سینکڑوں خواتین پر تیزاب پھینکا جاچکا ہے ,یہ شہر پاکستان میں نہیں بلکہ ایسے ملک میں ہے کہ جان کر آپ کے لئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا بھیانک جرم

 عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا بھیانک جرم جہاں بھی ہو بہرحال یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ اس کی ہر ممکن مذمت کی جانی چاہیئے، لیکن بدقسمتی سے جب ایسے واقعات پاکستان جیسے ملک میں ہوتے ہیں تو ان پر فلمیں بھی بن جاتی ہیں، البتہ اس بات کا کہیں ذکر بھی نہیں ملتا کہ مغربی ممالک میں بھی یہ لرزہ خیز حملے قابو سے باہر ہورہے ہیں۔ 
یاہو نیوز کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک شہر لندن میں 2011ءسے لے کر اب تک تیزاب گردی کے 1500 واقعات پیش آچکے ہیں۔ ان حملوں کے متاثرین کی اکثریت چہرہ یا جسم جھلس جانے کی وجہ سے بدترین مصائب کے ساتھ زندگی گزاررہی ہے۔ تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی خواتین کی بڑی تعداد نفسیاتی اور سماجی مسائل کا سامنا بھی کررہی ہے۔

برطانیہ میں تیزاب گردی کے واقعات کس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس کا اندازہ حال ہی میں جاری کئے گئے اعدادوشمار سے کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ سال تیزاب گردی کے 431 واقعات پیش آئے، جو کہ اس سے پچھلے سال 170 تھے۔ 2005ءسے لے کر اب تک تیزاب سے جلائے جانے کے واقعات میں 50 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ گزشتہ چھ سال کے دوران لندن میں تیزاب گردی کے سب سے زیادہ واقعات نیو ہیم کے علاقے میں پیش آئے، جن کی تعداد 398 تھی۔ 
عالمی سطح پر جمع کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق تیزاب گردی کا نشانہ بننے والوں کی 80 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے ، جنہیں عموماً شادی سے انکار یا ہراساں کئے جانے کے خلاف آواز اٹھانے پر تیزاب گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ برطانیہ میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والوں کی غالب تعداد مرد ہیں، جن کی شرح 71 فیصد ہے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!