داعش کو بم بنانے کا سامان بھارت سے ملتا ہے

داعش بھارت کی 7 کمپنیوں کا سامان کارروائیوں میں استعمال کرتی ہے

بین الاقوامی ادارے کی جانب سے کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کے 20 ممالک کی کمپنیوں کے آلات دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ کے بموں اور دیگر دھماکا خیز ہتھیاروں میں استعمال ہوتے ہیں جن میں بھارت بھی شامل ہے۔

کنفلکٹ آرمامینٹ ریسرچ نے یورپی یونین کے تعاون سے کی گئی تحقیق میں کہا ہے کہ داعش کی طرف سے IEDs اب ’قریب قریب صنعتی پیمانے‘ پر تیار کی جا رہی ہیں جس کے لیے نہ صرف ایسے صنعتی کمپونینٹ یا آلات بھی استعمال ہوئے جن کی فراہمی کا حساب کتاب رکھا جاتا ہے اور عام دستیاب اجزا اور کمپونینٹ بھی جیسے کھادیں، کیمیکلز اور موبائل فون وغیرہ۔ ترکی کی 13 ایسی کمپنیاں ہیں، جن کا سازوسامان داعش تک پہنچ رہا ہے۔ کسی ایک ملک میں ایسی کمپنیوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کے بعد بھارت کا نمبر ہے جہاں کی سات کمپنیوں کی اشیاء داعش تک پہنچ رہی ہیں۔

کنفلکٹ آرمامینٹ ریسرچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جیمز بیون کے مطابق، ’’یہ نتائج بین الاقوامی طور پر بڑھتی اس آگاہی کی تائید کرتے ہیں کہ شام اور عراق میں داعش کے جنگجو ہتھیاروں اور دیگر چیزوں کے حصول میں خود مختار ہیں جن میں مقامی طور پر آسانی کے ساتھ IEDs کے لیے درکار آلات بھی شامل ہیں۔‘‘

ہتھیاروں کے مقابلے میں نسبتاﹰ کم قیمت اور با آسانی دستیاب آلات میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کے لیے حکومتی ایکسپورٹ لائسنسوں کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور جن کی فروخت کے بارے میں زیادہ حساب کتاب بھی نہیں رکھا جاتا۔ اس اسٹڈی کے مطابق جب ان کمپنیوں کی طرف سے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد وہ اشیاء کسی خاص علاقے کی کمپنیوں کو فروخت کیے جاتے ہیں تو اس کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ اجزاء اسلامک اسٹیٹ تک پہنچ جاتے ہیں۔

بیون کے مطابق، ’’کمپنیاں اگر اس بات کا پتہ رکھنے کے لیے مؤثر اکاؤنٹنگ نظام بنا لیں کہ فروخت کے بعد ان کی مصنوعات کہاں گئیں تو یہ چیز ایک سلسلے کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!