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بجیا علیل تھیں۔  
بجیا کو  کئی ملکی اور غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا ہے،  1997 میں ان کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی جب کہ 2012 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔  اس کے علاوہ انہیں جاپان کے اعلی سول ایوارڈ بھی نوازا گیاـ
وزیر اعظم نواز شریف ، صدر مملکت ممنون ھسین، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور سندھ کے سینئیر وزیر نثار کھوڑو نے ان کے انتقال ]پر گہرے دکھ اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ 

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!