پنجاب میں 40 فیصد ادویات جعلی

پنجاب میں فلو سے لے کر کینسر تک کی40فیصد ادویات جعلی فروخت ہو رہی ہیں


اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں  محمود الرشید  نے پنجاب میں  صحت سے متعلق وائٹ پیپر جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پنجاب میں  فلو سے لیکر کینسر تک کی40فیصد ادویات جعلی فروخت ہو رہی ہیں۔

پنجاب پبلک سیکرٹریٹ سے جاری وائٹ پیپر میں اپوزیشن لیڈر میاں  محمود الر شید نے عالمی ادارہ صحت  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ1000افراد کی آبادی کے لئے کم ازکم ایک ڈاکٹر،200افراد کیلئے ایک ڈینٹیسٹ ہونا چاہئے جبکہ5مریضوں  کی دیکھ بال کیلئے  ایک نرس کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن بدلا ہے پنجاب کا نعرہ بلند کرنے والے نا اہل حکمرانوں  کی ناقص پالیسیوں  کی بدولت پنجاب میں 2173افراد کیلئے ایک ڈاکٹر،400افراد کیلئے ایک ڈینٹیسٹ ہے۔ 

صحت کا شعبہ کسی بھی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، حکومتوں  کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات کی موثرفراہمی کو یقینی بنائے لیکن پاکستان کے اہم اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں  صحت کی  صورتحال انتہائی نا گفتہ بہ ہے۔ یہاں  حکمران 200ارب روپے اورنج ٹرین پر تو خرچ کرسکتے ہیں  لیکن انسانی جانوں  اور صوبے کے غریب عوام کی صحت پر کوئی توجہ ہی نہیں ۔ یہاں  اسپتالوں  میں  غریب کو ملنی والی مفت ادویات آئے روز نا پید رہتی ہیں  مارکیٹ میں  گزشتہ برس اس کی قیمتوں  میں 200فیصد اضافہ ہوا۔

عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ پنجاب میں فلو سے لے کر کینسر تک کی40فیصد ادویات جعلی فروخت ہو رہی ہیں  جبکہ ممنوع ادویہ، نشہ آور ٹیکہ جات میں  مارکیٹ میں  با آسانی دستیاب ہوتے ہیں  ۔ پنجاب میں حکومت کی ناقص حکمت عملی اور غیر سنجیدہ رویے کے باعث صحت کی صورتحال سنگین اور مختلف بیماریوں  کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ پنجاب میں  ٹی بی کے مریضوں  کی تعداد34لاکھ ہو گئی ہے اور اس میں  ہر سال بتدریج اکھ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ  صوبے میں گندا پانی پی کر ہیپاٹائٹس کے مریضوں  کی تعداد70لاکھ سے زائد ہو گئی ہے اور اس میں  سالانہ تین لاکھ سے زائد کا اصافہ ہو رہا ہے۔

پنجاب میں 2450 بنیادی مراکز صحت میں  سے 50فیصد سے زائد غیر فعال ہیں یہاں  ڈاکٹرز  اور ادویہ کی شدید قلت ہے، حکمران اپنی نالائقی اور سابق حکومت کے دور میں  تعمیر شدہ وزیر آباد کارڈیالوجی ہسپتال کو انتہائی ضرورت کے باوجود بھی مکمل فعال نہیں کر سکی۔ پنجاب میں  دوران زچگی ایک لاکھ میں  سے115 خواتین ہلاک ہو جاتی ہیں  جو انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔ 

میاں  محمود الر شید نے کہا کہ لاہور کے میو اسپتال کا سرجیکل ٹاور ہو، چلڈرن اسپتال کا بون میرو ٹرانسپلانٹ ہو، جناح اسپتال کا برن یونٹ ہو یا جنرل اسپتال کا انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز۔ کوئی بھی مکمل تعمیر یا فعال نہ ہو سکا۔ حکومت پورا سال اخبارات میں  دیو ہیکل اشتہارات تک محدود رہی جبکہ انسانیت ہسپتالوں  کی راہ داریوں  میں  سسکتی رہی ۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت نے انسان کو سڑکوں  اور پلوں  پر ترجیح نہ دی تو حالات مزید سنگین ہو جائیں  گے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!