ایران کی ’’چاہ بہار‘‘ کے بعد بنگلا دیش کی ’’پیارا‘‘ بھی بھارت کو پیاری

بنگلا دیش نے پیارا پورٹ کی اپ گریڈیشن کا ٹھیکہ چین ے لے کر بھارت کو دے دیا

بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے بعد اب بنگلا دیش کی پیارا پورٹ کو اپ گریڈ کرنے کا ٹھیکا بھی اپنے نام کرلیا۔

پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کے لیے بھارت کی سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، ایک جانب جہاں   اس نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو اپ گریڈ کرکے ایران اور افغانستان کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا ہے وہیں اب اس نے بنگلا دیش میں بھی اپنے پیر پھیلانے کی تیاری پکڑ لی۔ چین پاکستان میں راہداری منصوبے کے آغاز کے ساتھ ساتھ گوادر بندرگاہ کو بھی ترقی دے رہا ہے اس کے علاوہ سری لنکا کی کولمبو بندرگاہ کو ترقی دینے کے معاہدے نے بھی نئی دہلی کے علاوہ ایران اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔

بنگلا دیش میں حسینہ واجد کی حکومت جو پہلے ہی پاکستان کی دشمنی میں اندھی ہے نے اپنی ’’پیارا‘‘ بندرگاہ کو اپ گریڈ کرنے کے لیے بھارت سے رجوع کرلیا ہے، پیارا پورٹ کی اپ گریڈیشن کا کام پہلے چین کی کمپنی کو دیا گیا تھا تاہم چند ماہ پہلے حسینہ واجد کی سرکار نے چند ماہ قبل اس معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔

بھارت کے وزیر شپنگ نیتن گڈکڑی کا کہناہے کہ ”پیارا بندرگاہ“ کو بھی چاہ بہار کی سطح پر ترقی دی جائیگی بھارتی اور بنگلہ دیشی کمپنیوں کا کنسوریشم اس منصوبے پر سرمایہ لگائے گا۔ بھارتی ماہرین کی ٹیم اس وقت ڈھاکا میں موجود ہے جو بندرگاہ کی اپ گریڈیشن کے معاہدے کو حتمی شکل دے رہی ہے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!