فحاشی کےناسورنےپاکستانی خواتین کوبھی لپیٹ میں لےلیا

دنیاکی سب سےبڑی فحش ویب سائٹ کی جاری کی جانے والی تازہ ترین رپورٹ

مغرب سے شروع ہونے والا فحش فلموں کا ناسور اب دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور ایسے ممالک اور طبقات بھی اب اس مرض میں مبتلا ہورہے ہیں کہ جنہیں کبھی اس لعنت سے محفوط تصور کیا جاتا تھا۔

دنیا کی سب سے بڑی فحش ویب سائٹ کی طرف سے جاری کی جانے والی تازہ ترین رپورٹ بھی کچھ ایسے ہی تشویشناک اعدادوشمار سے پردہ اٹھا رہی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق رپورٹ میں دنیا بھر سے اس ویب سائٹ کو وزٹ کرنے والی خواتین کے اعدادوشمار دئیے گئے ہیں جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مختلف ممالک کی خواتین کس قسم کا فحش مواد تلاش کرتی ہیں۔

بدقسمتی سے اس رپورٹ میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہاں کی انٹرنیٹ صارفین زنانہ ہم جنس مواد میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔ رپورٹ میں دیگر درجنوں ممالک کی خواتین کے قابل اعتراض مواد کے متعلق رجحانات کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔

امریکی خواتین کی پسندیدہ ترین فحش مواد کیٹیگری سیاہ فام بتائی گئی ہے جبکہ برطانیہ میں قید و بند، کینیڈا میں قید و بند، برازیل میں خواجہ سرا، فرانس میں معمر، آسٹریلیا میں ایشیائی، روس میں لواطت، میکسیکو میں کارٹون، اٹلی میں معمر اور جاپان میں کارٹون کیٹیگری کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

ویب سائٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے روزانہ تقریباً چھ کروڑ انٹرنیٹ صارفین وزٹ کرتے ہیں، جن میں سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ خواتین ہوتی ہیں۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!