برطانوی شہری خاتون مسافر کے خوف کا شکار بن گیا

سافر نے سمجھا کہ شاید اس کے سامان کی وجہ سے اسے نیچے اتارا جا رہا ہے

فضائی سروس سے سفرکرنے والے مسافروں کی مشکلات کے بارے میں خبریں آئے روز سامنے آتی رہتی ہیں مگربہت کم خبریں عالمی توجہ حاصل کرپاتی ہیں۔ فضائی سفر کا ایک ایسا ہی واقعہ جو اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے ایسے افریقی نژاد نوجوان مسافر کا ہے جسے نسوانی وسوسوں کے نتیجے میں نہ صرف طیارے سے اتار دیا گیا بلکہ پولیس نے بیچارے سے پندرہ گھنٹے تفتیش بھی کی۔ مگر کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔

عرب ویب سائیٹ کے مطابق ہوائی سفر کا یہ عجوبہ روگار واقعہ حال ہی میں اٹلی سے لندن کے لیے آنے والی برطانوی ’Easy Jet‘ کمپنی کی پرواز میں سوار افریقی ملک اریٹیریا کے نوجوان مسافر کے ساتھ پیش آیا۔

روم میں Fiumicino ہوائی اڈے پر اڑان بھرنے سے قبل طیارے میں سوار ایک خاتون نے جہاز کے عملے کو شکایت کی کہ طیارے میں موجود ایک شخص مشکوک دکھائی دیتا ہے اور وہ اس کے لیے مسلسل ذہنی اذیت کا موجب بنا ہوا ہے۔ اس پر طیارے کے پائلٹ نے مائیکروفون کے ذریعے اس مسافر کا نام پکارا اور اس سے طیارے سے اترجانے کا حکم دے دیا۔

اریٹیریا کے 34 سالہ Mehary Yemane- Tesfagiorgis نامی مسافر نے سمجھا کہ شاید اس کے سامان کی وجہ سے اسے نیچے اتارا جا رہا ہے۔ مگر وہ جیسے اپنی نشست سے اٹھ کر جہاز کے دروازے کی طرف بڑھا تو اسے اسلحہ سے لیس پولیس کے دستے نےاپنے گھیرے میں لے لیا۔ اس نے پولیس کے اس رویہ کی وجہ دریافت کی تو اسے بتایا کہ طیارے میں سوار ایک خاتون مسافر کے ذہن میں آپ کے بارے میں عجیب وغریب وسوسے پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ کو دیکھ کر اسے خوف اور گھبراہٹ ہو رہی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا نوجوان مسلمان ہے تاہم اس کے چہرے پر مختصر داڑھی سے اس کے مذہبی ہونے کا شبہ ضرور ہوتا ہے۔ طیارے سے اتارے جانے کے بعد پولیس اسے ہوائی اڈے کے ایک اسٹیشن پرلے گئی جہاں اس سے 15 گھنٹے تک تفتیش کی گئی۔

افریقی نژاد نوجوان نے لندن کے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ وہ اپنے ساتھ پیش آئے والے واقعے پر حیران ہے کیونکہ اس سے کسی کو خطرہ نہیں تھا۔وہ بچپن سے برطانیہ میں رہ رہا ہے مگر برطانی فضائی کمپنی کے ترجمان نے مسافر کو اتارے جانے کے اقدام کا دفاع کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مسافروں کی سلامتی کی خاطر کسی مشکوک شخص کو ہوائی جہاز سے اتارنے میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم دوسری جانب متاثرہ نوجوان کا کہنا ہے کہ وہ قانونی مشیروں سے صلاح مشورہ کر رہا ہے تاکہ ایزی جیٹ کمپنی کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کیا جاسکے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!