15 ماہ کے وزیر احمد کی گیند سے بھی بڑی ناک

تھر کا گلاب بھائی بچے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور


تھر کا رہائشی گلاب بھائی اپنے 15 ماں کے بچے کی ناک کے علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ 

پیپلز پارٹی کی سندھ سرکار باتیں تو بڑی بڑی کرتی ہیں لیکن اس کی ھقیقت کے لیے صرف تھر کی حالت زار دیکھنی ہی کافی ہے جہاں نا تو بنیادی صحت کی سہولیات ہیں اور نا ہی دیگر وسائل۔ دولت مند طبقہ تو اپنا علاج کراچی یا حیدر ۤباد جاکر کروالیتے ہیں لیکن غریبوں کے لیے تو دو وقت کی روٹی ملنا ہپی بڑی بات ہے ، ایسا ہی ایک شخص گلاب بھائی ہے جو کہ اپنے 15 ماہ کے بچے کی گیند جتنی بڑی ناک کے علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ 

تھر کے گاؤں کاپوسر کی مومل کے ہاں 15 ماہ پہلے وزیر احمد پیدا ہوا۔ اس کی زچگی تو نارمل تھی لیکن پیدائش کے وقت وزیر کی ناک چھوڑی سوجھی ہوئی تھی۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جاہی ہے  اور اب کی ناک کرکٹ کی گیند سے بھی بڑی ہوگئی ہے ۔ اتنی بڑی ناک ہونے کی وجہ سے وزیر کو کھانا کاھنے میں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ 

وزیر کے باپ گلاب بھائی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے بچے کو تھر کے ڈسٹرکٹ اسپتال مٹھی کے اکٹروں کو دکھایا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیر احمد کا آپریشن ہوگا اور اس کے لیے لاکھوں روپے درکار ہیں جو کہ اس کے پاس نہیں۔ گلاب بھائی کا کہنا ہے حکومت یا کوئی انسان دوست شخص اس کی مدد کرے تاکہ اس کا بچہ عام بچوں کی طرح زندگی گزار سکے۔ 

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!