اردو ادب کو اپنے قلم سے جلا بخشنے والے احمد ندیم قاسمی

معروف افسانہ نگار، ممتازشاعراحمدندیم قاسمی کی آج دسویں برسی منائی جارہی ہے

پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز ممتاز شاعر، سیکڑوں نظموں، غزلوں، نثروں، افسانوں کے خالق احمد ندیم قاسمی کی 10ویں برسی آج منائی جائی گی۔

احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916 کو مغربی پنجاب کی وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ ان کااصل نام احمد شاہ جب کہ ندیم ان کا تخلص تھا۔ انھوں نے ادب کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی۔ جن میں شاعری ،تنقید، افسانہ نگاری، بچوں کے ادب کے علاوہ انشائیے اور ڈرامے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے افسانہ نگار اور شاعر کی حیثیت سے اس وقت خود کو نمایاں کیا جب بر اعظم پاک وہند میں ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔ وہ بنیادی طور پر ایک شاعر تھے مگر افسانہ نگاری میں بھی انھوں نے پہاڑوں کی برف، نصیب، لارنس آف تھیلیسیا، بھاڑا، بدنام جیسے ان کے افسانے تحریر کیے۔

علاوہ ازیں ان کے علاوہ بھی کفن دفن، رئیس خانہ، موچی، خربوزے، ماسی گل بانو، ماں، آتش گل، نیلا پتھر، عاجز بندہ، بے گناہ، سلطان وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں۔ ادب کی دنیا کا یہ درخشندہ ستارہ 10 جولائی 2006 کو لاہور میں اس دارفانی سے کوچ کرگیا۔ معروف بھارتی نغمہ نگار، رائٹر، ڈائریکٹر گلزار انھیں اپنا روحانی استاد مانتے تھے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!