ڈنڈوں، انڈوں اور بلوں کی سیاست نہیں کرتے

سندھ حکومت کاکچےکےعلاقےسکھراورلاڑکانہ میں آپریشن کرنےکافیصلہ

مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کچے کے علاقے سکھر اور لاڑکانہ میں آپریشن کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ جبری ریٹائرمنٹ اور برطرفیوں کیخلاف آئینی تحفظ دیا جائے گا، سندھ میں دہشت گرد بلوچستان سے داخل ہوتے ہیں۔ حکومت پر جب بھی مشکل وقت آتا ہے تو ” گلو بٹوں“ کو آگے لے آتے ہیں، پی ٹی آئی سے تصادم کا فائدہ حکومت کو نہیں ہو گا۔

آسمانی نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت امن وا مان کے حوالے سے جاری اجلاس کے بعدمیڈیا بریفنگ دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ مدارس کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ اجلاس میں آئی جی سندھ نے شکار پور واقعے اور سندھ میں امن و امان کے حوالے سے بریفنگ دی ہے اور دیگر اہم معامالات پر بات ہوئی ہے جبکہ اجلا س میں قانون سازی پر زیادہ غور کیا گیا تاہم سندھ بھر میں امن و امان بہتر ہو گیا ہے اور جرائم میں مسلسل کمی آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے واپڈا حکام کو کہا ہے کہ بلوں پر کنٹرول کیا جائے۔ اس کے علاوہ اسلحے کی نمائش پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ موٹر سائیکل سواروں کیلئے ہیلمٹ پہننے اور ون ویلرز کے خلاف کارروائی کیلئے قانون بنانے کے حوالے سے بھی فیصلہ ہوا ہے جس کے بعد ہیلمٹ نہ پہننے اورون ویلنگ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔

مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ڈنڈوں، انڈوں اور بلوں کی سیاست نہیں کرتی۔ حکومت کو پی ٹی آئی سے تصادم کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ حکومت کو چاہئیے کہ اپوزیشن کیساتھ بات کرے۔

رائیونڈ مارچ کے حوالے سے سوال پر انکا کہنا تھا کہ حکومت پر تھوڑی سی تکلیف آتی ہے تو گلو بٹوں کو آگے لے آتے ہیں۔ شکار پور واقعے پر حکومت کسیاتھ رابطے میں ہیں۔ جرائم پیشہ افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا اور ٹریفک قوانی پر عملدرآمد کیلئے جرمانوں کی شرح بڑھا رہے ہیں جس کیلئے قانون بن رہا ہے جبکہ اسلحہ کی نمائش پر پابندی پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!