میں مہاجر نہیں، میں تو پاکستان میں پیدا ہوا ہوں

22 اگست کے بعد مہاجروں کی پہچان پر بحث شروع ہوگئی ہے، فیصل سبزواری

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن فیصل سبزواری ایم کیو ایم پاکستان پر لگنے والے الزامات پر پھٹ پڑے کہتے ہیں کہ 22 اگست کے بعد مہاجروں کی پہچان پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

آسمانی نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے فیصل سبزواری نے کہا کہ 22 اگست کو جو ہوا وہ ایم کیو ایم کی بھوک ہڑتال کا نتیجہ نہیں تھا لیکن 22 اگست کے بعد مہاجروں کی پہچان پر بحث شروع ہوگئی، ہم اپنے معاملات میں بالکل واضح ہیں، ہم پر جو قرض ہے ہم نے وہ قرض اتارنے کے لئےانتہائی تلخ فیصلہ کیاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ خوف کے باعث ایم کیو ایم پاکستان بنائی گئی، ہم قائد ایم کیو ایم سے علیحدہ کسی خوف کے باعث نہیں ہوئے، اگر ہم خوفزدہ ہوتے تو خاموش ہو کر بیٹھ جاتے پاکستان نہ آتے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک وفاقی کوٹہ ہے لیکن سندھ میں ایک صوبائی کوٹہ بھی ہے۔ میں مہاجر نہیں، میں تو پاکستان میں پیدا ہوا ہوں۔ میں درسی نصاب میں سندھی پڑھ رکھی ہے اور میں ایوان میں بولی جانے والی سندھی کو بھی سمجھتا ہوں۔

فیصل سبزواری نے کہا کہ وزیراعلی سندھ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے خواجہ اظہار کی گرفتاری پر صحیح قدم اٹھایا، ہم نے ذمے دارانہ سیاست کا بیڑہ اٹھایا ہے اور مشکل وقت میں سیاست کرتے رہیں گے، ہمیں سوشل میڈیا پر گالیاں دی جارہی ہیں اور غدار قرار دیا جارہا ہے، زخم پر نمک لگانا آسان ہے اور مرہم رکھنا مشکل۔ مہاجر غدار نہ تھے، نہ ہیں اور نہ ہوں گے، ہم اس ریاست کے شہری ہیں، ریاست اور حکومت سے شکوہ کریں گے، ہمیں دیوار سے نہ لگایا جائے، ہمارا ساتھ دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں کئی بار اکثریت ہونے کے باوجود ایم کیوایم کا وزیراعلیٰ نہیں بنایا گیا۔ کسی کو اچھا لگے یا برا ہمارے بڑوں نے ملک کے لیے جدوجہد کی اور قربانیاں دی ہیں، ہمارے پاس بھوک ہڑتال کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بھوک ہڑتال میں ہمارے ساتھ یہ ہوجائے گا اندازہ نہیں تھا۔ وہ ایم کیو ایم کے بانی کی نہیں اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں لیکن انصاف سب کے لیے ہونا چاہیے، نجی چینل پر حملے پر آرٹیکل 6 لگایا جائے اور پی ٹی وی پرحملہ کرنے والوں کو چھوڑ دیا جائے۔ بانی ایم کیو ایم کہے تو آرٹیکل 6 اور کوئی ایسی بات کرے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!