فاروق اینڈ کمپنی کیلیے حیدرآباد میں جلسہ مشکل

فاروق ستار نے21 جنوری کو حیدرآباد میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا


ایم کیو ایم پاکستان نے حیدرآباد میں  اعلان کردہ اپنا جلسہ دوسری بار بھی ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ شدید ٹھنڈ کی لہر بتائی جا رہی ہے۔ 

ایم کیو ایم پاکستان نے 30 دسمبر کو نشتر پارک میں  جلسہ کا انعقاد کیا تھا جس میں  سربراہ ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے21 جنوری کو حیدرآباد میں  جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے بعد ایم کیو ایم لندن کی جانب سے پاکستان قومی موومنٹ کے ساتھ ملکر21 جنوری کو استحکام پاکستان ریلی نکالنے کا اعلان کیا تو ایم کیو ایم پاکستان نے اسی روز حیدرآباد میں  اپنے جلسے کو چھ روز کیلیے ملتوی کر کے27 جنوری کو کرنے کا پروگرام بنایا جس کے حوالے سے حیدرآباد کی تنظیم نے کارکنان اور ذمہ داران کے اجلاس بھی شروع کر دیے تھے

گزشتہ روز پیغام دیا گیا کہ سندھ اسمبلی میں  قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن حیدرآباد میں  بلدیاتی نمائندوں  سے ملاقات کریں  گے جبکہ ہفتہ خواجہ اظہار الحسن کی جگہ ڈپٹی کنوئینر رابطہ کمیٹی و حیدرآباد سے ہی ایم این اے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی حیدرآباد پہنچے اور اجلاس کیا جس کے بعد پیغام دیا گیا کہ اتوار کو ڈاکٹر فاروق ستار حیدرآباد پہنچ کر پریس کانفرنس کریں  گے۔ 

ذرایع کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار پریس کانفرنس کے دوران شدید ٹھنڈ کی لہر کے باعث حیدرآباد کے جلسے کو دوسری بار ملتوی کرنے کا اعلان کرتے تاہم پھر ان کا پروگرام بھی ملتوی ہو گیا اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی مل گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے27 جنوری کو بھی حیدرآباد میں  جلسے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے وجہ اس وقت سردی کی حالیہ لہر بتائی جا رہی ہے۔ 

قیام ایم کیو ایم سے لے کر آج تک یہ پہلا موقع ہے کہ ایم کیو ایم کے جلسہ عام میں  ذمہ داران نے خود جلسہ کی  تاریخ کا اعلان کیا اور اسے دو بار ملتوی کر دیا ہے اور دوبارہ کوئی نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں  کیا 

دوسری جانب پی ایس پی نے 23 دسمبر کو حیدرآباد کے تاریخی پکا قلعہ میں  اپنا دوسرا جلسہ کیا اور 29 جنوری کو کراچی میں  جلسے کا اعلان کیا اور وہ 29 جنوری کو تبت سینٹر پر جلسے کی تیاریاں  شروع کر چکی ہے جس کیلیے حیدرآباد میں  بھی پی ایس پی کے آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین ،کارکنان اور ہمدردوں  سے رابطے میں  ہیں ۔ 

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!