چینی مردوں کو عورتوں کی تلاش

انسانوں کا کاروبار کرنے والے ویتنام میں عورتیں تلاش کر رہے ہیں

چین کی ’ایک بچہ پالیسی‘ ملک میں مردوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنی ہے۔ انسانوں کا کاروبار کرنے والے ویتنام میں عورتیں تلاش کر رہے ہیں۔

ویتنام سے عورتوں کو ورغلانے والے زیادہ تر قابل بھروسہ افراد ہوتے ہیں۔ ساپا چین کی سرحدوں سے نزدیک شمالی ویتنامی شہر ہے۔ سر سبز و شاداب او نہایت پُر فضا یہ مقام سیاحوں کی غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہے اور سیاحت کا ’ہاٹ اسپاٹ‘ مانا جاتا ہے۔ اس علاقے کی سب سے زیادہ دلچسپ اور دل پسند بات یہاں کی چھوٹی اقلیتی پہاڑی نسل سے تعلق رکھنے والی برادریاں ہیں جو اس کے آس پاس کے علاقوں میں آباد ہیں۔ اس علاقے میں آباد ھمونگ نامی مقامی نسلی گروپ سب سے زیادہ پُر کشش مانا جاتا ہے۔ انتہائی خوش شکل، مسکراتے چہرے اور رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس یہ باشندے ہر جگہ، ہر تصویر میں نظر آتے ہیں۔
ان خوبصورت پہاڑی علاقوں میں انتہائی ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے ہیں۔ آئے دن خواتین کی گمشدگی اور لڑکیوں کے اغوا کی وارداتیں اس شہر کی بدنامی کا سبب بنتی رہتی ہیں۔ ساپا کے ارد گرد کے پہاڑی دیہات سے ایک ہی صدا گونجتی سنائی دیتی ہے۔ مائیں، بہنیں، کزنز اور پڑوسی ہر کوئی ایک ہی شکایت کرتا سنائی دیتا ہے۔’’لڑکیاں چین پہنچ چُکی ہیں۔‘‘

چینی پالیسی کے اثرات
چین میں خواتین کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ 1979ء میں متعارف کرائی جانے والی ’ون چائلڈ پالیسی‘ کے بعد سے کسی بھی جوڑے کو ایک سے زیادہ بچہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لڑکے یا بیٹے کی پیدائش کے خواہشمند والدین یا جوڑے کو جب یہ پتہ چل جاتا کہ اُن کے ہاں بیٹی پیدا ہونے والی ہے تو وہ اسقاط حمل کو ترجیح دینے لگے۔ اس رجحان میں اس قدر اضافہ ہوا کہ چین میں لڑکیوں کی پیدائش اور خواتین کا تناسب ملکی آبادی میں بہت کم ہو گیا۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق 2020ء تک چین میں 30 سے 40 ملین مرد شادی کرنے کی اہل عمر میں ہوں گے۔ 2015ء میں سرکاری طور پر ایک سے زائد بچہ پیدا کرنے پر پابندی ختم کر دی گئی اور جوڑوں کو دوسرا بچہ پیدا کرنے کی اجازت دے دی گئی تاہم ’ون چائلڈ پالیسی‘ کے اثرات بڑے گہرے ہونے کے سبب چین کا یہ اہم معاشرتی مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ بڑی تعداد میں چینی مرد عورتوں کی تلاش میں ہیں جبکہ اس ملک میں خواتین کی شدید قلت ہے۔ سب سے زیادہ مشکلات کا شکار چین کے غریب مرد ہیں جنہیں شادی کی منڈی میں بہت کم مواقع میسر ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ چین میں انسانوں کا کاروبار کرنے والوں کی چاندی ہو گئی ہے اور جبری شادی کا بازار گرم ہے۔ جبری شادی کی شکار سب سے زیادہ ویتنام کی خواتین ہو رہی ہیں لیکن چین کے دیگر پڑوسی ممالک کی عورتوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔

محبت کا جھانسہ
ویتنام اورچین کے دیگر پڑوسی ممالک کی خواتین کے ساتھ دو طرح کا دھوکا کیا جا رہا ہے۔ یا تو ان خواتین کو ورغلانے والے انہیں چین میں بہت اچھی جاب کے سنہرے خواب دکھاتے ہیں یا مرد خود کو بڑا وجیہ اور محبت کرنے والا ثابت کر کے ان عورتوں کو شادی کی امید دلاتے ہیں۔ حقیقت جبکہ یہ ہے کہ اکثر شادی کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کو چین لانے والے مرد ان خواتین کو چین میں ’میچ میکرز‘ یا رشتہ کروانے والے ’مُشاطہ‘ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ 

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!