پاکستان اور چین اب مل کر چاول بھی بنائیں گے

اچھی پیداوار سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا

چین اور بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سائنسدان اعلیٰ اقسام کے چاول پیدا کریں گے، دونوں  ممالک کے سائنسدان بزور تحقیق چاولوں  کے معیار کو بلند کریں گے۔
ان خیالات کااظہار اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان کے سابق سربراہ اور سابق وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن، آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوھدری، ہزارہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر فدا عباسی اور چھ رکنی چینی وفدکے سربراہ اور چینی تحقیقی ادارے چائنا نیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی این آرآر آئی) کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر چینگ شیہوا نے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ جامعہ کراچی میں  پیر کو منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ 
چینی وفد نے جو پروفیسر ڈاکٹر زوہانگ جیون، پروفیسر ڈاکٹر وجیانلی، پروفیسر ڈاکٹر وینگ کیجن، ڈاکٹر لو جو اور زیھانگ یوچاون پر مشتمل تھا بین الاقوامی مرکز کے دورے کے دوران ادارے میں  موجود تحقیقی سہولیات کا جائز لیا۔ ایک خصوصی اجلاس کے دوران پروفیسر عطا الرحمن، پروفیسر اقبال چوھدری، ڈاکٹر فدا عباسی اور پروفیسر ڈاکٹر چینگ شیہوا نے چاولوں  کی نئی اور اعلیٰ پیداوار کے لئے دونوں  ممالک کے درمیاں  مشترکہ تحقیقی کوشش کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ اقسام کے چاولوں  کی کثرتِ پیداوار سے دونوں  ممالک کی معیشت کو باہم فائدہ ہوگا، آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی میں  سائنو پاکستان ہائبرڈ رائس ریسرچ سینٹر کا قیام ان ہی تحقیقی مقاصد کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد اعلیٰ چاولوں  کی پیداوار کے لئے تحقیق کرنا اور اسکو فروغ دینا ہے، دونوں  ممالک میں  باہمی تحقیق و تفتیش کو بھی مذیدفروغ ملے گا، دونوں  ممالک کے ماہرین کو سائنسی، تربیتی اور تحقیقی مواقع فراہم ہوسکیں  گے۔ 

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!