چار گیندوں پر 92 رنز

بنگالی بولر نے امپائر سے خار نکالنے کے لیے نیا ریکارڈ بنا دیا

بنگلہ دیشی لیگ کرکٹ کے ایک میچ میں ایک بولر نے ’بری امپائرنگ‘ کے خلاف احتجاجاﹰ ایسی بولنگ کرائی کہ اس نے قانونی طور پر صرف چار گیندوں پر بانوے رنز دیے۔ ان بانوے رنز کو اپنی ہی نوعیت کا ایک نیا ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔

جنوبی ایشیا میں انتہائی مقبول کرکٹ کے کھیل میں کسی کھلاڑی کے احتجاج کی وجہ سے بننے والے اس انتہائی منفرد ریکارڈ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ڈھاکا سے نیوز ایجنسی روئٹرز نے بدھ بارہ اپریل کو لکھا کہ یہ ’’انہونی‘‘ بنگلہ دیشی دارالحکومت میں سیکنڈ ڈویژن کرکٹ لیگ کے ایک میچ کے دوران دیکھنے میں آئی۔
ڈھاکا کے لال متیا کلب اور ایکسیوم کرکٹرز کی ٹیموں کے مابین 11 اپریل کو میچ کھیلا گیا۔ جس میچ میں لال متیا کلب کے بولر سُوجون محمود نے قانونی طور پر جائز ڈلیوری قرار دی جانے والی صرف چار گیندوں پر 92 رنز دیے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ان چار گیندوں کے دوران محمود کی بار بار کی جانے والی نو بالز اور وائیڈ قرار دی جانے والی گیندیں گراؤنڈ کے اندر جگہ جگہ گرتی اور کئی بار باؤنڈری کے پار جاتی دکھائی دیں۔
روئٹرز نے لکھا ہے کہ اس بولر نے اپنی ٹیم کی طرف سے بولنگ کراتے ہوئے درست قرار دی گئی صرف چار گیندوں کے دوران 15 نوبال اور 13 وائیڈ بال کرائے اور ایسی ہر وائیڈ بال باؤنڈری پار کر جانے کی وجہ سے چار رنز کا سبب بنی۔
اس کے علاوہ محمود نے اپنی چار قانونی ڈلیوریز پر بھی 12 رنز دیے، جس کے نتیجے میں ایکسیوم کی حریف ٹیم نے یہ میچ 10 وکٹوں سے جیت لیا۔ اس سے قبل لال متیا کلب کی پوری ٹیم اس لیگ میچ میں محض 88 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی۔
میچ میں محمود اور ان کی ٹیم کے مطابق امپائر نے لال متیا کلب کو زبردستی پہلے بیٹنگ پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ امپائرز کے کئی فیصلے بھی، جو مبینہ طور پر یا تو قطعی غلط یا انتہائی مشکوک تھے، اس ٹیم  کے خلاف گئے۔
بعد میں لال متیا کلب کے سیکرٹری جنرل عدنان رحمان سیپون نے اخبار ڈھاکا ٹریبیون کو بتایا کہ یہ ’تباہ کن امپائرنگ‘ اسی وقت شروع ہو گئی تھی، جب میچ کے لیے ٹاس کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری ٹیم کے کپتان کو ٹاس کے لیے استعمال ہونے والا سکہ دیکھنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ پھر ہمیں زبردستی پہلے بیٹنگ کے لیے بھیج دیا گیا۔ رہی سہی کسر ہمارے خلاف امپائروں کے فیصلوں نے پوری کر دی۔‘‘
ڈھاکا کی اس سیکنڈ ڈویژن کرکٹ لیگ کے بارے میں یہ بات اہم ہے کہ اس میں امپائروں کے فیصلے کئی تنازعات کا باعث بن چکے ہیں۔ ابھی پیر دس اپریل کے روز ہی فیئر فائٹرز سپورٹنگ کلب کے بولر تسنیم حسن نے بھی وہی کام کیا تھا، جو منگل کے روز لال متیا کلب کے بولر محمود نے کیا۔
تسنیم حسن نے بھی اپنی ٹیم کے ایک میچ میں بری امپائرنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کرکٹ کے ضابطوں کے مطابق جائز قرار دی گئی صرف سات گیندوں پر  69 رنز دیے تھے۔ اس کے اگلے ہی روز محض چار گیندوں پر 92 رنز بہرحال ایک ’زیادہ بڑا نیا ریکارڈ‘ ثابت ہوا۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!