کلیسائے انگلستان کے سربراہ کا ناجائز اولاد ہونے کا اعتراف

آرک بشپ آف کنٹربری کی ماں کے چرچل کے سیکریٹری سے تعلقات تھے


آرک بشپ آف کنٹربری اور دنیا بھر میں کلیسائے انگلستان کے 8.5 کروڑ سے زیادہ مسیحی پیروکاروں کے روحانی پیشوا جسٹن ویلبی نے ایک چونکا دینے والے انکشاف میں یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنی ماں کی ناجائز اولاد ہیں۔

برطانوی اخبار میں ٹیلی گراف  شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں جسٹن ویلبی نے بتایا کہ ویلبی اور ان کی والدہ ہمیشہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے اس باپ کی اولاد ہیں جن کا ان کے ساتھ نام لگتا ہے۔ ویلبی کی ماں جین ولیمز کی گیون ویلبی کے ساتھ 1955 میں شادی ہوئی تھی تاہم وہ صرف 2 سال باقی رہی۔ گیون ویلبی ایک مہاجر یہودی کا بیٹا تھا اور شراب کی فروخت کا کام کرتا تھا۔ شراب نوشی اور تمباکو نوشی کی کثرت کی وجہ سے گیون 1977 میں فوت ہوگیا تھا۔ جسٹن ویلبی کو اس وقت دھچکا پہنچا جب ان پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ جس شخص کی اولاد ہیں وہ تو 2013 میں 90 برس کی عمر میں فوت ہوا۔ اس شخص کا نام سر اینتھونی مونٹاگ براؤن تھا اور وہ سابق برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کا آخری پرائیوٹ سکریٹری تھا۔ دو ہفتے قبل ویلبی کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوا جو ان کے حقیقی اور حیاتیاتی باپ کے ساتھ مل گیا تاہم ویلبی نے اس راز کو گزشتہ پیر سے قبل فاش نہیں کیا۔ 

ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد جسٹن ویلبی نے اس کے نتیجے کی رپورٹ اپنی والدہ جین ولیمز کو دکھائی۔ 86 سالہ ماں کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اس بات کا اعتراف کرلے کہ اس کے واقعی اینتھونی براؤن کے ساتھ تعلقات تھے۔ 

جین ولیمز جو خود بھی 1950 کی دہائی میں ونسٹن چرچل کے دفتر میں سکریٹری کے طور پر کام کرتی تھیں، نے کہا کہ اینتھونی مونٹاگ براؤن کے ساتھ تعلقات کی وجہ ان دونوں کا بہت زیادہ شراب نوشی کرلینا تھی۔ تاہم یہ واقعہ جین کی گیون ویلبی سے شادی سے کچھ عرصہ پہلے کا تھا۔ جس کے 9 ماہ بعد 6 جنوری 1956 کو لندن میں جسٹن کی پیدائش ہوئی جس پر ماں کا گمان یہ ہی رہا کہ وہ اس کے شوہر کی اولاد ہے۔

برطانوی آرک بشپ کا کہنا تھا کہ اس تمام پیش رفت اور اعتراف کے بعد بھی اپنی ماں کی جانب ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ “کوئی بحران نہیں اور کسی کو کسی پر عدم اطمینان نہیں ہے۔ میں نہ خفا ہوا اور نہ ہوں۔ میری ماں جین ولیمز ہے اور میرا باپ گیون ویلبی۔ دونوں شراب نوشی کی لت میں پڑے ہوئے تھے۔ تاہم میری ماں نے علاج کے ذریعے 1968 میں اس سے جان چھڑالی۔ اس کے بعد سے وہ شراب کے قریب نہیں آئیں اور مجھے ان پر بہت فخر ہے۔ میرا باپ اس وقت فوت ہوا جب میری عمر 21 برس تھی۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!