موسیقی کو جلا بخشنے والے نثاربزمی کی برسی

کراچی:معروف موسیقار نثار بزمی کی آج نویں برسی منائی جارہی ہے

معروف موسیقار نثار بذمی کو دنیا سے رخصت ہوئے 9 برس بیت گئے لیکن ان کی تخلیق کی گئیں لازوال دھنیں آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہیں۔

نثار بزمی 1924 میں ممبئی کے نزدیک خاندیش کے قصبے میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نثار بزمی شروع سے ہی مشہور بھارتی موسیقارامان علی خان سے متاثر تھے تاہم انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو ڈرامے “نادر شاہ درانی” کی موسیقی ترتیب دینے سے کیا جب کہ بطور موسیقار ان کی پہلی فلم ’’جمنا پار‘‘ تھی جو 1946 میں ریلیز ہوئی، جس کے بعد ان کی موسیقی ہر فلمساز کی ضرورت بن گئی۔ انھوں نے تقریبا 40 بھارتی فلموں میں موسیقی کی ترتیب کی۔ ممبئی میں ان کا ستارہ اس قدر عروج پر تھا کہ لکشمی کانت پیارے لال جیسے موسیقار اُن کی معاونت میں کام کر چُکے تھے لیکن پاکستان فلم انڈسٹری کے معمار فضل احمد فضلی کے بلاوے پر انہوں نے بھارت چھوڑ کر پاکستان میں سکونت اختیار کرلی۔

پاکستان میں قدم جمانا بھی کوئی آسان کام نہ تھا کیونکہ یہاں کے فلمی فلک پر بھی اُس وقت موسیقی کے کئی آفتاب اور مہتاب روشن تھے تو اس وقت پاکستان کی فلمی موسیقی میں خورشید انور اور رشید عطرے جیسے موسیقار چھائے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بابا چشتی، فیروز نظامی، روبن گھوش، سہیل رانا اور حسن لطیف بھی اپنے فن کا جوہر دکھا رہے تھے۔  ان کی بطور موسیقار پاکستان میں پہلی فلم ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ تھی جس میں ان کے گیت’’محبت میں تیرے سرکی قسم ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ پر احمد رشدی اور میڈم نور جہاں نے اپنی مدھر آوازوں کے جادو جگائے۔ جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکرنہیں دیکھا۔  ’صاعقہ‘،’انجمن‘، ’میری زندگی ہے نغمہ‘، ’خاک اور خون‘ اور ’ہم ایک ہیںجیسی فلموں کی موسیقی تخلیق کی۔

1966 میں انھوں نے ’لاکھوں میں ایک” کی موسیقی مرتب کی تو پاکستان کی فلمی دنیا میں موسیقی سے تعلق رکھنے والے ہر شخص پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ بمبئی کا یہ موسیقار محض تفریحاً یہاں نہیں آیا بلکہ ایک واضح مقصد کے ساتھ یہاں مستقل قیام کا ارادہ رکھتا ہے جب کہ نثار بزمی کو انکی فنی خدمات کے باعث پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت کئی دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

نثاربزمی کو نیم کلاسیکی دھنوں سے لے کر فوک اور پاپ میوزک کی دھڑکتی پھڑکتی کمپوزیشن تک ہر طرح کی بندشوں میں کمال حاصل تھا اسی لئے محمد رفیع، احمد رشدی، مہدی حسن اور نور جہاں جیسے منجھے ہوئے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ انھوں نے رونا لیلٰی اور اخلاق احمد جیسی آوازوں کو بھی نکھرنے اور سنورنے کا موقع دیا۔ عظیم موسیقار 22 مارچ 2007  کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی تخلیق کردہ موسیقی آج بھی کروڑوں لوگوں کو مسحورکردیتی ہے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!