سعودی عرب میں فٹ بالرز کے خلاف ’غیر اسلامی‘ ہیئر اسٹائل پر کارروائی

ریفری کو ایک کھلاڑی کو میدان میں اترنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کے سر کے بال کاٹنا پڑ گئے۔

سعودی عرب میں حکام نے فٹبال کے کھلاڑیوں کے ’غیر اسلامی‘ سمجھے جانے والے ہیئر سٹائل کے خلاف کارروائی کرنا شروع کر دی ہے۔ ایک ریفری کو ایک کھلاڑی کو میدان میں اترنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کے سر کے بال کاٹنا پڑ گئے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سعودی عرب میں فٹ بال کے کھیل کی نگران تنظیم سعودی فٹبال فیڈریشن نے کئی معاملات میں بہت واضح ضابطے طے کر رکھے ہیں کہ کھلاڑی کیا کر سکتے ہیں اور کیا کچھ نہیں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک کھلاڑی کو میدان میں جانے سے پہلے بالکل آخری وقت پر اس لیے اپنے بال کٹوانا پڑ گئے کہ اس کا ہیئر اسٹائل فٹبال کی ملکی فیڈریشن کے طے کردہ ضابطوں کے منافی تھا۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میدان کے باہر کھڑے ہوئے ایک کھلاڑی کے سامنے ایک ریفری ہاتھ میں قینچی لیے کھڑا ہے اور پھر وہ اس کھلاڑی کے سر کے درمیان سے وہ تھوڑے سے بال کاٹ دیتا ہے، جو اوپر کی طرف اٹھے ہونے کی وجہ سے ’غیر اسلامی‘ تھے۔ اس سے قبل سعودی عرب کے نوجوانوں کی تنظیم کے سربراہ نے اسی ہفتے کے وسط میں کھیلوں کی تمام ملکی تنظیموں اور اولمپک کمیٹی سے یہ کہہ دیا تھا کہ بالوں کے معاملے میں کھلاڑیوں، خاص طور پر فٹبالرز کی طرف سے معمول سے مختلف اور ’سرپھرے‘ ہیر سٹائل رکھنے پر پابندی لگا دی جائے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!