پولیس افسر کی بیوی بچوں کے اغوا میں ملوث

پشاور:سابق پولیس افسرکی اہلیہ بچوں کے اغوامیں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار

خیبر پختونخوا پولیس کے سابق آفیسر کی اہلیہ کو بچوں کے اغوا میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) کینٹ کاشف ذوالفقار نے سابق ڈی ایس پی کی اہلیہ کو، بچوں کے اغوا کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے شبے میں گلبہار کے علاقے سے حراست میں لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سابق ڈی ایس پی کی اہلیہ کو 4 روز قبل گرفتار کیا گیا اور ان سے بچوں کے اغوا سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

سابق پولیس آفیسر کی اہلیہ گلبہار کے علاقے میں ایک میٹرنٹی ہوم چلا رہی تھیں۔

کاشف ذوالفقار کا مزید کہنا تھا کہ خاتون کی گرفتاری سابق پولیس آفیسر کے اثر و رسوخ کی وجہ سے فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی، ان کے شوہر انہیں گرفتاری سے بچانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی اہلیہ کو گرفتاری سے نہ بچا سکے۔

انہوں نے کہا کہ شہر سے بچوں کے اغوا کی وارداتوں میں 16 سے 18 رکنی گینگ ملوث ہے، جس کے 10 ارکان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایس پی کینٹ کا کہنا تھا کہ سابق پولیس آفیسر کی اہلیہ کی گرفتاری ان ہی 10 ملزمان میں سے ایک کی معلومات کی بنا پر ممکن ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ اس گینگ میں شامل ایک لیڈی ڈاکٹر گرفتاری سے بچنے کے لیے لندن فرار ہوگئی، لیکن ہم اسے بھی جلد گرفتار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

گرفتاریوں کے حوالے سے ایس پی کینٹ کے ان انکشافات کے بعد بچوں کے اغوا سے متعلق کیس نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔

گزشتہ جمعہ کو پشاور کے سرکاری ہسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز سے نومولود بچوں کو اغوا کرکے انہیں پیسوں کے عوض فروخت کرنے والے گروہ کے 6 ارکان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پیر کے روز نومولود بچوں کے اغوا میں ملوث گروہ کی نشاندہی پر پولیس نے اپنی نوزائیدہ بیٹی کو مبینہ اغوا کاروں کے ہاتھوں فروخت کرنے والے جوڑے کو گرفتار کرلیا۔

امتیاز اور ان کی اہلیہ کو نوشہرہ کے پبی روڈ کے علاقے سے چائلڈ ٹریفکنگ کے الزمات کے تحت ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ملک کے اکثر علاقوں خصوصاً پنجاب اور پشاور میں بچوں کے اغواء کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔

پنجاب خاص طور پر لاہور میں بچوں کی بڑے پیمانے پر گمشدگی نے والدین کو خوف زدہ کر رکھا ہے۔

گذشتہ دنوں پنجاب کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے سامنے پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2011 سے جولائی 2016 کے دوران پنجاب سے 6 ہزار 793 بچے اغواء یا لاپتہ ہوئے، تاہم ان میں سے 98 فیصد بچے یعنی 6 ہزار 661 بچے یا تو واپس آگئے یا انہیں بازیاب کروا لیا گیا، جبکہ 132 بچے اب بھی لاپتہ ہیں۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!