لبنان میں شامی خواتین سے جسم فروشی کرانے والا گروہ گرفتار

لبنان کی پولیس نے ملک میں اب تک کا سب سے بڑا جنسی نیٹ ورک پکڑ لیا ہے

خانہ جنگی کا شکار ملک شام کے لوگ جہاں انتہائی کسمپرسی کا شکار ہے وہیں وہاں  انسانی اسمگلر بھی انتہائی سرگرم ہیں۔ یہ انسانی اسمگلرز بہتر مستقبل کے خواب دکھا کر جہاں شامی لوگوں کو یورپ لے جانے کلے لیے رقم اینٹھتے ہیں بلکہ خواتین کو دوسرے ملک کےجاکر ان سے جسم فروشی بھی کراتے ہیں، ایسا ہی ایک گروہ لبنان میں گرفتار لیا گیا ہے۔ 

لبنان کے سکیورٹی حکام کے مطابق پولیس نے ملک میں اب تک کا سب سے بڑا جنسی نیٹ ورک پکڑ لیا ہے۔ اس دوران کم از کم ایسی 75 خواتین کو بچا لیا گیا ہے، جنہیں جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ بچائی جانے والی زیادہ تر خواتین کا تعلق ہمسایہ ملک شام سے ہے۔

لبنان کی داخلہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق انہیں زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور مارا پیٹا بھی جاتا تھا۔ اسمگلروں کے ہاتھوں سے بچائی جانے والی کچھ خواتین کے جسموں پر زخموں کے نشانات بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

لبنانی سکیورٹی فورسز کے ایک عہدیدار نے غیر ملکی  خبر ایجنسی بتایا ، ’’شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے جسم فروشی اور سیکس ٹریفکنگ میں ملوث یہ اب تک پکڑا جانے والا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔‘‘
ئی ایس ایف کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’یہ کارروائیاں بیروت کے شمال میں لبنان کے پہاڑی علاقے میں کی گئی ہیں۔ اس دوران پورے گروپ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘‘

جاری ہونے والے بیان میں مزید بتایا گیا ہے، ’’ان خواتین کو جسمانی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ انہیں مختلف جنسی کارروائیاں کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا جبکہ ان کی غیر اخلاقی تصاویر بھی کھینچی گئیں اور بعدازاں انہیں تقسیم بھی کیا گیا۔‘‘

لبنانی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں ملوث مجموعی طور پر دس مردوں اور آٹھ خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شامی خانہ جنگی سے پہلے بھی شامی خواتین کو جسم فروشی کے لیے لبنان اسمگل کیا جاتا تھا لیکن شامی حالات خراب ہونے کے بعد ان کی تعداد میں واضح اضافہ ہو گیا ہے۔

ایک لبنانی عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شامی جنگ سے سب سے زیادہ خطرہ شامی خواتین اور بچوں کو ہے، ’’سب سے زیادہ قیمت انہیں ادا کرنا پر رہی ہے۔‘‘ 

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!