رینجرز نہیں مانتی کہ لوگ اس کی غیرقانونی حراست میں ہیں، سندھ ہائیکورٹ

لاپتا افراد کے زیادہ تر الزامات رینجرز پر عائد ہیں

سندھ ہائی کورٹ نے جبری گمشدہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ لاپتاافراد کے زیادہ تر الزامات رینجرز پر عائد ہیں لیکن آج تک رینجرز نے تسلیم ہی نہیں کیا کہ لوگ غیرقانونی ان کی حراست میں ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ میں 100سے زائد  شہریوں کی گمشدگی کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران رینجرز پراسیکیوٹر کے پیش نہ ہونےاورجواب جمع نہ کرانےپرعدالت برہم ہوگئی۔

جسٹس فاروق شاہ نے ریمارکس دیئے کہ لاپتا افراد کے زیادہ تر الزامات رینجرز پر عائد ہیں لیکن آج تک رینجرز نے تسلیم ہی نہیں کیا کہ لوگ غیرقانونی ان کی حراست میں ہیں اور ان کی جانب سے دفاع میں اسٹیریو ٹائپ رپورٹس پیش کی جاتی ہیں، وفاقی حکومت بھی گمشدہ افراد کی بازیابی کیلیےاقدامات نہیں کررہی، ایسا لگتا ہے کہ عدالتیں خوامخواہ بنائی ہوئی ہیں۔ رینجرز کو دیے گیے اختیارات ختم ہونے سے سب خوش ہوگیے تھے لیکن اس سے جو نقصان ہورہا ہے اس کا کسی کو اندازہ نہیں۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!