نواب شاہ کی پاروتی مسلمان ہونے پر مشکل میں پڑ گئی

فاطمہ نے 21مارچ کو اسلام قبول کیا

 نوابشاہ کی رہائشی نومسلم لڑکی فاطمہ نے کہا ہے کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیااور نہ ہی ورغلایا ہے بلکہ اس نے اپنی مرضی وخوشی سے اسلام قبول کرکے نعمت اﷲ سے پسند کی شادی کی ہے۔ 

حیدرآباد پریس کلب میں نعمت اﷲ کے ہمراہ  پریس کانفرنس میں  فاطمہ کا کہناتھا کہ اس نے 21مارچ کو اسلام قبول کیاجس پر ان کا نام پارتی سے تبدیل کرکے اسلامی نام فاطمہ رکھا گیا بعدازاں شریعت محمدی کے مطابق نعمت اﷲ سے شادی کی۔ 

فاطمہ نے کہا کہ ا س کےرشتے دار  اس عمل پر مشتعل ہوگئے ہیں  او ر خود اس کے سگے باپ نے تھانہ نوابشاہ میں  ان کے  اغواکی جھوٹی شکایت درج کرائی ،  جس پر پولیس نے ان کے سسر ابراہیم، دیور شاہد علی اور ساس ودیگر کو بغیر کسی مقدمے کے گرفتار کرکے لاک اپ کردیا ہے جبکہ پولیس ان کے شوہر کے دوستوں  کو بھی تنگ کررہی ہے۔ 

نوبیاہتا  جوڑےنے آئی جی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی نوابشاہ سے اپیل کی کہ انہیں  اور ان کے سسرالیوں  کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے گرفتار  بے گناہ افراد کو رہاکرایا جائے ۔ 

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!