شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی برسی

الفاظ کو جاہ و جلال بخشنے والے جوش ملیح آبادی کی 34 ویں برسی

الفاظ کو جاہ و جلال بخشنے اور شاعر انقلاب کا اعزاز پانے والے نامور شاعر جوش ملیح آبادی کی 34 ویں برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔

جوش ملیح آبادی کا اصل نام بشیر حسن تھا، وہ 5 دسمبر 1898 کو ملیح آباد میں پیدا ہوئے، انھوں نے 1914 میں سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا اورا س کے بعد عربی اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کی، 1925 میں جوش نے عثمانیہ یونیورسٹی میں ترجمے کا کام شروع کیا، انھوں نے نظام حیدر آباد کے خلاف ایک نظم لکھی جس پر انھیں ریاست حیدر آباد سے نکال دیا گیا، نظم’’ حسین اور انقلاب‘‘ لکھنے پر انھیں شاعر انقلاب کا بھی اعزاز دیا گیا۔

وہ برطانوی شعار کے بھی سخت مخالف اور ہندوستان کی آزادی کے علمبردار تھے، وہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے بہت قریب تھے،1958 میں جواہر لعل نہرو کے منع کرنے کے باوجود جوش پاکستان آ گئے، وہ کئی شعری مجموعوں کے خالق ہیں جن میں شعلہ و شبنم، جنون و حکمت، فکر و نشاط، سنبل و سلاسل، حرف و حکایت، سرودو خروش اور عرفانیات قابل ذکر ہیں جبکہ نثر میں ان کی خود نوشت ’’یادوں کی بارات‘‘ کا کوئی جواب نہیں۔

جوش ملیح آبادی انسان دوست بھی تھے اور ان کی انسانیت پرستی کا ایک عالم گواہ ہے، انھوں نے اپنی خود نوشت یادوں کی بارات میں لکھا تھا کہ میری زندگی کے4 بنیادی میلانات ہیں، شعر گوئی، عشق بازی، علم طلبی اور انسان دوستی ان کے یہ میلانات پڑھ کر ہر شخص جوش کی عظمت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، وہ ایک قادر الکلام شاعر تھے، انھوں نے عمر بھر صاف گوئی، صداقت اور جرأت کا علم بلند رکھا، وہ22 فروری 1982 کو 84 سال کی عمر میں دنیا فانی سے کوچ کر گئے، انھوں نے اپنی شاعری کا جو خزانہ چھوڑا وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!