ميٹرو منصوبے عوام كا مطالبہ نہيں حكمرانوں كي ضد

ملتان میٹرو کی رقم سے جنوبی پنجاب کے تمام اسکول اور کالج بنیادی سہولیات سے آراستہ ہوجاتے

ملتان میٹرو منصوبے پر 28 ارب روپے لاگت آئی اور اس رقم سے پورے جنوبي پنجاب ميں ہزاروں كلو ميٹر فارم ٹو ماركيٹ سڑكيں بن سكتي تھيں۔

 ملتان ميٹرو منصوبہ عوام كي ڈيمانڈ پر نہيں  حكمرانوں  كي ضد پر بنا ۔28 ارب روپے سے پورے جنوبي پنجاب ميں ہزاروں كلو ميٹر فارم ٹو ماركيٹ سڑكيں بن سكتي تھيں  ،پورے جنوبي پنجاب ميں  بنيادي صحت كے مراكزفعال بنائے جا سكتے تھے ۔جنوبي پنجاب كے تمام سكولوں  اور كالجوں  كو سو في صد بنيادي سہولتيں  اور اساتذہ مہيا كئے جا سكتے تھے ۔فيسني منصوبے اس وقت اچھے لگتے ہيں  جب غريب مريضوں كو دوائي اور بچوں كو تعليم ميسر ہو ،تخت لاہور كے بادشاہوں  نے ترقي كا اپنا الگ معيار بنا ركھا ہے ۔ 

جنوبي پنجاب ميں  60 في صد آبادي خط غربت سے نيچے ہے ،58 في صد پڑھے لكھے نوجوان بے روزگار ہيں  ۔70 في صد سے زائد كاشتكار جعلي بيجوں ،مہنگے ڈيزل اوراجناس كي كم لاگت كے باعث فاقوں  كي دہليز پر بيٹھے ہيں مگر وزير اعليٰ پنجاب ايسے منصوبوں پر بضد ہيں جس كا فائدہ صرف چند سريااور سيمنٹ بنانے والي كمپنيوں  اور ٹھيكيدداروں كو پہنچتا ہے ۔

وزير اعليٰ پنجاب ميٹرو ملتان بنانے كے بعد سمجھ رہے ہيں  جيسے پورے  جنوبي پنجاب كے مسائل حل ہو گئے اور يہ كہ ملتان كي ساري آبادي ميٹرو بس كي سڑك كے آس پاس رہائش پذير ہے۔ميٹرو بس ملتان كا راجن پور ،مظفر گڑھ ،بہاولپور،بہاولنگر ،ليہ،بھكر كے عوام كو كيا فائدہ ہے۔ ملتان اور جنوبي پنجاب كے عوام كو دل كے امراض كے علاج كيلئے معمولي ٹيسٹوں كيلئے بھي 6 ماہ كا وقت ملتا ہے،اہسپتالوں ميں  ايك ايك بيڈ پر دو مريض لٹائے جاتے ہيں ،بيشتر مريض لاہور آتے آتے اللہ كو پيارے ہو جاتے ہيں ۔

جنوبی پنجاب کی 80 في صد آبادي ناقص پاني پينے پر مجبور ہے اور ہيپاٹائٹس كے مريض بڑھ رہے ہيں  لیکن صاف پاني كا منصوبہ كرپشن كي وجہ سے ختم ہو جاتا ہے جبكہ ميٹرو جيسے منصوبے ہر حال ميں مكمل كئے جاتے ہيں ۔  شريف برادران ايسے منصوبوں  پر پيسہ خرچ كر رہے ہيں  جس كا عام آدمي كو كوئي فائدہ نہيں  ہوتا ۔اندكھ اس بات كا ہے جنوبي پنجاب سے ووٹ لينے والے ن ليگ كے نمائندوں  نے بھي  زبانوں كو تالے لگا ركھے ہيں اور وہ اپنے قائدين كے سامنے سچ بولنے كي جرات سے محروم ہيں ۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!