تربت میں ماں، بہن اور بیٹیوں کا سڑکوں پر چوتھا دن

بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے تربت میں خواتین کا دھرنا چوتھے روز بھی جاری رہا۔

دھرنے کے چوتھے روز خواتین نے احتجاجی سلسلے میں وسعت لاتے ہوئے تربت بازار کو بھی احتجاجا بند کردیا جس کی وجہ سے شہر بھر میں کاروبار زندگی مفلوج ہے ۔ گزشتہ روز فورسز نے گھر میں موجود ایک خاتون کو دو بچیوں سمیت گرفتار ی کے نام پر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ بلوچ خواتین و بچوں کے اغواءکی خبر پر لوگوں کی بڑی تعداد نے بی این ایف کے دھرنے میں شامل ہوکر ریاستی دہشتگردی کے خلاف شدید نعرے بازی کر کے مطالبہ کیا کہ حراست میں لی گئی خاتون و بچوں کو فوری رہا کیا جائے۔ بی این ایف کے ترجمان نے خواتین کی اغواءنما گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی فورسز بلوچستان میں جبر کا بازار گرم کےے ہوئے ہیں ۔ خواتین کے طویل احتجاج کے باوجود فورسز نے محاصرہ ختم کرنے کے بجائے محصور خواتین میں سے ایک کو بچوں سمیت گرفتار کیا، جن کے بارے میں کسی کو خبر نہیں کہ وہ کدھر اور کس حال میں ہے۔ بی این ایف کے ترجمان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کی کاروائیوں کے خلاف اگر بروقت عالمی ردعمل سامنے نہ آیا تو یہ خاموشی بلوچستان میں ریاستی فورسز کی جانب سے بنگلہ دیش طرز کی کاروائیوں کو دہرانے کا سبب بن سکتی ہے۔ ترجمان نے اعلان کیا کہ اگر فورسز نے بلوچ خواتین کو فوری رہا نہیں کیا تو احتجاج کے سلسلے میں وسعت و شدت لائی جائے گی۔ 

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!