ایم کیوایم پاکستان کابانی کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

سندھ اسمبلی میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کیخلاف قراردادیں متفقہ طور پر منظور

سندھ اسمبلی میں ملک کے خلاف اشتعال انگیز تقریر، نعرے بازی اور میڈیا ہاؤسز پر حملےپرالطاف حسین کیخلاف مختلف جماعتوں کیجانب سے پیش کی جانیوالی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں۔

آسمانی نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سید سردار احمد، مسلم لیگ فنکشنل کی نصرت سحر عباسی اور تحریک انصاف کے خرم شیر زمان نے 22 اگست کی اشتعال انگیز تقریر کے خلاف قراردادیں پیش کیں، قراردادوں میں کہا گیا کہ دہشت گردی ،پاکستان مخالف نعروں، ہر قسم کے جرائم اورتشدد کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان مخالف نعرے لگانے والوں کو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سخت سزا دی جائے۔

کارروائی کے دوران پاکستان کےغداروں کےخلاف ایوان کی گیسٹ گیلری سےنعرے بازی کی گئی تاہم اسپیکر نے مہمانوں کو نعرے بازی سے روک دیا۔ قراردادوں پر اظہار خیال کے بعد ایوان نے متفقہ طور پر قراردادیں منظور کرلیں۔

مذمتی قراردادوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رؤف صدیقی نے کہا کہ وہ اسلام اور پاکستان پر کوئی سمجھوتا نہیں کرسکتے، پاکستان بنانے کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے قربانی دی، پاکستان کی سلامتی کے لئے جتنی بھی قربانی چاہئے دینے کے لیے تیار ہیں، پاکستان کےخلاف اس شخص نے بات کی جس سے وہ سب سے زیادہ عقیدت رکھتے تھے لیکن جب محبت اورعقیدت ٹوٹتی ہے تو ایک المیہ ہوتا ہے۔ جس پریس کلب کے باہر پاکستان کے خلاف نعرے لگے، اسی پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے آواز اٹھائی۔

مسلم لیگ فنکشنل کی مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ سندھ پر تمام حکمران جماعتوں نے کوتاہی کی، آج ہم سب اپنے حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں، آج ہمیں اپنے آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے، سسٹم کو ٹھیک کیا جائے، ہمارا نصاب ہمارے جدید کردار کا ذکر نہیں کرتا، صولت مرزا کی پھانسی کے وقت ایم کیو ایم نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا، اس وقت انہوں نے اسی ایوان میں کہا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ایم کیو ایم اپنے قائد سے لاتعلقی اختیار کرے گی اور وہ وقت آگیا۔

اس سے قبل اسپیکر آغا سراج درانی کی سربراہی میں سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تاہم اجلاس کے ابتدا میں کئی برسوں کی روایات کے برعکس ایم کیو ایم کے ارکان کی جانب سے اپنی جماعت کے بانی کی درازی عمر کے لیے دعا نہیں کرائی گئی۔ اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اسپیکر نے نومنتخب اراکین اسمبلی اورنگزیب پنہور اور مرتضیٰ بلوچ سے حلف لیا۔

اجلاس کے دوران مسلم لیگ فنکشنل کی نصرت سحر عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج امن کا عالمی دن ہے، ہم بھارت کےعزائم اور حملے کےارادے کی مذمت کرتے ہیں، اللہ بھارت کے ناپاک عزائم کو نیست و نابود فرمائے۔ فنکشنل لیگ کے نند کمار نے شکار پور کی زینب کے ساتھ زیادتی سے متعلق تحریک التوا پیش کی، جس کے جواب میں نثار کھوڑو نے کہا کہ زیادتی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور اب یہ مقدمہ قانون کے مطابق عدالت میں زیر سماعت ہے۔

اس دوران اسپیکر آغاسراج درانی نے رؤف صدیقی سے خیریت دریافت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا وزن بہت بڑھ گیاہے۔ اللہ کسی کو جیل نہ بھیجے،آپ کو جیل کا بھی تجربہ ہوگیا۔ اسپیکر نے رؤف صدیقی سے شعر کی فرمائش کی جس پر رؤف صدیقی نے اپنی اسیری پر شعر کہا۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!