میو اسپتال لاہور میں کروڑوں کی ہیرا پھیری

3ماہ میں مریضوں کو غیر رجسٹر ڈ ا سٹنٹ ڈال کر دو کروڑ روپے کما لئے


لاہور کے شعبہ کارڈیالوجی میوا ہسپتال نے اسٹاک میں 850     میڈ یکیٹڈ اور  نان  میڈ یکیٹڈ ا سٹنٹس ہونے کے باوجود گزشتہ تین ماہ میں سٹاک سے انجیوگرافی کے مریضوں کو صرف 40     اسٹنٹ مفت ڈالے جبکہ 65  مریضوں  کو 200    ان رجسٹرڈ  ا سٹنٹ ڈال کر دو کروڑ روپے  کما لئے ۔ 

 بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز میو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹندنٹ ڈاکٹر طاہر حسین  اور  چیف فارماسسٹ ملک ارشاد  نے ایف آئی اے سائبرکرائم  کے ڈپٹی ڈائریکٹر  سائبر کرائم  ٹیکنیکل  سرفراز علی اور  تفتیشی افسر  اسسٹنٹ ڈائریکٹر  چوہدری اعجاز احمد  پر مشتمل  ٹیم  کو اپنے بیان میں  بتایا کہ  میو  ااسپتال کے  اسٹاک میں  450میڈیکیٹڈ اسٹنٹ  اور  400   ان  میڈیکیٹڈ  اسٹنٹ موجود ہیں  

قانون کے مطابق انجیوگرافی کے مریضوں  کو سٹاک سے مفت سٹنٹ فراہم کئے جاتے ہیں، گزشتہ تین ماہ کے دوران سٹاک سے انجیو گرافی کے  مریضوں کو40 مفت  سٹنٹ فراہم کئے گئے ۔ انہوں  نے کہا کہ انہیں  نہیں  معلوم کہ شعبہ کارڈیالوجی  میو  اسپتال کے ڈاکٹروں  نے انجیوگرافی کے 65 مریضوں  کو سٹاک سے مفت  اسٹنٹ  فراہم کرنے کی بجائے  ان  رجسٹرڈ  سٹنٹ کیوں  ڈالے  ؟ اس کا جواب  شعبہ کارڈیالوجی  کے ڈاکٹر ہی دے سکتے ہیں  ۔

 ایم  ایس ڈاکٹر  طاہر حسین نے  ا سٹاک میں  موجود  اسٹنٹس  اور  گزشتہ  تین  ماہ  میں   انجیو گرافی  کرانے  والے  تمام  مریضوں  کا ریکارڈ  ایف آئی اے ٹیم کے حوالے کیا ۔  تفتیشی ٹیم نے  انجیوگرافی  کرانے  والے  تمام  مریضوں   کا ریکارڈ  سائبرکرائم  کے  اے  ایس  آئی  محمد  یاسر  کے  حوالے کرتے ہوئے اسے ہدایت کی ہے کہ وہ تمام مریضوں  کو طلب کر کے ان سے ان  کے آپریشن  کے تمام کوائف معلوم کریں  ۔ 

اس موقع  پر بیگم پورہ لاہور کے ایک شہری ندیم سعید  نے تفتیشی ٹیم کو تحریری بیان  دیا کہ  چند ماہ قبل وہ انجیو گرافی کے لئے عمر ہسپتال میں  کارڈیالوجسٹ  ڈاکٹر زبیر اکرم  سے ملا   تو انہون نے ضروری لیبارٹری ٹیسٹوں  کے بعد بتایا کہ  اسے اڑھائی لاکھ روپے میں  ایک سٹنٹ ڈالا جائے گا ۔ وہ عمر ہسپتال سے میوہسپتال چلا  گیا  جہاں  شعبہ کارڈیالوجی کے سربراہ  پروفیسر  ڈاکٹر  ثاقب شفیع  نے اسے چیک کرنے کے بعد بتایا کہ اسے دو سٹنٹ ڈالے جائیں  گے جس کے لئے وہ پانچ لاکھ روپے جمع کروا دے ۔ اس نے پروفیسر ڈاکٹر ثاقب شفیع کو  عمرا ہسپتال کی رپورٹیں  دکھاتے ہوئے کہا کہ  ڈاکٹر زبیر اکرم نے تو ایک سٹنٹ ڈالنے  کا کہا ہے  تو  پروفیسر ڈاکٹر   ثاقب شفیع نے کہا کہ وہ عمر ہسپتال کی انجیوگرافی کو نہیں  مانتے۔  وہ مایوس ہو کر عمر اسپتال آ گیا اور اڑھائی لاکھ روپے میں ایک  ا سٹنٹ ڈلوا لیا ۔

ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم نے ڈریپ کے ڈائریکٹر پرائسنگ امان اللہ اور ڈائریکٹر رجسٹریشن  غلام رسول کو طلب کر لیا ہے کہ وہ بتائیں  کہ  جب  55 پرائیویٹ کمپنیاں   رجسٹریشن کروانے کے بعد بیرون ملک سے ا سٹنٹ  امپورٹ کرتی رہیں  تو انہوںنے اسٹنٹس کی  قیمت مقرر کیوں  نہ کی  جبکہ قانونی طور پر سٹنٹس کی قیمت مقرر کرنے کے پابند ہیں ۔

ایف آئی اے  کی تفتیشی ٹیم نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ  بعج پرائیویت کمپنیون  نے بیرون  ملک سے  زائدالمعیاد  اور کمتر کوالٹی کے سٹنٹ  سمگل کر کے  انہیں   امریکہ اور ہالینڈ کی پیکنگ میں  پانچ گنا زیادہ قیمت میں  فروخت کیا۔

ایف آئی اے نے کسٹمز ڈیپارٹمنٹ سے سٹنٹ امپورٹ کرنے والی تمام کمپنیوں  کا ریکارڈ  طلب کر لیا ہے ۔ ریکارڈ ملنے پر  تفتیشی ٹیم  تمام کمپنیوں  کے سٹنٹس کا سٹاک چیک کر کے سمگل شدہ سٹنٹس کا سکینڈل بھی بے نقاب کرے گی۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!