’داعش‘ کے لیے 70 ملکوں کے جنگجو سرگرم

2013 اور 2014 کے درمیان کم و بیس 15 ہزار نئے جنگجو داعش میں بھرتی ہوئے


داعش کے کمپیوٹر ڈیٹا کی روشنی میں دنیا کے 70 ملکوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے اس تنظیم میں سرگرم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

جرمن ویب سائیٹ کے مطابق داعش چھوڑ کر آنے والے ایک شخص نے اس تنظیم سے منسلک جنگجوؤں کے کوائف پر مشتمل ڈیٹا امریکی ٹیلی وژن نیٹ ورک این بی سی کے حوالے کیا تھا، این بی سی نے یہ دستاویزات امریکا کے  انسدادِ دہشت گردی کے مرکز سی ٹی سی (کمبیٹنگ ٹیررازم سینٹر) کے حوالے کر دی تھیں۔ سی ٹی سی نے این بی سی سے ملنے والے ڈیٹا کا موازنہ امریکی محکمہٴ دفاع کے ریکارڈ کے ساتھ کیا اور تقریباً 98  فیصد ڈیٹا کی تصدیق کر دی۔ بھرتی ہونے والے جنگجوؤں نے رجسٹریشن کے یہ فارم عربی زبان میں پُر کیے ہیں اور کئی ایک پر ان فارموں کو جانچنے والوں کے نوٹس بھی ہیں۔

2013 اور 2014 کے درمیانی عرصے میں جو کم و بیس 15 ہزار نئے جنگجو داعش میں بھرتی ہوئے، اُن میں سے تقریباً30  فیصد کا ڈیٹا ان فارموں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈیٹا سی ٹی سی کی ویب سائٹ پر جا کر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بھرتی ہونے والوں کی عمریں بارہ اور ستّر سال کے درمیان تھیں جبکہ اوسط عمر چھبیس یا 27سال بنتی ہے۔ 30 فیصد شادی شدہ جب کہ 61 فیصد غیر شادی شدہ تھے۔

داعش  کا حصہ بننے والے 400 افراد کی عمریں اٹھارہ سال سے کم تھیں۔ سب سے زیادہ یعنی 579 سعودی باشندے تھے۔ اس کے بعد تیونس (559)، مراکش (240)، ترکی (212)، مصر (151) اور روس (141) کے شہریوں کے نام آتے ہیں۔ 49 افراد فرانس سے، 38 جرمنی سے، 30 لبنان سے، 26 برطانیہ سے، 11 آسٹریلیا سے جبکہ 7 کینیڈا سے داعش میں بھرتی کیے گئے۔ امریکا سے کوئی ایک بھی نام ان میں شامل نہیں ہے۔ 

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!