چاہتے تو پارٹی بدل کر قابل قبول بن جاتے

22اگست کوہماری دل آزاری ہوئی،وہ رات کسی قیامت سے کم نہیں تھی،خواجہ اظہار

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہارالحسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے پنجاب، خیبر پختونخوا یا بلوچستان سے کبھی فرمائشوں کی فہرست نہیں مانگی اس لئے ہمیں فرمائشوں کی فہرست دینا بند کی جائے۔

آسمانی نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا 22  اگست کو ہماری دل آزاری ہوئی اور وہ رات کسی قیامت سے کم نہیں تھی، 22 اگست کو تمام جماعتوں نے بھوک ہڑتال میں ساتھ دیا اور ہماری خواہش تھی کہ بھوک ہڑتال شام تک ختم ہوجائے تاہم ہمیں حکومتی نمایندے کا انتظار تھا جس کے آنے پر بھوک ہڑتال ختم کردیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پر جو گزر رہی ہے اس کا اندازہ آپ کو بھی نہیں کیونکہ اس پارٹی میں ہم نے اپنا بچپن گزارا لیکن اس واقعے پر میرا پہلا جملہ یہی تھا کہ سخت ایکشن لیں۔

خواجہ اظہار کا کہنا تھاکہ ہم بھی دوسروں کی طرح ملک سے باہر جا سکتے تھے یا پھر پارٹی بدل کرقابل قبول بن جاتے تو پورا پاکستان تسلیم کرلیتا لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ پریس کلب میں جاکر نہ صرف مذمت کرنی ہے بلکہ قطع تعلق کے ساتھ معذرت بھی کرنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے پنجاب اور کے پی کے سمیت بلوچستان سے کبھی فرمائشوں کی فہرست نہیں مانگی لہذا ایم کیو ایم سے بھی فرمائشوں کی فہرست دینی بند کی جائے اور اگر نہیں تو پھر ایم کیو ایم کو ہی بند کردیں اور یہ تجربہ بھی کرکے دیکھ لیں۔

خواجہ اظہار کا کہنا تھا کہ نعرے لگ جایا کرتے ہیں اور ایسے سیکڑوں واقعات ہیں جب کہ اس نعرے کے بعد بھی 15ہزار ووٹ ملےجو اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی غریبوں کے لیے ایم کیو ایم ہی امید کی کرن ہے تاہم وعدہ کرتے ہیں کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!