آسڑیلیا میں 18 سالہ لڑکی دہشت گرد

آسٹریلیا میں 18 سالہ نوجوان خاتون پر دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت فردِ جرم عائد

آسٹریلوی پولیس نے ایک 18 سالہ نوجوان خاتون پر دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایک ماہ قبل اس نوجوان خاتون کے شوہر سمیے بیدا بھی دہشت گردی کے الزامات میں عدالت کا سامنا کر رہے تھے۔ سمیے بیدا کو دہشت گردانہ کارروائی سے متعلق دستاویزات اکٹھی کرنے، چھری کے ذریعے حملہ کرنے اور بارودی بم بنانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس 18 سالہ آسٹریلوی خاتون کا تعلق سڈنی کے مضافاتی علاقے سے بتایا جاتا یے۔ آسڑیلین حکام نے گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات میں حراست میں لیا ہے۔
‘نیو ساؤتھ ویلز اسٹیٹ جوائنٹ کاؤنٹر ٹیریریزم ٹیم‘ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوجوان خاتون پر دہشت گردانہ کارروائی سے متعلقہ ایک چھری اپنی تحویل میں رکھنے اور دہشت گردانہ کارروائی سے منسلک دستاویزات جمع کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو ایک انٹرویو میں اسٹیٹ پولیس کی نائب کمیشنر کیتھرین برن نے کہا ہے کہ اس خاتون پر عائد الزامات کا تعلق اس کے شوہر کے کیس سے ملتا ہے۔ برن کے مطابق پولیس اس خاتون پر ایک چھری اور دہشت گردانہ کاروائی سے متعلق دستاویزات رکھنے کے حوالے سے فرد جرم عائد کر رہی ہے۔
گزشتہ برس اکتوبر میں ایک 15 سالہ بچے نے مغربی سڈنی میں پولیس ہیڈ کوارٹرز کے باہر ایک سویلین ملازم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں یہ لڑکا بھی مارا گیا تھا۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!